• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تب کی باتیں مجھے قطعی یاد نہیں۔ تب میں نیا، نیا دلفریب دنیا میں آیا تھا، بہت چھوٹا تھا، تفصیلاً اس دور کی باتیں میں آپ کو بتا نہیں سکتا۔ میرا انحصار سنی سنائی باتوں پر ہے۔ جو باتیں میں نے سنی ہیں، وہی باتیں میں آپ کو سنا رہا ہوں۔ میری ماں لیکچرر تھیں، نہ پروفیسر تھیں، مگر لیکچر پلانا ان کی عادت تھی۔ یہ بات قطعی طور پر اسلئے بھی مجھے یاد ہے کہ جب میں نے شعور سنبھالا تھا، میں نے ماں کو لیکچر دیتے ہوئے سنا تھا، ماں خاص طور پر صرف مجھے لیکچر نہیں دیتی تھیں، وہ کنبے کے ہر فرد کو لیکچر دیا کرتی تھیں، چاہیں تو آپ ان کے لیکچر کو ہدایات، صلاح اور مشورے بھی کہہ سکتے ہیں، مجھے ماں کے مشوروں کی چیدہ چیدہ باتیں یاد ہیں۔

مثلاً ماں کہا کرتی تھیں، بیٹا چاہے کچھ بھی ہوجائے، غلط بات کو کبھی بھی سچ ثابت کرنے کی کوشش مت کرنا۔ میں نے ماں کی بات پر سختی سے عمل کیا ہے، میں خیر سے نوے برس کا ہوچکا ہوں، میں کبھی بھی غلط بات کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتا، برعکس اس کے، میں سچ کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں، یہی وجہ ہے کہ پڑھنے والے کبھی بھی میرے منہ سے سچ سننے کی توقع نہیں کرتے۔ وہ مجھے جھوٹ کی علامت سمجھتے ہیں۔

ماں کہا کرتی تھیں کہ بیٹا شیر اور بکری کی شادی میں کبھی بھی بینڈ باجا بجانے کی غلطی نہیں کرنا، کیا پتہ نکاح سے پہلے یا نکاح کے بعد شیر کب بکری کو کھا جائے۔ ماں کی بات میری سمجھ میں آگئی تھی۔ ماں کی وہ نصیحت مجھے آج تک یاد ہے، یہی بات میں آپ کو سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں کہ پیدا ہونے کے فوراً بعد میری ماں اپنے بچوں کو لیکچر پلانا شروع کردیتی تھیں، لیکچر میں نصیحتوں اور مشوروں کی بھرمار ہوتی تھی۔ اکثر اوقات وہ اپنی ہدایتوں کی وضاحت بھی کردیتی تھیں، مثلاً شیر اور بکری کی شادی کا ذکر کرتے ہوئے کہتی تھیں، اگر سندھ میں شیر اور بکری ایک دوسرے کی محبت میں مبتلا ہوجانے کے بعد چھپ چھپاکر شادی کرلیں، تو بیٹا ایسی شادی سے ذرا بچ کے رہنا۔ نہ جانے کون کب کاروکاری کی تہمت میں مارا جائے۔ حالانکہ تم ابھی چھ برس کے ہو، مگر تم بھی کارو ہونے کے گناہ میں مارے جاسکتے ہو۔ سندھ میں اکثر لوگ کاروکاری کے الزام کو اپنے اپنے عقیدے کی نفی سمجھتے ہیں۔ اس لیے کاروکاری کی تہمت تلے نہ جانے کون کب مارا جائے، باپ، بیٹا، بھتیجا، بھانجا، چاچا، ماما، داماد، مولود، نومولود کوئی بھی مارا جاسکتا ہے۔ اس قتل عام میں بیٹے تم بھی ہوسکتے ہو، میں بھی ہوسکتی ہوں، تمہاری کم سن بہن بھی ہوسکتی ہے، تمہاری دوسری کم سن بہن کی شادی سزا کے طور پر کسی بڈھے کھوسٹ سے کرادی جاسکتی ہے۔ کچھ بھی ہوسکتا ہے میرے بیٹے۔ تم کاروکاری کی شادی سے بچ کر رہنا، اسی میں تمہاری اور تمہارے باپ، داداؤں کی اور ان کی قبروں کی عافیت ہے۔ ماں کی نصیحت میں بھولا نہیں، یہی وجہ ہے کہ میں کاروکاری کی شادی میں کبھی باجا نہیں بجاتا۔

ماں کی ایک نصیحت زنگ آلود میخ کی طرح میرے ضمیر میں پیوست ہے۔ ماں کی وہ نصیحت مجھے اچھی لگتی ہے، نہ بری لگتی ہے، مگر یہ طے ہے کہ میں اس نصیحت سے پیچھا نہیں چھڑا سکتا، ماں نے کہا تھا کہ بیٹا، بولتی بند کرنے والوں کے سامنے کبھی کچھ مت بولنا، نہ لکھنا، نہ سنانا، گونگے رہ کر یہ دلفریب زندگی گزار دینا، بولتی بند کرنے والے تمہاری روزی روٹی بند کرسکتے ہیں۔ تمہیں گم کرسکتے ہیں۔ لوٹ آنے کی امید کے برعکس اگر تم لوٹ آتے ہو، تب تک تم بہت کچھ بھول چکے ہوتے ہو۔ لوٹ آنے کے بعد تم اپنی ساس کو اپنی بیوی اور بیوی کو اپنی ساس سمجھنے لگتے ہو۔ بیٹا ایسا ہی کچھ نتیجہ نکلتا ہے بولتی بند کرنے والوں کے سامنے بولنے کا، ماں کی اس لاجواب نصیحت کا میں قائل ہوں۔ جب بھی نادانستہ اس عبرت ناک نصیحت سے میں نے اجتناب کیا ہے، میں نے منہ کی کھائی ہے، منہ کی کھانے کے بعد آپ لمبے عرصے تک اور کچھ نہیں کھا سکتے۔ پچھلے ہفتہ میں نے منہ کی کھائی تھی، صرف میری پوتی کو پتہ چلا تھا جب اس نے میرے ٹوٹے ہوئے دانت اور منہ میں چھالے دیکھے تھے۔ اس حوالے سے ماں کی نصیحت مجھے بہت اچھی لگتی ہے کہ بیٹا اظہار کی آزادی کے نام کی چیز اس دنیا کے حصے میں نہیں ہوتی، اگر ڈھونڈنے نکلوگے تو منہ کی کھاؤگے۔ میں جانتا ہوں کہ منہ کی کھانا کس کو کہتے ہیں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ منہ کی کھانے کے بعد لمبے عرصے تک کچھ نہ کھاسکنا کس ذلت کو کہتے ہیں۔

ماں کا ایک اور مشورہ بھی کمال ہے، آئن اسٹائن سنتا تو دنگ رہ جاتا۔ ماں نے کہا تھا، بیٹا کبھی بھی چڑھتے ہوئے سورج کو سلام مت کرنا، ہمیشہ غروب ہوتے ہوئے سورج کو سلام کرنا، یاد رکھو بیٹا کہ غروب ہوتا ہوا سورج دراصل غروب نہیں ہورہا ہوتا، ایک ملک کو روشن رکھنے کے بعد غروب ہوتا ہوا سورج کہیں اور طلوع ہورہا ہوتا ہے۔ دنیا کے دوسرے کسی حصے کو روشن کررہا ہوتا ہے۔

ماں کی آخری نصیحت سنانے کے بعد میں قصہ کوتاہ کرتا ہوں، ماں نے کہا تھا کہ بیٹا، وکٹوں کے درمیان بائیس گز یعنی چھیاسٹھ فٹ کا فاصلہ ہوتا ہے، تم اگر خود کو اچھا بیٹس مین سمجھتے ہو تو پھر بغیر کسی شرائط کے بیٹنگ کرکے دکھاؤ، تم یہ مت کہو کہ لارؤڈ کی طرح تیز ترین بالر شعیب اختر بالنگ کررہا ہے، تحمل سے کام لو، شعیب اختر کی دھواں دار بالنگ پر بیٹنگ کرکے دکھاؤ، مگر میرا پرابلم یہ ہے ماں کہ میں کرکٹ نہیں کھیلتا، میں فٹبال کھیلتا ہوں، مگر میں میراڈونا، رونالڈو اور میسی نہیں بن سکتا۔

تازہ ترین