• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکہ اور ایران کی جنگ کے دوران تیل کی قیمتوں کے بڑھنے سے مہنگائی بے قابو ہو گئی ہے۔ آج پاکستان کو آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے تیل کی قلت اور معاشی جھٹکوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے توانائی کے بارے میں ایک دیرپا پالیسی وضع کرنا ہو گی اور ہنگامی طور پر شمسی اور ہوائی توانائی کی طرف منتقلی کو یقینی بنانا ہوگا۔ دی اکانومسٹ نے اس جنگ سے متاثر ہونیوالے جن ممالک کے بارے میں اپنا تجزیہ پیش کیا ہے ان ممالک میں پاکستان کا نام سرفہرست ہے کیونکہ پاکستان اپنی GDP کا تقریباً چار فیصد تیل اور گیس پر خرچ کرتا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کی 80فیصد پیٹرولیم مصنوعات کا استعمال ٹرانسپورٹ میں ہوتا ہے کیونکہ ہمارے ہاں گاڑیوں کے علاوہ لگ بھگ دو کروڑموٹرسائیکلیں بھی ہیں۔ حکومت نے 2019ء میں جو نئی انرجی وہیکل پالیسی بنائی تھی اس کا مرکزی ہدف اس بات پر تھا کہ ہم اپنی تیس فیصد گاڑیاں الیکٹرک توانائی پر منتقل کر لیں گے، مگر اس سمت میں نہ صرف بہت کم پیشرفت ہوئی بلکہ حکومت نے اس پالیسی کیخلاف کام کرتے ہوئے استعمال شدہ پیٹرول گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دیکر اپنی ہی بنائی ہوئی پالیسی کو کمزور کر دیا۔آج توانائی کے بحران کا تقاضا ہے کہ ہمیں 2030ء تک 60فیصد گاڑیوں کو الیکٹرک توانائی پر منتقل کرنا ہو گا اور اسکے ساتھ ساتھ تین سال کے اندراندر پانچ بڑے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ بسیں بھی مکمل طور پر الیکٹرک توانائی پر منتقل کرنا ہونگی۔یاد رہے کہ بڑے پیمانے پر برقی گاڑیوں کے نظام کو قابل عمل بنانے کیلئے ہمیں وہیکل پالیسی میں چارجنگ اسٹیشن کے اہداف کو بھی تین گنا بڑھانا ہو گا۔ واضح رہے کہ 2018ء میں ہم ایک گیگا واٹ سے بھی کم سولر پینل کی درآمد کرتے تھے لیکن پھر 2026ء کے اوائل تک یہ مقدار 50گیگا واٹ تک پہنچ گئی، یہ سب کچھ عوام نے خود کیا اس میں ریاست کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ اس منتقلی سے 2022ء سے 2024ء کے درمیان تیل اور گیس کی درآمدات میں چالیس فیصد کمی ہوئی اور اب تک آٹھ سے بارہ ارب ڈالر کے درآمدی اخراجات سے ہمیں بچاؤ حاصل ہو گیا ہے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ حکومت کا رویہ اس سلسلے میں سرد مہری پر مبنی ہے کیونکہ اگر پچھلی رفتار ہی کو مزید پانچ سال تک برقرار رکھا جاتا تو ہماری نصب شدہ صلاحیت 33گیگا واٹ سے بڑھ کر 60گیگا واٹ تک پہنچ سکتی تھی لیکن ہماری حکومت نے اس سلسلے میں جلتی پر تیل کا کام کرتے ہوئے گرڈ کی نااہلی کو بچانے کیلئےمزید ٹیکس لگا دیئے جس سے نہ صرف سولر کی مانگ کم ہوئی بلکہ عوام بھی بددل ہو گئے۔ اسلئے آج اشد ضرورت ہے کہ بیٹریوں کی درآمد کیساتھ ساتھ لیتھئم آئن سسٹم پر GSTہر صورت میں صفر کر دی جائے، بیٹری تنصیبات کیلئے سرمایہ کاری مراعات بڑھائی جائیں اور ریاست کی طرف سے رعایتی قرض فراہم کر کے سولر اور بیٹریوں کی طرف منتقلی کی ہر صورت میں حوصلہ افزائی کی جائے۔ تیل کی ٹرانسپورٹیشن میں ہمارا ایک اہم مسئلہ فریٹ ہینڈلنگ کا بھی ہے کیونکہ ٹرکوں کےذریعے تیل کی منتقلی اسکی قیمتوں کو مستقل متاثر کرتی رہتی ہے۔ پاکستانی عوام کیلئے آج یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان ریلوے کی فریٹ ہینڈلنگ جو ایک زمانے میں 73فیصد تھی وہ آج کم ہو کر محض2سے 3فیصدکیوں رہ گئی ہے؟۔ یہ ریلوے کی ناکامی نہیں بلکہ ایک دانستہ، دہائیوں پر محیط قومی لاجسٹک پالیسی کی ناکامی ہے جس سے تیل کی ترسیل مکمل طور پر ٹرکوں پر منحصر ہو گئی ہے جبکہ پاکستان کے بڑے بڑے شہر شمال سے جنوب تک ایک راہداری کیساتھ ساتھ واقع ہیں جو ریلوے فریٹ کے لیے نہایت موزوں ہیں۔ اس کیساتھ ساتھ ML-1ریلوے اپ گریڈمنصوبے کی تکمیل کو فوری طور پر آگے بڑھایا جائے کیونکہ پلیننگ کمیشن کے مطابق یہ ہماری GDPمیں 2سے 3فیصد اضافہ کر سکتا ہے اور فریٹ صلاحیت کو بھی سالانہ 34ملین ٹن تک بڑھا سکتا ہے۔ توانائی کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکا، اس سلسلے میں ایران اور پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن کا منصوبہ جو 1994ء میں معرض وجود میں آیا تھا جس میں ایران نے اپنے حصے کی پائپ لائن بچھا بھی دی تھی لیکن ہم امریکی دباؤ اور پابندیوں کے باعث اس منصوبے کو شروع ہی نہ کر سکے۔ اگر یہ منصوبہ شروع ہو جاتا تو پاکستان نہ صرف ایندھن کی کمی کا شکار نہ ہوتا بلکہ گردشی قرضوں کو بھی کم کر سکتا اور عوام بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ سے بچ جاتے۔گوادر پورٹ کی گہرائی اور کنٹینر رکھنے کی گنجائش کو اگر دو کروڑ تک پہنچا دیا جائے تو چین کی مدد سے اس پورٹ کو دنیا کی سب سے محفوظ تجارتی راہداری بنایا جا سکتا ہے۔ چین آبنائے ہرمز اور ریڈ سی سے گوادر کے راستے اپنے تیل اور دوسرے تجارتی سامان کو وسطی چین تک ایک ہفتے میں پہنچا سکتا ہے، یوں چین بحرہند میں امریکہ اور بھارت کی مداخلت کے بغیر اپنی تجارت گوادر کی راہداری کے راستے منتقل کر سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پورٹ پاکستان کیلئے 60بلین ڈالر معیشت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس جنگ کے بعداگر ایران پر پابندیوں میں نرمی آئے تو پاکستان ایرانی گیس پائپ لائن کو مکمل کرنے کیساتھ ساتھ گوادر پورٹ کے ذریعے وسطِ ایشیا کو بھی محفوظ راہداری فراہم کر سکتا ہے لیکن اس کیلئے بلوچستان کے مسائل کو جلدازجلد سیاسی طور پر حل کرنا ضروری ہے تاکہ بلوچستان کے عوام اپنے ساحل و وسائل کیساتھ ساتھ گوادر پورٹ کے فوائد سے بھی مستفید ہو سکیں۔

تازہ ترین