• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبنائے ہرمز اور آبی گزرگاہوں کے معاہدے

ماہرین کا خیال ہے کہ اب ایران کی جنگ کا بہت حد تک انحصار آبنائے ہرمزکے کھلنے پر ہے۔گو کہ صدر ٹرمپ کسی حکمت عملی کے بغیر صرف اپنی طاقت کے بل بوتے پرہی اس جنگ میں کود پڑے تھے لیکن اگر وہ تاریخی طور پر آبی گزر گاہوں کو کھولنے کے نتیجے میں ہونے والی جنگوں کا مطالعہ کرتے جس میں گیلی پولی اورنہرسویزکی جنگیںشامل ہیں ،تو وہ ایک بہتر حکمت عملی کے ساتھ اس میدان میں اتر سکتے تھے۔1956ء میںجب مصر کے صدرجما ل عبدالناصر نے نہر سویز کو قومی تحویل میں لیا جو اس وقت تک برطانیہ کی ملکیت تھی ،تو چند ہی دنوں میں برطانیہ نے فرانس اور اسرائیل کے ساتھ ملکر نہ صرف مصر کے سو طیارے تباہ کر دیے بلکہ اسکی فضائیہ کو بھی مکمل طور پر مفلوج کر دیا۔ لیکن پھر جمال عبدالناصر نے چند پرانے مال بردار جہازوں کو پتھروں سے لاد کر نہر سویز کے جنوبی حصے میں ڈبودیا جس سے نہ صرف نہر سویز بند ہوئی بلکہ برطانیہ کو بھی آئی ایم ایف سے بیل آئوٹ لینا پڑا۔ماہرین اس ایرانی جنگ کو بھی نہر سویز کے پس منظر میں دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس جنگ کے آغاز کے کچھ دن بعد ہی ایران بھی مصر کی طرح بے بس نظر آرہا تھا لیکن پھر اس نے خلیج فارس میں امریکی تنصیبات اور مال بردار جہازوں کو نشانہ بنا کر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا۔اسی طرح 1915-16ء میں ونسٹن چرچل ،جو اس وقت ایڈمرلٹی کے سربراہ تھے، نے بحر اسودتک راستہ فراہم کرنے والی ایک تنگ آبنائے داردانیلز کھولنے کی کوشش کی جو اس وقت سلطنت عثمانیہ کے قبضے میں تھی۔

سلطنت عثمانیہ اس وقت جرمنی کے ساتھ جنگ میں شامل ہو چکی تھی ۔چرچل نے منصوبہ بنایا کہ اس آبنائے کو کھول کر روس کیلئے بحیرہ روم تک راستہ یقینی بنایا جائے تاکہ سلطنت عثمانیہ کو اس جنگ سے باہر کیا جا سکے۔ لیکن چرچل کی سوچ کے برعکس اتحادیوں کو اس جنگ میں خون ریز ناکامی ہوئی جس میں تقریبا 44000اتحادی فوجی اور کم از کم 86000عثمانی سپاہی مارے گئے اور چرچل کو بھی اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ مصطفی کمال جو بعد میں اتاترک بنے اور جدید ترکی کے بانی کہلائے ، انہوں نے انہی آبنائوں کا دفاع کر کے اپنی عالمی پہچان بنائی ۔ سلطنت عثمانیہ نے روس کیلئے بحیرہ روم تک اس واحد گرم پانی کے راستے کو بند کر دیا ، جس سے اناج اور فوجی برآمدات شدید طور پرمتاثر ہوئیں ۔ روس میں معاشی و عسکری بحران مزید گہرا ہوا جس نے1917ء میں بولشویک انقلاب کی راہ ہموار کی۔

اس لیے ماہرین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھولنے کی امریکی کوششیں آج بھی نہایت خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔اس سلسلے میں ٹرمپ کو1936ء کے منٹریو معاہدے سے سبق حاصل کرنا ہوگا ۔اس معاہدے پر بحیرہ اسودکی دس ریاستوں نے دستخط کیے اور یوں اس معاہدے نے امن کے زمانے میں تجارتی جہازوں کیلئے آزادانہ گزر گاہ برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ترکی کی ان گزر گاہوں پر خود مختاری بحال کر دی۔ جنگ کے وقت ترکی کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ جنگی جہازوں پر پابندی عائد کر سکتا ہے۔اسی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ترکی نے یوکرین جنگ کے آغاز میں روسی بحری بیڑے کی بحیرہ اسود تک رسائی محدود کی تھی۔یہ معاہدہ اصولوں پر مبنی ایک سمجھوتہ تھا جس میں تجارت کو بحال رکھنے اور آبی راستوں پر قابض ریاست کو سلامتی کی ضمانت دینا مقصود تھا۔آج امریکہ کو چاہیے کہ اس معاہدے کو سامنے رکھتے ہوئے آبنائے ہرمز کا معاہدہ کرے جس میں تجارتی جہازوں پر حملہ نہ کرنے ،آبی گزر گاہوں پر سرنگیں نہ بچھانے، بحری افواج کے درمیان تصادم سے بچنے اور جنگ کے دوران غیر خلیجی ممالک کے جنگی جہازوں پر پابندیوں کے اصول بھی واضح طور پر طے کیے جائیں۔

اس معاہدے کی ضمانت اقوام متحدہ فراہم کرے ،جس پر چین ، روس ، امریکہ ، ایران اور یورپین ممالک دستخط کریں۔اس معاہدے کو ایران اور خلیجی ریاستوں کی سلامتی سے بھی منسلک کرنا ہوگا تاکہ ایک پائیدار جنگ بندی اور امن کی راہ ہموار ہو سکے۔تاریخ گواہ ہے کہ ایسی گزر گاہیں صرف طاقت سے نہیں بلکہ ان اصولوں اور سمجھوتوں سے چلتی ہیں جو جنگ ، سفارت کاری اور طاقت کے توازن سے جنم لیتی ہیں۔اس لیے ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ آبنائے ہرمز کوہر سویزاورگیلی پولی بننے سے بچائے، ورنہ اس جنگ کے نتیجے میں ٹرمپ بھی چرچل کی طرح اپنے عہدے سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

اس جنگ کا نتیجہ کچھ بھی نکلے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اپنی قیادت کے بکھرنے کے باوجود ایران نے جس طرح ڈی سینٹرلائزڈ ڈیلیوری سسٹم کے تحت مرکزی کنٹرول سے منسلک ہوئے بغیر اس جنگ کو جس حکمت عملی سے لڑا، وہ حکمت عملی اورفوجی نظام دنیا میں اور کہیں دیکھنے کو نہیں ملتا اور اسی وجہ سے اس نظام کو مستقبل کی جنگوں میںایک سبق کے طورپڑھایا جاتا رہے گا۔ایران نے 2003کی عراقی جنگ اور ویتنام کی جنگ سے اسباق حاصل کرتے ہوئے امریکہ سے کھلی جنگ سے اجتناب کیا۔ ہوچی من نے بھی اسی حکمت عملی کے تحت وسیع ، خفیہ اور گھنے جنگلات میں چھپے ہوئے راستوں ،سڑکوں اور آبی گزر گاہوں کے ذریعے اپنے فوجیوں ، اسلحے اور رسد کو جنوبی ویتنام ، لائوس اور کموڈیا تک پہنچایا اور یہ راستہ امریکہ کے خلاف ویتنام کی 1975کی فتح میں ہوچی من ٹریل کے نام سے نہایت اہم اور فیصلہ کن ثابت ہوا۔ایران نے بھی اپنے جغرافیائی ساخت کو سامنے رکھتے ہوئے اسی نوعیت کی حکمت عملی اختیار کی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایران نے ایک متحدہ قوم بن کر لمبی مدت تک اسرائیل اور امریکہ کے خلاف مزاحمت کی تو یہ مزاحمت نہ صرف فلسطین کی آزادی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی بلکہ وینزویلا ، کیوبا اور لاطینی امریکہ کے ممالک کو بھی تحریک دے گی کہ وہ بھی اپنی علاقائی حکمت عملیوں کیساتھ امریکی تسلط کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوجائیں ۔تاریخ کے اس نازک موڑ پر جبکہ دنیا ایک ملٹی پولر ورلڈ میں تقسیم ہو سکتی ہے ، برکس کے ممالک پر بھی ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی ایک متفقہ کرنسی کو اپنا کر امریکی پیٹرو ڈالراور ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کے بل بوتے پر چلنے والی امریکی خارجہ پالیسی پر کاری ضرب لگائیں۔

تازہ ترین