مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ میں ایک ایسا پہلو بھی سامنے آیا، جس کا تعلق عرب ممالک میں غیر مُلکی آبادی اور وہاں پیدا ہونے والے نئے مواقع سے ہے۔ اِس پہلو پر بہت کم بات ہوئی، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عرب ممالک میں یورپی، افریقی اور امریکی آبادی کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ اِتنی کم تعداد میں ہیں کہ کسی بھی بحرانی صُورت میں اپنے مُلک واپس چلے جاتے ہیں۔ البتہ تشویش اور آزمائش پاکستان جیسے ممالک سے تعلق رکھنے والے اُن تارکینِ وطن کے لیے ہے، جو وہاں ملازمت کرتے ہیں۔
یہ پریشانی اُن سے وابستہ خاندانوں اور ممالک کو بھی متاثر کرتی ہے۔ پاکستان کے چالیس ارب ڈالر سالانہ زرِمبادلہ کا80فی صد عرب ممالک ہی سے آتا ہے۔ گویا، ہمارے لیے یہ آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے بھی زیادہ خطرناک صُورتِ حال ہے۔ شاید ہمیں اس کا ادراک ہی نہیں، کیوں کہ گزشتہ دو ماہ میں اِن تارکینِ وطن کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہوا ہے۔ ہمیں بس ایران، یورپ، امریکا، جاپان اور چین وغیرہ ہی کا غم ہے۔ آگے چل کر اِس پر بات کریں گے کہ ایسا کیوں ہے۔
دنیا پر بہت جلد واضح ہوجائے گا کہ جنگ کا انجام کیا ہوا۔ حملہ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر کیا، لیکن اِس کی قیمت بہت سے شعبوں میں دنیا کے مختلف ممالک کے عوام کو ادا کرنی پڑی۔ شاید اُنہیں دِلاسے کے لیے ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ’’آبنائے ہرمز سب کے لیے کُھلی ہے، سوائے ایران کے دشمنوں کے۔‘‘ اِس کا مطلب بظاہر تو امریکا اور اسرائیل ہیں، لیکن تیل کی سپلائی تو خلیجی ممالک کی بند ہوئی اور اثرات پاکستان جیسے ممالک پر مرتّب ہوئے۔
امریکی تو مزے کر رہے ہیں اور ہم تارکینِ وطن کے لیے پریشان ہیں۔ توانائی کی قیمتوں پر اثر پڑا اور دنیا کو بہت سے سخت اقدامات کرنے پڑے تاکہ کسی تعطّل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جنگ تو بہرحال ختم ہو ہی جائے گی، لیکن کیا یہ عمل غور و فکر کی دعوت نہیں دے گا کہ جغرافیائی بنیادوں پر دنیا کو اپنی مرضی سے چلانا کہاں تک قابلِ قبول ہوگا۔ جنگ کے بعد سمندری حدود کے قوانین ضرور زیرِ بحث آئیں گے۔
اگر دیکھا جائے، تو اس جنگ کا شور جنوبی اور پھر مشرقی ایشیائی ممالک میں زیادہ ہوا کہ دو ماہ سے ہم جنگ کے علاوہ کوئی دوسری بات ہی نہیں کرتے۔ شاید یہ صُورتِ حال حُکم رانوں کے لیے اِس لحاظ سے بہتر ہے کہ فی الحال اُن سے کوئی نہیں پوچھ رہا کہ سڑکیں کیوں ٹوٹی ہوئی ہیں، پانی کیوں نہیں ملتا، بجلی کی قیمتیں کہاں سے کہاں کیوں پہنچ گئیں؟
اِس امر میں دو رائے نہیں کہ پاکستان نے جنگ کے دوران اچھی سفارت کاری کی اور اس مشکل مرحلے میں ایران اور عربوں کے درمیان تنی رسّی پر چلتے ہوئے توازن برقرار رکھا، جب کہ پاکستان پہلے دن سے جنگ رکوانے کے لیے سرگرم ہوگیا تھا، جس پر ہر طرف سے اُس کی تحسین بھی کی گئی۔ ہم مشرقِ وسطیٰ میں مقیم تارکینِ وطن کے زرِ مبادلہ کی اہمیت کی باتیں بہت کرتے ہیں، لیکن یہ کبھی نہیں سوچتے کہ یہ لوگ اپنے خاندانوں اور مُلک کو پالنے کے لیے سالوں کیسی اذیّت ناک تنہائی کی زندگی گزارتے ہیں۔
یہ عُہدوں میں بڑے نہیں اور نہ ہی اُن کا وہ شاہانہ ٹھاٹ باٹ ہے، جو مقامی آبادی کا ہے۔ اگر وہاں جاکر اُن کے حالات دیکھیں، تو محنت و مشقّت کے درست مطالب سمجھ آجاتے ہیں۔ اُن کے پاس مستقل رہائش کی سہولت نہیں ہے، اِسی لیے ملازمت ختم ہونے یا عُمر کی ایک حد کے بعد اُنہیں گھر واپس آنا پڑتا ہے۔ پھر یہاں نئی زندگی کی شروعات۔ اِس طرح کی فکریں اُنھیں ہر وقت گھیرے رکھتی ہیں۔
عرب ممالک کی آبادی اور سرحدی تقسیم پر نظر ڈالیں، تو بہت سے معاملات باآسانی سمجھ میں آسکتے ہیں۔ دراصل، عرب دنیا دو حصّوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک طرف وہ ممالک ہیں، جو تیل پیدا کرتے ہیں اور دوسری طرف، پاکستان جیسے ممالک ہیں۔ تیل پیدا کرنے والے خلیج کے ممالک ہیں، یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، اومان، قطر اور لیبیا وغیرہ۔ جب کہ تیل نہ پیدا کرنے والے ممالک میں مصر، شام، عراق، اردن، فلسطینی اسٹیٹ، لبنان اور یمن شامل ہیں۔ اِن ممالک کی آبادی تیل پیدا کرنے والے ممالک سے زیادہ ہے، تاہم یہ معاشی طور پر کم زور ہیں۔
پھر تیل پیدا کرنے والے ممالک میں بادشاہتیں ہیں، جب کہ دیگر ممالک میں آمریتیں یا خود ساختہ جمہوریتیں ہیں۔ مصر میں، جو عرب دنیا کا سب سے بڑا مُلک ہے، میجر جمال ناصر(بعد میں کرنل ناصر) 1952 ء میں فوجی انقلاب لائے اور مُلک پر24سال حُکم رانی کی۔ شام میں حافظ الاسد فوجی انقلاب کے ذریعے تخت پر بیٹھے اور اُن کے خاندان نے44 سال حکومت کی۔
جب کہ اُن کے بیٹے بشار الاسد کو 13 سالہ خانہ جنگی اور اپنے5 لاکھ شہریوں کو ہلاک کرنے کے بعد فرار ہوکر روس میں میں پناہ لینی پڑی، تب کہیں جاکر اِس خاندان کے اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ عراق میں صدام حسین نے بھی فوجی انقلاب ہی کی بنیاد پر حکومت پر قبضہ کیا اور22 سال حُکم رانی کی، اُن کا تعلق بعث پارٹی سے تھا، جو کمیونزم اور سوشلزم کے درمیان تھی۔
وہاں کا آئین مسلم دنیا میں اپنے سوشلزم کی وجہ سے شہرت رکھتا تھا اور ہمارے ہاں بہت سے لوگ صدام حسین کو مسلم دنیا کا مثالی حُکم ران کہتے تھے۔ اُن کے زمانے میں عراق نے کئی جنگیں لڑیں۔ ایران سے دس سالہ جنگ، کویت پر قبضہ اور امریکا سے دو جنگیں اُن کے کھاتے میں ہیں اور ایسی ہی جنگ کے نتیجے میں اُن کے اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ لیبیا کے کرنل معمر قذافی بھی فوجی بغاوت کے ذریعے آئے اور 42سال حُکم رانی کرتے رہے۔
اُنھیں اپوزیشن اور نیٹو فورسز نے اقتدار سے محروم کیا۔ اُن کا طرزِ حکومت بھی سوشلسٹ تھا اور اِس ضمن میں اُن کی’’گرین بُک‘‘ خاصی مشہور رہی ہے۔ یہ تمام ممالک کل بھی غریب تھے اور آج بھی غریب ہی ہیں۔ اِس لیے شاید ہی کوئی غیر مُلکی نوکری کے لیے وہاں جائے، بلکہ خُود اِن کے لوگ تیل کے مالک ممالک میں ملازمتیں کرتے ہیں، جب کہ خلیجی ریاستیں اِن ممالک کی پیٹرو ڈالر سے امداد بھی کرتی ہیں۔
یہ بڑی تکلیف دہ حقیقت ہے، مگر تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی۔ ظاہر ہے، اِن حالات میں تارکینِ وطن تیل پیدا کرنے والے ممالک ہی کا رُخ کرتے ہیں، جہاں اُنہیں روزگار کے مواقع میسّر ہیں۔ اِن ممالک کی کُل آبادی لگ بھگ چھے کروڑ ہے، جس میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ سے زیادہ تارکینِ وطن ہیں، جن میں بھارت کے90 لاکھ، پاکستان اور بنگلا دیش کے50، 50 لاکھ شہری شامل ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ساڑھے تین کروڑ تارکینِ وطن میں سے2 کروڑ کا تعلق جنوبی ایشیا سے ہے۔
قطر اور یو اے ای میں تو اِن تارکینِ وطن کی تعداد کُل آبادی کا88 فی صد ہے، یعنی ایک عرب کے مقابلے میں8 غیر مقامی۔ اِن عرب ممالک کی سختی کی بہت سی داستانیں مشہور ہیں، بادشاہتوں سے متعلق بھی تنقید ہوتی رہتی ہے، موروثی حکم رانی بھی زیرِ بحث رہتی ہے، لیکن اس سب کے باوجود فلپائن سے لے کر مصر تک کے باشندے، اِن ممالک میں نہ صرف آباد ہیں، بلکہ اپنے خاندانوں اور اپنے ممالک میں رہنے والوں کے لیے زندگی کے بہتر مواقع پیدا کر رہے ہیں۔
جن ممالک کی کوششوں سے یہاں تیل دریافت ہوا، اُن میں امریکا اور برطانیہ شامل ہیں۔ ایران میں بھی تیل برطانیہ کی برٹش پیٹرولیم نے نکالا تھا، جسے بعد میں وزیرِ اعظم، مصدق نے قومیا لیا تھا، باقی ممالک میں بھی تیل اب قومی ملکیت میں ہے۔ یہ کوئی راز نہیں کہ دوسری عالمی جنگ تک یہ عرب ممالک، غریب ترین ممالک میں شمار ہوتے تھے۔ اِن کے پاس صحرا تھے، ذراعت کا تصوّر تک نہیں تھا، پینے کے پانی اور گرمی سے بچاؤ کے ذرایع ناپید تھے، جب کہ جدید ٹیکنالوجی سے تو ان کا دُور دُور تک واسطہ نہیں تھا۔
اب جو جنگل(صحرا) میں’’منگل‘‘ ہے، وہ صرف تیل نکلنے کی بدولت ہی ہوا۔ یہ قدرت کی مہربانی اور تیل کمپنیز کی مہارت ہے۔ یہاں جو ترقّی نظر آتی ہے، وہ یورپ اور امریکا ہی کی مرہونِ منّت ہے، جب کہ محنت تارکینِ وطن نے کی۔ اگر صرف تیل نکل آتا اور اُسے استعمال کی چیزیں نہ ہوتیں، تو ان سے کون تیل لیتا۔ کیا خُود ہی تیل میں کھیلتے رہتے۔
جن ممالک نے یہاں تیل نکالا، اُنھوں نے سب سے زیادہ توجّہ یہاں کے انفرا اسٹرکچر کی تعمیر پر دی، اِسی لیے ان ممالک میں آج عظیم الشّان عمارات کے ساتھ، بہترین سڑکیں اور ہوٹلز موجود ہیں۔ تنقید اپنی جگہ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تیل ذخائر کے حامل عرب حکم ران نے اپنے عوام کی بہتری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے۔
اُن کا ایک بڑا کارنامہ یہ بھی ہے کہ غیر ملکیوں کو بغیر کسی تشخیص کے ملازمتیں فراہم کیں، اِسی لیے وہاں ساڑھے تین کروڑ افراد رہ رہے ہیں، یہ ضرور ہے کہ افرادی قوّت اُن کی ضرورت بھی تھی۔ اگر یہ ملازمتیں نہ ہوتیں، تو جنوبی ایشیا کے ممالک اپنی بے لگام بڑھتی آبادی کہاں ایڈجسٹ کرتے۔ تارکینِ وطن بھی اُنہی سہولتوں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں، جن سے مقامی باسی مستفید ہوتے ہیں، البتہ دیارِ غیر، غیر ہی ہوتا ہے۔
ایران دنیا کا چوتھا تیل پیدا کرنے والا مُلک ہے، جس کی نو کروڑ آبادی ہے، وہاں تارکینِ وطن یا غیر مُلکی ملازمین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اِس کے برخلاف، 50 لاکھ ایرانی تارکینِ وطن دنیا بَھر میں آباد ہیں اور ان کی سب سے بڑی تعداد امریکا میں رہتی ہے، جو تقریباً10 لاکھ ہے۔ باقی برطانیہ، کینیڈا، یورپ اور دیگر ممالک میں ہیں، جن میں عرب ممالک بھی شامل ہیں۔
جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ ہوتی ہے، تو تیل کی کمی کا بھی ذکر ہونے لگتا ہے، لیکن جنوب اور مشرقی ایشیا کے اُن ساڑھے تین کروڑ افراد کا کوئی ذکر نہیں ہوتا، جو جنگ سے متاثرہ ممالک میں رہتے ہیں۔ اُن میں جو عدم تحفّظ اور بے یقینی کی کیفیت جنم لیتی ہے، اُسے تجزیوں، تبصروں میں نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ کورونا کے زمانے میں ملازمتوں سے برخاستگی اور آدھی تن خواہ پر کام کرنا عام تھا، مگر اُس کے باوجود یہ تارکینِ وطن فوکس میں نہیں آئے۔
شاید حکومتیں اِن کا اِس لیے ذکر کرنے سے گریز کرتی ہیں کہ جنگ کے زمانے میں اِن لاکھوں افراد کو وطن واپس کیسے لایا جائے اور ان کے لیے نوکریاں کہاں سے آئیں گی۔ پھر ہمارے ہاں زیادہ تر تجزیے مغربی میڈیا کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں، جن کے شاید چند لاکھ افراد بھی مشرقِ وسطیٰ میں نہ ہوں اور جو ہوتے ہیں، اُنہیں کسی خطرے کے موقعے پر وہاں سے نکال لیا جاتا ہے، اِس لیے مغربی میڈیا کے نزدیک تارکینِ وطن کا ایشو اہم نہیں ہوتا۔
مشرقِ وسطیٰ کا کوئی بھی بحران جنوب مشرقی ایشیا، خاص طور پر پاکستان کے لیے ایک ذاتی اور گھریلو مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔ بیٹا خیریت سے ہے، باپ کا کیا حال ہے، بھائی کی ملازمت کیسی جا رہی ہے، گھر گھر اِس طرح کے سوالات اُٹھنے لگتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں آبنائے ہرمز پر تو اِتنے تجزیے ہوئے کہ اُن کی شاید پوری لائبریری بن جائے(جیسے ایک زمانے میں سوئز کینال کے معاملے پر ہوا تھا)، جنگ سے تباہی کی فوٹیجز اور خبریں بھی خُوب چلیں، لیکن اگر کوئی معاملہ ڈسکس نہ ہوا، تو وہ پاکستانیوں کا تھا کہ وہ سعودی عرب، یو اے ای، قطر، بحرین اور اومان میں کیسے زندگی گزار رہے ہیں۔
اگر اُن ممالک کی تنصیبات تباہ ہو رہی ہیں، اُن کے کاروبار بیٹھ رہے ہیں، ہوٹلز، مارکیٹس بند ہو رہی ہیں، تو اُن میں کام کرنے والے پاکستانیوں سمیت دیگر تارکینِ وطن کس حال میں ہیں؟ اُنہوں نے برسوں وطن کی خدمت کی، تو کیا یہ اِس رویّے کے بھی حق دار نہیں کہ جنگ جیسی خوف ناک آفت کے وقت اُن کا حال چال ہی پوچھ لیا جائے۔
کوئی وزیر، سفیر تسلّی کے دو بول ہی بول دے۔ہمارے سیاست دانوں اور کاروباری افراد کے لیے دبئی، سعودی عرب جانا، لاہور اور حیدرآباد جانے سے زیادہ آسان ہے۔ اِن کے وہاں بڑے بڑے محلّات اور دفاتر ہیں، جب چاہا، وہاں چلے گئے، لیکن اپنی کمیونٹی کا حال احوال پوچھنے کے لیے کوئی ایک پروگرام بھی نہیں کیا گیا۔