• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

1962 میں جان ایف کینیڈی نے امریکہ کے خلائی مرکز کا دورہ کیا۔ وہ مختلف سائنس دانوں اور انجینئرز سے ملاقات کر رہے تھے کہ اچانک اُن کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو فرش صاف کر رہا تھا۔ کینیڈی اس کے قریب گئے اور پوچھا: ”آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟“ اس شخص نے جھاڑو ایک طرف رکھا، سیدھا کھڑا ہوا اور پُر اعتماد لہجے میں کہا: ”جناب صدر! میں انسان کو چاند تک پہنچانے کے مشن میں اپنا حصہ ڈال رہا ہوں۔“

یہ جملہ بظاہر ایک عام کارکن کا تھا، مگر درحقیقت یہ اجتماعی شعور کا عکاس تھا۔ اس شخص نے اپنے کام کو محض ملازمت نہیں سمجھا بلکہ ایک بڑے مقصد، ایک مشترکہ خواب اور ایک وسیع انسانی امکان کا حصہ جانا۔ یہی وہ سوچ ہے جو اقوام کو بلندی عطا کرتی ہے، جب فرد اپنے چھوٹے عمل کو بھی روشن مستقبل اور عظیم مقصد سے جوڑ دیتا ہے۔

قومیں وسائل سے نہیں بنتیں بلکہ امید، شعور، نظم اور مسلسل جدوجہد سے تشکیل پاتی ہیں۔ امید محض ایک جذباتی کیفیت نہیں بلکہ زندہ معاشروں کی وہ داخلی قوت ہے جو تاریکی میں راستہ روشن کرتی ہے اور شکست کے بعد دوبارہ اٹھنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ انسان صرف مادی ضرورتوں سے نہیں جیتا بلکہ امید کے سہارے اسے توانائی، حوصلہ اور آگے بڑھنے کا جذبہ ملتا ہے۔ اسی طرح اقوام صرف معیشت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اجتماعی اعتماد اور مستقبل کے مضبوط تصور سے وجود پاتی ہیں۔ جب امید کمزور پڑ جائے تو وسائل بھی بے اثر ہو جاتے ہیں، اور جب امید مضبوط ہو تو محدود وسائل بھی نئے امکانات کے در وا کر دیتے ہیں۔

مایوسی انسان کی عملی قوت کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ یہ ذہنی صلاحیت کو کمزور اور قوتِ عمل کو مفلوج کر دیتی ہے۔ قرآن مجید انسان کو اللّٰہ کی رحمت سے مایوس ہونے سے منع کرتا ہے، جو اس سچائی کا اعلان ہے کہ کامیابی کا آغاز امید سے ہوتا ہے اور اس کی بنیاد یقین پر قائم ہے۔ سیرتِ نبویﷺ اس اصول کی سب سے روشن اور عملی مثال ہے۔ غارِ ثور میں جب بظاہر تمام راستے بند تھے، تب بھی یقین اور توکل قائم رہا۔ غزوہ بدر میں وسائل کم تھے مگر ایمان کامل تھا۔ اور صلح حدیبیہ بظاہر ایک کڑا اور آزمائشی مرحلہ تھا، مگر اللّٰہ پر اعتماد نے اسے نئی تاریخ کا نقطہ آغاز بنا دیا، یہاں تک کہ وہی معاہدہ بعد میں فتحِ مکہ کی بنیاد ثابت ہوا۔

اس کے برعکس مایوسی کو تباہی کا راستہ اور سنگین روحانی بیماری قرار دیا گیا ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللّٰہ وجہہ الکریم سے پوچھا گیا کہ سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ فرمایا: اللّٰہ کی خفیہ تدبیر سے بےخوف ہونا اور اس کی رحمت سے مایوس ہو جانا۔ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہلاکت دو چیزوں میں ہے: مایوسی اور خود پسندی۔ امام غزالی کے مطابق مایوسی انسان کو کوشش اور جدوجہد سے روکتی ہے، جبکہ خود پسندی اسے حقیقت کے ادراک سے محروم کر دیتی ہے، اور یوں انسان عمل سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کامیابیاں پہلے امید اور امکان کی صورت میں جنم لیتی ہیں، اور پھر شعور، دور اندیش حکمت عملی، منظم منصوبہ بندی اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں عملی حقیقت کا روپ اختیار کرتی ہیں۔

جاپان دوسری جنگ عظیم کے بعد مکمل تباہی سے دوچار تھا، مگر اس نے امید کو زندہ رکھا۔ اس قوم نے تعلیم، نظم و ضبط، سائنسی تحقیق اور انتھک محنت کو اپنی اجتماعی ترجیح بنایا، جس کے نتیجے میں چند دہائیوں میں وہ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام میں شامل ہو گیا۔

اسی طرح چین نے طویل المدتی منصوبہ بندی، مضبوط ریاستی نظم، اجتماعی شعور اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے اپنی معیشت، ٹیکنالوجی اور عالمی اثر و رسوخ کو غیر معمولی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ حالات کبھی جامد اور مستقل نہیں ہوتے، بلکہ تغیر انسانی تاریخ کا فطری اصول ہے۔ اقوام کے عروج و زوال کا انحصار محض وسائل کی مقدار پر نہیں ہوتا بلکہ اس اجتماعی ذہنیت پر ہوتا ہے جو ان وسائل کو سمت، مقصد اور وقار عطا کرتی ہے۔ جب کسی قوم کے اندر امید کمزور پڑنے لگتی ہے تو اس کے فیصلے، اس کا حوصلہ اور اس کی اجتماعی توانائی بھی بتدریج ماند پڑ جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ قوم اپنی سمت کے تعین میں بھی تذبذب کا شکار ہو جاتی ہے اور رفتہ رفتہ اپنی شناخت کھونے لگتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ وسائل اپنی ذات میں کسی قوم کی تقدیر نہیں بدلتے، بلکہ انہیں معنی اور اثر، امید، اعتماد اور اجتماعی یقین دیتا ہے۔ امید وہ داخلی قوت ہے جو ناممکن کو ممکن بنانے کا حوصلہ پیدا کرتی ہے، خوابوں کو منصوبوں میں اور منصوبوں کو حقیقت میں بدل دیتی ہے۔ اس کے برعکس جب امید بجھنے لگتی ہے تو نہ صرف امکانات محدود ہو جاتے ہیں بلکہ سوچ بھی سکڑ جاتی ہے، اور قومیں مسائل کے دائرے میں محصور ہو کر رہ جاتی ہیں۔

تاریخ کا مسلسل سبق یہی ہے کہ زوال ہمیشہ وسائل کی کمی سے نہیں بلکہ حوصلے، یقین اور امید کی کمزوری سے شروع ہوتا ہے۔ اور عروج ہمیشہ اسی لمحے جنم لیتا ہے جب کوئی قوم حالات کی سختی کے باوجود مستقبل کے امکان پر یقین قائم رکھتی ہے اور اسی یقین کو عمل کی طاقت میں بدل دیتی ہے۔

عزیز از جان، ہمارا وطن پاکستان بھی ایک ایسا ہی ’حرفِ امکان‘ تھا جو بالآخر کرہ ارض پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا۔ یہ ایک مفکر کا خواب تھا جسے تعبیر ملی، ایک مدبر کا تصور تھا جسے عملی تصدیق حاصل ہوئی، اور ایک قوم کی اجتماعی آرزو تھی جو پوری ہوئی۔ یہ سب کچھ کسی حادثے یا وقتی جذبے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ بصیرت افروز قیادت، پختہ ایمان، غیر متزلزل یقین، بے مثال عزم و حوصلے، صبر و استقامت اور منظم اجتماعی جدوجہد کا وہ تاریخی ثمر تھا جو اس نے ایک گہرے تاریخی شعور کے تحت امکان کو عملی حقیقت میں ڈھال دیا۔ لیکن آج یہی خوش گوار حقیقت اور ماں جیسی ریاست ہم سے ایک سنجیدہ اور عملی جواب کی متقاضی ہے: ہم امید کو زندہ رکھے ہوئے ہیں یا محض حالات کے تماشائی بن چکے ہیں؟ ہم صرف مسائل کا نوحہ پڑھتے ہیں یا واقعی وسائل، امکانات اور حل کی تلاش میں خلوص اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں؟

اس کا جواب محض الفاظ میں نہیں بلکہ اپنے طرزِ عمل میں تلاش کرنا ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مایوسی کے بجائے امید کو اختیار کریں، شکوے کے بجائے شکر کو شعار بنائیں، شور کے بجائے شعور کو اپنائیں، اور ردِ عمل کے بجائے تدبر و تفکر کو اپنی فکری بنیاد بنائیں۔ اسی طرح انتشار کے بجائے اتحاد، بدگمانی کے بجائے اعتماد اور تنقید کے بجائے تعمیر کی سوچ کو اپنی اجتماعی پہچان بنائیں، اسی طرح افتراق کے بجائے ربط و ہم آہنگی، دوری کے بجائے قربت و تعلق، اور نفرت کے بجائے خیر خواہی و ایثار کو فروغ دیں۔ بند راستوں میں بھی امکانات تلاش کرنے کی ہمت پیدا کریں، ذاتی مفاد کے بجائے قومی مفاد کو مقدم رکھیں، الزام تراشی کے بجائے اصلاحِ احوال کا راستہ اختیار کریں، غفلت کے بجائے بیداری اور انتظار کے بجائے مسلسل جدوجہد کو اپنا شعار بنائیں۔

یہی وہ فکری و عملی رویہ ہے جو اقوام کو زوال سے نکال کر عروج کی طرف لے جاتا ہے، اور یہی ہمارے اجتماعی مستقبل کی اصل ضمانت ہے۔ رات خواہ کتنی ہی طویل ہو، سحر کا امکان معدوم نہیں ہوتا۔ امید کو زندہ رکھیے، سوچ کو وسعت دیجیے اور عمل کو تسلسل عطا کیجیے۔ کیونکہ امید محض احساس نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کی اساس ہے۔ اور انسان وہی بانٹتا ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے، لہذا امید رکھیے، امید بنیے اور امید پھیلائیے۔ کیونکہ: ’ابھی امید باقی ہے‘۔

خاص رپورٹ سے مزید
کالمز سے مزید