پولیس ایک ایسا ادارہ ہے کہ جس سے عوام عموماً شاکی ہی رہتے ہیں لیکن اس ادارے میں اچھے اور باصلاحیت افراد اور آفیسرز کی کمی نہیں ہے ۔ چند روز قبل میری لاہور میں پنجاب پولیس کے سابق ڈی پی او اور ایس ایس پی ریٹائرڈ راجہ محمد فاروق ساجد سے قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے چیئرمین علامہ عبد الستار عاصم کے ہمراہ تفصیلی ملاقات ہوئی۔ راجہ فاروق ساجد پاکستان کے وہ عظیم سپوت ہیں جنھوں نے پولیس جیسے شعبے میں نیک نامی اور اچھی شہرت کے ساتھ اپنا سفر مکمل کیا ۔ وہ بڑی مرنجاں مرنج ، وضع دار اورعلمی شخصیت کے مالک ہیں ۔ انکا ایک حوالہ یہ بھی ہے کہ وہ معروف اینکر پرسن منیب فاروق کے والد ہیں ۔ حال ہی پولیس کے ادارے میں ان کے واقعات اور مشاہدات پر مشتمل انکی خودنوشت پولیس نامہ ( اول ، دوم )شائع ہوئی ہے ۔ اس کتاب میں پولیس کی فلاحی خدمات ، انکے دور کے واقعات ، تجربات اور مشاہدات ہیں ۔ انھوں نے پولیس کے محکمے میں اپنی خدمات کے دوران چھوٹے شہروں سے لیکر اسلام آباد میں ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس تک میں ڈیوٹی کی لیکن ہر جگہ فرض شناسی کی اعلیٰ مثال قائم کی ۔ پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان سے لیکر سانحہ بہاولپور میں جنرل ضیاء اور ان کے رفقاء کی شہادت تک اور چوہدری محمد اشرف مارتھ سے لے کر ملک محمد اشرف کے بہیمانہ قتل تک کے واقعات کوانھوں نے اپنی تاریخی کتاب پولیس نامہ میںمعنی خیز معلومات اور تاثرات کیساتھ عیاں کر دیا ہے ۔پولیس نامہ اب تاریخی دستاویز بن چکی ہے اور اسے پاکستان کی تمام لائبریریوں پولیس ٹرنینگ سنٹرز میں موجود ہونا چاہیے ۔ جناب راجہ محمد فاروق ساجد نے ملاقات میں بتایا کہ 40سالہ طویل ملازمت کے سفر میں انھیں ایسے بے مثل کردار کی شاندار شخصیات سے واسطہ پڑا کہ وہ اب تک بھلائے بھولتے نہیں ہیں! قطع نظر اس حقیقت کے اُن کا عہدہ کیا تھا۔ ان لوگوں کے اخلاص اور شفقت کا پرتو اتنا گہرا تھا کہ قلب پر نقش ہوگیا ۔ تربیت کے دوران شکیل علوی صاحب جو بھرپور علمی اور ادبی شخصیت تھے ۔ وہ ان دنوں پولیس ٹریننگ کالج سہالہ میں چیف لا انسٹرکٹر تھے۔ ہمیں بے چینی سے اُن کے پیریڈ کا انتظار رہتا تھا وہ ہمیں تعزیرات پاکستان (Pakistan Penal Code) پڑھاتے تھے۔ فن گفتگو کے ماہر اور انسانوں کے نبض شناس تھے۔ ہم زیر تربیت افسروں کے چہروں کو دیکھ کر فوری جائزہ لے لیتے تھے کون ذہنی اعتبار سے کس عالم میں ہے اور چونکا دینے والا فی البدیہہ سوال پوچھ لیتے اور جواب دینے والا جھینپ کر اِدھر اُدھر کی ٹامک ٹوئیاں مارتا تو وہ کہتے ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں ۔ اسلئے بھئی واپس آجائو اگر زیادہ سستی ہے تو تین منٹ آپ کو بریک دی جاتی ہے۔
پولیس دور کے واقعات کے متعلق انہوں نے بتایا کہ محکمہ پولیس پڑھے لکھے لوگوں کیلئے قائم نہیں کیا گیا یہاں تو میاں بیوی ملا کر آٹھ جماعت پاس ہو تو کام چل جاتا ہے۔ خود ہم نے دیکھا کہ چوہدری امیر خان مُنشی تھانہ گوجر خان، خود اُن کے بقول پانچویں جماعت فیل تھے لیکن سرٹیفکیٹ پاس کا مل گیا نتیجتاً وہ 1950ء میں پولیس میں بھرتی ہوگئے۔ اب وہ مستقل ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر درجہ بدرجہ ترقی کرکے براجمان تھے۔ دفتر میں مستقل اُن کے کان کے اوپر سگریٹ یا پنسل اُڑسی ہوتی تھی اور دھکا لگا کر چکوال دھنی کے لہجہ میں اردو بولنے کی ناکام کوشش کرتے تھے۔ نصر بیدار شاہ ہماری پلاٹون کے سر خیل تھے۔ ہر خوش خبری اوربد خبری کا منبع وہ تھے۔ واقفانِ حال کہتے تھے کہ پولیس کالج انتظامیہ کو آفیسرز کی حرکات و سکنات سے باخبر رکھتے تھے اس لیے سب انہیں مشکوک نظروں سے دیکھتے تھے۔ چونکہ اُن کا تعلق چکوال سے تھا اس لیے بجا طور پر ہم پر دعویٰ رکھتے تھے۔ کوریڈور میں گزرتے وقت آ دھمکتے اور الماری کی تلاشی شروع کر دیتے۔ کھانے والی کوئی چیز نہ پا کر موقع کی مناسبت سے کینٹین پر ملاقات کا وقت طے کر لیتے اور پھر اللہ دے اور بند ہ لے کے مصداق مٹھائیوں، سموسوں، بن مکھن وغیرہ کھانے کیلئے ٹوٹ پڑتے۔ ملک حبیب خان کہتے او شاہ جی کبھی اپنے پلے سے بھی کھا لیا کرو اور وہ جواباً قہقہہ لگا کر بات گول کر جاتے ۔ بعد از ٹریننگ ہم دوسرے افسران کیساتھ راولپنڈی پولیس لائن ریسٹ ہائوس میں رہے۔ شاہ جی برادرم ایک مہربانی کرتے کہ ہمیں صبح سردیوں میں دودھ پتی کا مگا تھما دیتے چونکہ پھر انہیں ناشتہ کینٹین میں جا کر ہمارے ساتھ کرنا پڑتا تھا ۔ وہ خوش خوراک تھے ہر چیز ڈبل منگواتے یعنی دو بن مکھن ، دو یا کم از کم چار سلائس ، چار انڈوں کا پنیر کا آملیٹ۔ یہ ان کا مختصر ناشتہ تھا۔ 1965 ء کی جنگ کے دوران اُن کی اسکورٹ ڈیوٹی مسٹر زیڈ اے بھٹو وزیر خارجہ کے ہمراہ تھی۔ اُنہیں ایئرپورٹ چھوڑ کر واپس آرہے تھے کہ جھنڈ ا چیچی کے قریب اُنکی پک اپ کا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ اُنہیں کافی چوٹیں آئیں۔ اُنہیں ہسپتال پہنچا دیا گیا تو وہ راستہ بھر اور ہسپتال میں سب سے کہتے رہے کہ ’’راجا ‘‘ کو بلاؤ۔ پولیس لائن میں خبر پہنچی توریزرو انسپکٹر نے سرکاری گاڑی پر ہمیں سید بیدار شاہ کی تیمارداری کیلئے بھجوایا۔ وارڈ میں پہنچےتو وہ پٹیوں میں لپٹے ہوئے تھے۔ ہمیں دیکھتے ہی بے اختیار اُن کے آنسو نکل آئے۔ اُنہیں دلاسا دیا اور پھل وغیرہ منگوا کرسرہانے رکھے۔ ڈاکٹرز نے بتایا کہ خیر گزری ہے۔ چند دنوں میں ٹھیک ہوجائیں گے۔ہمیں وہ حقیقی چھوٹا بھائی سمجھتے تھے۔ عمر میں بڑے بھی تھے۔ اُنکی زندگی نے وفا نہ کی اور سروس کے پانچویں سال ایکسیڈنٹ میں راہی ملک عدم ہوئے۔ قصہ مختصر، راجہ صاحب نے پنجاب پولیس میں گزرے واقعات، تجربات اور مشاہدات کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے یہ تاریخ کے اہم واقعات اور حقائق ہیں جنھیں موجودہ پولیس کے جوانوں اور آفیسرز کو جاننا از حد ضروری ہے ۔ ہماری نئی نسل کو بھی اس تاریخی دستاویز کو ضرور پڑھنا چاہئے ۔