ہر سال 17اپریل کو دنیا بھر میں عالمی یوم ہیموفیلیا منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک رسمی سرگرمی نہیںبلکہ ایک ایسی پکارہے جو ہمیں ان ہزاروں افراد کی طرف متوجہ کرتی ہے جو خاموشی کیساتھ ایک پیچیدہ اور جان لیوا بیماری کیساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
ہیموفیلیا جیسے خون بہنے کے امراض نہ صرف مریض کی جسمانی صحت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ اس کے خاندان، معاشرتی زندگی اور معاشی حالات پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں اس بیماری کے حوالے سے آگاہی، بروقت تشخیص اور مناسب علاج کی سہولیات اب بھی ناکافی ہیں۔
اس سال عالمی یوم ہیموفیلیا کا سلوگن’’تشخیص ہی علاج کی طرف پہلا قدم ہے‘‘ہمیں ایک بنیادی مگر نہایت اہم حقیقت کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ جب تک بیماری کی بروقت شناخت نہ ہو علاج کا سفر شروع ہی نہیں ہو سکتا۔ بدقسمتی سے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ہیموفیلیا کے مریضوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو تشخیص کے مرحلے تک بھی نہیں پہنچ پاتی اور یہی تاخیر اکثر انکی بیماری کو مزید پیچیدہ اور بعض اوقات جان لیوا بنا دیتی ہے۔
ہیموفیلیا ایک موروثی بیماری ہے جس میں جسم کے اندر خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے۔ ایک معمولی چوٹ بھی بہت زیادہ خون بہنے کا سبب بن سکتی ہے جبکہ اندرونی طور بہنے والا خون ، خاص طور پر جوڑوں اور پٹھوں میں، مستقل معذوری، شدید درد اور زندگی بھر کی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ کئی مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جو صرف اس لیے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں کہ ان کی بیماری کی بروقت تشخیص نہ ہو سکی یا انہیں مناسب علاج میسر نہ آ سکا۔
یہ حقیقت بھی اب واضح ہو چکی ہے کہ ہیموفیلیا صرف مردوں تک محدود بیماری نہیں۔ خواتین اور بچیاں بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہیں، مگر ہمارے معاشرے میں انہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کئی خواتین برسوں تک غیر معمولی خون بہنے اور دیگر علامات کا سامنا کرتی رہتی ہیں لیکن ان کی شکایات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا، جسکے نتیجے میں وہ تشخیص اور علاج دونوں سے محروم رہ جاتی ہیں۔ یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی ناانصافی بھی ہے جسے فوری طور پر درست کرنے کی ضرورت ہے۔
گزشتہ برسوں میں دنیا بھر میں ہیموفیلیا کے علاج کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ احتیاطی علاج، جدید کلاٹنگ فیکٹرز اور جین تھراپی جیسے جدید طریقہ علاج نے امید کی نئی راہیں کھولی ہیں مگر افسوس کہ پاکستان جیسے ممالک میں یہ سہولیات عام آدمی کی دسترس سے باہر ہیں۔ یہاں بیشتر مریض مہنگے علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اور فلاحی اداروں یا محدود وسائل پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
پاکستان میں اندازاً 10 سے 20 ہزار افراد ہیموفیلیا کے امراض میں مبتلا ہیں مگر ان میں سے صرف ایک قلیل تعداد کو باقاعدہ علاج میسر ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں آگاہی کی کمی، صحت کے نظام کی کمزوریاں، مہنگا علاج اور تربیت یافتہ طبی عملے کی کمی شامل ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم ہیموفیلیا کو ایک سنجیدہ قومی مسئلہ سمجھتے ہوئے اس کے حل کیلئے مشترکہ اور مؤثر اقدامات کریں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک بھر میں آگاہی مہمات کو فروغ دیا جائے، بروقت تشخیص کیلئےسہولیات کو عام کیا جائے، نوزائیدہ بچوں اور حاملہ خواتین کی اسکریننگ کو یقینی بنایا جائے اور جینیاتی مشاورت کو فروغ دیا جائے تاکہ اس بیماری کی بروقت شناخت ممکن ہوپائے۔
سندس فاؤنڈیشن اسی وژن کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں ہیموفیلیا کے مریضوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے، جہاں ہزاروں مریض رجسٹرڈ ہیں اور باقاعدہ علاج کروا رہے ہیں۔یہ ادارہ نہ صرف علاج بلکہ آگاہی اور بحالی کے میدان میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔بانی منوبھائی کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے لاہور میں ایک جدید ہسپتال کے قیام پر بھی کام جاری ہے تاکہ مستقبل میں مزید مریضوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
آج جب ہم عالمی یوم ہیموفیلیا منا رہے ہیں تو ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اس بیماری کے خلاف خاموشی اختیار نہیں کریں گے بلکہ آگاہی، تشخیص اور علاج کے ہر مرحلے پر اپنا کردار ادا کریں گے۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ بروقت تشخیص نہ صرف علاج کا پہلا قدم ہے بلکہ کئی قیمتی جانوں کو بچانے کا واحد راستہ بھی ہے۔موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ حکومت محض دعووں اور اعلانات تک محدود نہ رہے بلکہ ہیموفیلیا اور دیگر خون کی بیماریوں میں مبتلا مریضوںکیلئے سنجیدہ، مؤثر اور عملی اقدامات کرے۔ حکومت کو چاہئے کہ نہ صرف علاج کی سہولیات فراہم کرےبلکہ بروقت اور معیاری تشخیص، کلاٹنگ فیکٹرز کی مستقل اور بلا تعطل فراہمی اور مریضوں کی مکمل بحالی کیلئے جامع حکمتِ عملی بھی وضع کرے ۔ افسوس کہ اس اہم شعبے کو طویل عرصے سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے جسکے باعث ہزاروں مریض بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔
اب وقت آ چکا ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے فوری، ٹھوس اور پائیدار اقدامات کرے تاکہ یہ مریض بھی معاشرے کے دیگر افراد کی طرح باوقار اور معمول کی زندگی گزار سکیں۔
(صاحب تحریربانی و صدر سندس فاؤنڈیشن ہیں)