• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم اس امید کے ساتھ آغاز کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں جاری تباہی اور افراتفری کا یہ سلسلہ رُک سکے اور حالیہ عارضی جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہو جائے۔ کیونکہ اس تنازع میں اگر کوئی جیت بھی جائے تو درحقیقت شکست پوری انسانیت کی ہوتی ہے۔ مستقل امن کی صورت میں نہ کوئی فاتح ہوگا نہ مفتوح، بلکہ پوری دنیا مزید تباہی، بھوک اور افلاس سے محفوظ رہ سکے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے تنازعات نہ صرف ممالک کو تباہ کرتے ہیں بلکہ انکے اثرات کئی نسلوں تک منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ایک ماہ سے زائد جاری رہنے والی شدید جنگ اگرچہ وقتی طور پر تھم گئی ہے، مگر اس کے معاشی اثرات ابھی تک پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

یہ تنازع محض ایک خطے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے عالمی معیشت کی بنیادوں کوبھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سپلائی چینز، انرجی مارکیٹس اور زرعی نظام بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔تیل اور گیس کی سپلائی میں خلل نے دنیا کو ایک بڑے لاجسٹک اور ٹرانسپورٹ بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ فیول کی کمی نے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بھی شدید متاثر کیا، جسکے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ اس کا براہ راست اثر مہنگائی، صنعتی بندش، بجلی کی قلت اور مجموعی معاشی سست روی کی صورت میں سامنے آیا۔ خاص طور پر غریب ممالک میں ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کے روزگار خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ تیل، گیس، کھاد، دواسازی، پیٹروکیمیکلز جیسی بنیادی اشیاء کی قلت نے عالمی منڈیوں میں بے یقینی کو بڑھا دیا ہے۔

ایشیائی ممالک اس بحران سے زیادہ متاثر ہیں جبکہ دنیا بھر کی معیشتیں بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں ۔ جنگ کی وجہ سے ہونیوالی مہنگائی ، جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافے ، سیکورٹی خدشات اور مغرب کو مشرق سے ملانے والے فضائی رابطے عارضی طور پر بند ہونے سے عالمی سیاحت کو بہت نقصان پہنچا ہے ۔یونان ، سائپرس سے لیکر مالدیپ ، تھائی لینڈ، بالی انڈونیشیا تک سیاحتی مراکز ، ہوٹل اور ساحل سمندر ویران ہو چکے ہیں، سیاحوں کی تعداد میں کمی سے اس انڈسٹری سے وابستہ لاکھوں لوگوں کا روزگار خطرے میں پڑ گیا ہے۔ ایشیائی ممالک اس جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ ان کی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے راستے آتا ہے۔

پاکستان اور بھارت جیسے ممالک، جو اپنی ضروریات کا ایک بڑا حصہ تیل و گیس آبنائے ہرمُز کے راستے سے درآمد کرتے ہیں، شدید دباؤ میں آ گئے ہیں۔ بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ، صنعتی سست روی اور ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافہ معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ کھاد کی قلت نے زرعی شعبے کو بھی بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر حالات میں بہتری نہ آئی ، کھاد کے اجزا کی امپورٹ میں رکاوٹ ہوئی اور ایل این جی گیس کی کمی سے کھاد فیکٹریوں کی پیداوار کم ہوئی تو یوریا، ڈی اے پی اور پوٹاش کی قیمتوں میں اضافہ کسانوں کیلئےبڑا چیلنج بن جائیگا۔ ڈیزل کی قلت اور قیمت میں بے تحاشا اضافے نے آبپاشی اور زرعی مشینری کو متاثر کیا ہے جسکے نتیجے میں پیداوار میں کمی اور غذائی عدم تحفظ کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ پیٹروکیمیکلز اور ایلومینیم کی کمی نے صنعتی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔ خام مال کی عدم دستیابی سے فارماسیوٹیکلز، آٹوموبائل ، ہائی ٹیک چپ سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس کی صنعتوں میں رکاوٹیں بڑھ رہی ہیں، آنیوالے دنوں میں ادویات کی قلت بھی ایک سنگین بحران کا سبب بن سکتی ہے۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ اگرچہ جنگ بندی ہو چکی ہے، مگر آئل اور گیس کے انفراسٹرکچر، اسٹوریج اور سپلائی چین کو پہنچنے والے نقصانات کی بحالی میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ معاشی دباؤ فوری طور پر ختم نہیں ہوگا بلکہ طویل عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔ ایسے نازک حالات میں پاکستان نے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے سفارتی سطح پر اس کشیدہ صورتحال میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ مستقبل قریب میں بھی پاکستان خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر پائیدار امن کے قیام، علاقائی سیکیورٹی کے فروغ اور تعمیر و ترقی کے عمل میں فعال کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہوگا۔ موجودہ غیر یقینی صورتحال میں آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کی حفاظت کیلئے پاکستان سمیت ملٹی نیشنل بحری ٹاسک فورس کا قیام ناگزیرہے تاکہ تیل بردار جہازوں اور تجارتی بحری نقل و حرکت کو محفوظ بنایا جا سکے۔ فاصلے سمٹنے سے کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والا بحران پوری دنیا کو متاثر کر سکتا ہے جیسا کہ چھ برس قبل کووڈ وائرس پھیلنے سے ہوا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ کمزور ممالک یوکرین جنگ اور موجودہ بحران سے سیکھیں اپنی معیشتوں کو زیادہ مستحکم بنانے کیلئے عملی اقدامات کریں، اندرونی و بیرونی خلفشار اور سرحدی تنازعات کو افہام و تفہیم سے ختم کریں ۔

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ بظاہر رک گئی ہے، مگر اسکے اثرات ابھی باقی ہیں اور آنیوالے وقت میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔ یہ محض ایک عارضی سکون ہے، جس کے نیچے بے یقینی، عدم تحفظ، معاشی دباؤ اور جغرافیائی کشیدگی کی لہریں بدستور موجود ہیں۔ اگر عالمی برادری نے سنجیدگی، بصیرت اور مستقل مزاجی کے ساتھ سفارتی کوششیں نہ کیں تو یہ وقفہ کسی بڑے اور زیادہ تباہ کن بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام طاقتور ملک اپنے مفادات کیساتھ دوسروں کو بھی جینے کا حق دیں ۔ موجودہ فرسودہ اور کمزور سسٹم کےبجائے ایک ایسا مضبوط عالمی نظام تشکیل دیں جو امن، استحکام اور معاشی توازن کو یقینی بنا سکے۔ کیونکہ اگر دنیا نے آج امن کا راستہ اختیار نہ کیا تو کل کی جنگیں نہ صرف زیادہ شدید ہوں گی بلکہ انکے اثرات انسانی بقا تک کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ اب فیصلہ دنیا کے رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ تاریخ سے سبق سیکھتے ہیں یا مزید سانحات کو جنم دینے کے منتظر رہتے ہیں۔

(صاحبِ مضمون سابق وزیر اطلاعات پنجاب ہیں)

تازہ ترین