ایک وقت تھا کہ ہمارے ہاں چوّنیاں اور اٹّھنیاں بھی چلتی تھیں لیکن ایک پیسہ بھی ہوتا تھا، ایک روپے میں سو پیسے آتے تھے، پچیس پیسوں کی ایک چونی اور پچاس پیسوں کی ایک اٹھنی ہوتی تھی ۔ آپ یقین کریں ، ان چونیوں اور اٹھنیوں سے بھی آپ کچھ نہ کچھ خرید سکتے تھے۔ میں جس دور کی بات کر رہا ہوں اُس دور میں اگر ہاتھ سے کوئی سکہ گر جاتا اور لڑھکتا لڑھکتا کسی نالی کا رخ کرتا تو بچہ لوگ آستین چڑھا کر نالی میں ہاتھ ڈال دیتے تھے۔ اب بچوں کی بجائے ” بڑے لوگ" پیسے کے لیے گندی نالی میں ہاتھ ڈالتے ہیں۔ اُن دنوں تو بارات میں چھوٹے پیسے بھی لٹائے جاتے تھے اور انھیں لوٹنے کے لیے سینکڑوں ننھے منے لٹیرے جمع ہو جاتے تھے۔ دھات کا بنا ہوا یہ سکہ کبھی کبھار کسی باراتی کو کانا بھی کر دیتا تھا کیونکہ پیسے لٹانے والا ان پیسوں کا "چھٹا "پوری قوت سے باراتیوں کو مارتا تھا۔ اس پیسے نے آج بھی زندگی کے مختلف شعبوں کے افراد کو ” کانا“ کیا ہوا ہے۔ آج کل پیسے کا سکہ پانچ پیسے کا سکہ، دس پیسے کا سکہ اور اسی طرح چونیوں اور اٹھنیوں کا وجود نا پید ہو چکا ہے۔ بلکہ اب تو پانچ روپے ( یعنی اکٹھے پانچ سو پیسے کا سکہ بھی اس درجہ بے وقعتی کا شکار ہے کہ یار لوگ اسے کار کے ایش ٹرے میں ڈال دیتے ہیں اور کوئی فقیر ہاتھ پھیلائے تو ایش ٹرے میں سے یہ بے وقعت سکہ نکال کر اس کی ہتھیلی پر رکھ دیتے ہیں لیکن آگے سے وہ فقیر اس پر جگتیں کرنے لگتا ہے۔ چنانچہ اب صورت حال یہ ہے کہ کوئی چیز بیچتے یا خریدتے وقت دکاندار اور گاہک دونوں اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ درمیان میں ایک روپے یا پانچ روپے کا سکہ نہ آنے پائے۔ لیکن جن کے پاس نہ نہ کرتے ہوئے بھی یہ سکے جمع ہو جائیں تو وہ پریشان رہتے ہیں کہ ان کا کیا کیا جائے ۔ اگر دس بارہ ہوں تو بندہ کسی نہ کسی طور یہ چلا دیتا ہے لیکن وہاں بھی یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ "باؤجی داتا درباروں آئے او" اور اگر یہ سکے صرف ایک دو ہوں تو ان کے ہاتھ سے گرنے کی تمنا کی جاتی ہے اور یہ بھی کہ کاش یہ لڑھکتے لڑھکتے کسی نالی میں گر جائیں۔ اب نالی میں دو چار روپوں کے لیے ہاتھ کون ڈالتا ہے؟اور یہ جو ہمیں چاروں طرف بے وقعت سے چہرے نظر آتے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ، گھروں، فیکٹریوں اور ورکشاپوں اور دکانوں میں اپنے ننھے منے ہاتھوں سے کام کرنے والے معصوم بچے، ایم اے، ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں جیب میں ڈالے غریب اور بے نوا خاندانوں کے بے روز گار نوجوان ، ہسپتالوں کے جنرل وارڈوں میں پڑے ہوئے ڈاکٹر کی توجہ سے محروم نادار مریض، عدالتوں کے دھکے کھانے والے بے گناہ اور بے سہارا لوگ، جہیز کے انتظار میں بیٹھی جو ان بہنیں اور بیٹیاں یہ سب وہی سکے ہیں جنھیں کوئی قبول کرنے کو تیار نہیں۔
ان کے دکھوں کے مداوا کے لیے ہم نے زبان، نسل اور فرقوں کی بنیاد پر جماعتیں بنائی ہوئی ہیں جو ان کے دکھوں کا علاج سائنسی طریقے سے کرتی ہیں، یعنی ان کو یہ بتایا جاتا ہے کہ تم غربت و افلاس اور ظلم و استحصال کی بات کرتے ہو جبکہ تمہارا ایمان خطرے میں ہے، تمہاری حفاظت خطرے میں ہے، تمہاری نسل اور تمہاری زبان خطرے میں ہے۔ چنانچہ یہ بے وقعت سکے اپنے ایمان، اپنی نسل، اپنی زبان اور اپنی ثقافت کے لیے تلواریں سونت کر ایک دوسرے کے مد مقابل آجاتے ہیں اور یوں مزید بے وقعت ہونے لگتے ہیں جبکہ انھیں استعمال کرنے والے پہلے سے کہیں زیادہ طاقت ور اور معتبر لگنے لگتے ہیں۔یہ بے وقعت سکے انتخابات میں سیاست دانوں کے بہت کام آتے ہیں بلکہ ان دنوں یہ بے وقعت نہیں رہتے ۔ چنانچہ جس سیاست دان کی جیب میں یہ "ریز گاری "ہے، چوم چاٹ کر قبول کی جاتی ہے اور ریز گاری یہ سمجھتی ہے کہ یہ حاکم اب ان کی عزت بحال کرے گا لیکن حاکم بننے کے بعد اسے اپنے بینک بیلنس کی عزت بحال کرنے کی فکر پڑ جاتی ہے جو الیکشن کے اخراجات کی وجہ سے کچھ کم ہو گیا تھا۔ چنانچہ وہ جتنا عرصہ اقتدار میں رہتا ہے،اپنے ملکی اور غیر ملکی اکاؤنٹ کا پیٹ بھرنے میں لگا رہتا ہے۔ اس کے بعد اسی ریز گاری کی وقعت اپنے سکے والے مقام پر آجاتی ہے۔ اور اب تو صورت حال یہ ہے کہ ان چھوٹے موٹے سکوں کی قدر و قیمت دن بدن کم سے کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ان کی ناقدری دیکھ کر مجھ ایسوں کا دل روتا ہے جن کی ساری عمر چونیوں اٹھنیوں کی معیت میں بسر ہوئی ہے اور اس کے بعد کی عمر بھی انھی کے ساتھ بسر ہوتی ہے۔
سو مجھ سے ان کی یہ بے وقعتی دیکھی نہیں جاتی۔ خدا کے لیے اپنے ٹکسال میں کوئی ایسا نظام ڈھالیں جس کی ریز گاری اتنی بے وقعت نہ ہو کہ لوگ اس کے ہاتھ سے گرنے کی تمنا کرنے لگیں۔