اچانک یہ کایا کیسے پلٹ گئی؟ کل تک تو ہم مکمل طور پر مقروض ہوتے تھے۔ سنانے والے سناتے تھے کہ ہمارے ہاں نوزائیدہ مقروض پیدا ہوتے تھے۔ ان کا بال بال مقروض ہوتا تھا۔ پیدا ہونے کے بعد نوزائیدہ اپنی مرضی سے کروٹ بدل نہیں سکتے تھے۔ وہ اپنی مرضی سے سانس تک لے نہیں سکتے تھے سانس لینے کے لئے نوزائیدہ کو آئی ایم ایف سے مودبانہ اجازت لینی پڑتی تھی۔ ہم کیا کھائیں، کیا پئیں، اس کی بھی ہمیں آئی ایم ایف سے تحریری اجازت لینی پڑتی تھی۔ کھڑکی سے باہر دیکھنے کے لئے بھی ہمیں آئی ایم ایف سے پیشگی اجازت لینی پڑتی تھی۔ دوست احباب ہم سے منہ موڑ نے لگے تھے۔
دنیا میں کوئی ایک ملک نہیں بچا تھا جس سے ہم نے قرض نہ لیا ہو۔ سنانے والے سناتے ہیں کہ دوست احباب ممالک کے فرمانروا ہمارے حاکموں سے چھپتے پھرتے تھے۔ دوست ممالک جانتے تھے کہ جب بھی ہمارے حکمراں ان سے ملنے جائیں گے، ان سے آخر کار پندرہ بیس ٹریلین ڈالر، پاؤنڈ اور یورو لیکر جائیں گے۔
سنانے والے سناتے ہیں کہ ہمارے نامور حاکموں کو کئی مرتبہ عجیب و غریب حالات سے دوچار ہونا پڑتا تھا۔ آخر کار ہمارے نامور حاکموں نے انوکھے حالات کا حل نکال لیا۔ ہمارے حاکم جب بھی اپنے دوست احباب حاکموں سے ملنے ان کے ملک جاتے تھے ان کو بتایا جاتا تھا کہ دوست احباب ممالک کے حکمراں غسل خانے میں ہیں اور لمبے عرصے تک ایسے حالات کا ہمارے حاکموں نے سامنا کیا۔ اس کے بعد جب بھی وہ ایسے ممالک تشریف لے جاتے اپنے ساتھ دوست احباب ممالک کےحاکموں اور فرمانروائوں کے لئے اپنے دیسی دواخانوں سے قبض کشا ادویات کے کھوکھے بھروا کر لے جاتے۔ واپس آتے ہوئے اپنے ملک کے لئے دس بیس ٹریلین ڈالرز، پاؤنڈ اور یورو کی امدادیں اور قرض لے آتے۔
یہ سب سنی سنائی باتیں ہیں۔ میں کبھی بھی سنی سنائی باتوں پر اعتبار نہیں کرتا۔ حالانکہ پیدا ہونے کے فوراً بعد سنی سنائی باتوں پر اعتبار کرنا ہماری گٹھی میں بٹھایا گیاہے۔ آپ بھی سنی سنائی باتوں پر اعتبار کرنا چھوڑدیں ۔ کیا پتہ سنی سنائی باتیں دشمنوں نے ہمارے صاف ستھرے حکمرانوں کو بدنام کرنے کے لئے پھیلادی ہوں۔ مت بھولیے کہ آپ آرٹیفیشل انٹلیجنس کے دور کے باسی ہیں آپ کے گزر جانے کی خبریں آپ کے اپنے دستخط اور تیجے کے بوفے ڈنر کی دعوت کے ساتھ سوشل میڈیا پر آجاتی ہیں۔ اس لئے سنی سنائی باتوں پر اپنی جان مت جلایا کریں۔ ایک کان سے سنی سنائی بات سنیں اور دوسرے کان سے نکال دیں۔ دور تک بات پھیلانے اور پہنچانے کے لئے سب سے عمدہ، کام کا، اور تیربہدف طریقہ سنی سنائی باتوں پر اعتبار کروانے میں ہے۔
بات چل نکلی تھی گزرے ہوئے کل کی اور آج کیا کل تک تو ہمارے حالات دگرگوں تھے۔ پھر کیا ہوا کہ ہمارے ملک کا نام دنیا بھر کے ممالک پر چھایا ہواہے ؟ کیوں دنیا بھر میں ہمارا ذکرِ خیر ہو رہاہے ؟ کچھ نامور لوگ اور کچھ بدنام لوگ اپنے ملک یا علاقے میں احترام و عزت یا ڈر کے مارے Don ڈان کہلوانے میں آتے ہیں۔ دنیا بھر کے چھوٹے بڑے ممالک کے لئے امریکہ کے صدر ٹرمپ ڈان سمجھے اور مانے جاتے ہیں۔ وہ جب چاہیں چھوٹے سے چھوٹے ملک پر ایٹمی ہتھیاروں سے یلغار کرسکتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے ممالک جن کے پاس تیل کے علاوہ کچھ نہیں ہے،ا ن ممالک میں امریکہ نے اپنے فوجی اڈے کھول رکھے ہیں اب سوال گونج اٹھاہے کہ امریکہ نے چھوٹے چھوٹے عربی بولنے والے مسلم ممالک میں کس کی حفاظت کرنے کے لئے فوجی اڈے کھول رکھے ہیں؟ تقریباً تمام تیل پیدا کرنے والے چھوٹے چھوٹے ممالک میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ ان اڈوں کے پاس جدید ایٹمی ہتھیار ہیں۔ امریکی جنگی جہاز ہیں۔ ٹرمپ اگر چاہیں تو اچھی خاصی تعداد میں بری فوج کو کسی ملک پر حملہ کرنے کے لئے بھیج سکتے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیاں صرف دھمکیوں تک محدود نہیں۔ اچانک ایران پر حملہ کرنے کے بعد ٹرمپ نے ارادہ ظاہر کیا ہے کہ وہ ایران کو تہس نہس کرنےکے لئے اپنی پیادہ فوج ایران بھیج سکتے ہیں۔ امریکی پیادی یعنی بری فوج امریکا سے نہیں آئے گی۔ ٹرمپ عربی بولنے والے مسلم ممالک میں موجود اپنے فوجی دستوں کو ایران پر حملہ کرنےکے لئے بھیج سکتے ہیں ایسے میں سوالوں کی گونج تو ہرحال میں سنائی دے گی۔ ٹرمپ کیا چاہتے ہیں؟ کیا وہ اسلامی تاریخ کے المناک ابواب کو دوبارہ موجودہ دور میں لے آناچاہتے ہیں؟ ان المناک ابواب میں مسلم ممالک نے ایک دوسرے کو بڑی بے دردی سے نابود کرنے کے لئے کوئی کسراٹھا نہیں رکھی تھی؟ سنانے والے سناتے ہیں کہ آپس کی خونخوار جنگوں میں جس قدر مسلمان مارے گئے تھے، صلیبی جنگوں میں اتنی بڑی تعداد میں مسلمان کبھی نہیں مارے گئے تھے۔
ٹرمپ اگر مسلمان ممالک کو آپس میں لڑوانے کا ارادہ نہیں رکھتے ، تو پھر کیا وہ تیسری عالمی جنگ کا سہرا اپنے سر باندھنا چاہتے ہیں؟ کیا ٹرمپ روس اور چین کے متحدہ محاذ کے خلاف تیسری عالمی جنگ کرنےکا ارادہ رکھتے ہیں؟ آخر کار ایٹمی ہتھیاروں کو آزما کر دیکھنا بھی تو ضروری ہے۔
مگر ٹرمپ نے یہ کیا کردیا ہے۔ ؟ ایران سے جاری امریکہ کی جنگ روکنے اور خطے میں امن وامان لے آنے کے لئے تمام تر ذمہ داری پاکستان پر تھونپ دی ہے۔
اب ایک سوال کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ یہ ذمہ داری امریکہ نے روس کے کندھوں پر کیوں نہیں ڈالی؟ چین کو یہ ذمہ داری کیوں نہیں سونپی گئی؟ برطانیہ فرانس، بلجیم کو جنگ روکنے کے لئے کیوں نہیں کہا گیا؟ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔