2009 ءکے گڈ گورننس اینڈ امپاورمنٹ آرڈر کے نفاذ کے بعد یہ چوتھا الیکشن ہے جو سات جون کو عمل میں لایا جائے گا۔ صوبائی طرز کے سیٹ اپ کے بعد پارٹی بنیادوں پر منعقد کروائے جانیوالے ان الیکشنز نے گلگت بلتستان میں عوامی دلچسپی کو بہت بڑھا دیا ہے گوکہ یہ الیکشن پاکستان کے دیگر صوبوں سے مختلف اوقات میں منعقد کئے جاتے ہیں اور یہاں سے قومی اسمبلی میں براہ راست نمائندگی بھی نہیں۔ اگر مختصراً گلگت بلتستان میں عوامی اور سیاسی نمائندگی اور انتخابی حقوق کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ کچھ زیادہ طویل نہیں ۔1947-48میں خود جنگ آزادی لڑی گئی 16 دن آزاد خودمختار ریاست رہی اور 72496مربع کلومیٹر کا خطہ جو اب گلگت بلتستان ہے، نے مختلف مراحل میں پاکستان کیساتھ شمولیت کا اعلان کیا۔ پہلے پہل یہاں ایف سی آر نافذ کیا گیا جس میں کسی سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں تھی۔ 1949ءمیں معاہدہ کراچی کے تحت گلگت بلتستان کے انتظامی امور وفاق پاکستان کے پاس آگئے۔1959میں رورل ڈویلپمنٹ کا کام شروع ہوا اور 1969میں سرکاری سطح پر شمالی علاقہ جات کا نام دیکر ایک مشاورتی کونسل بنائی گی۔اس کونسل میں عوامی انتخاب کے بجائے 12 راجگان کو بطور ممبران نامزد کیا گیا ۔ دسمبر 1970ءمیں مشاورتی کونسل کو ترقی دی گئی اور مختصر عوامی رائے دہی کے تحت چودہ ممبران کا انتخاب عمل میں لایا گیا مگر ایک سرکاری آفیسر ریزیڈنٹ شمالی علاقہ جات کو اس مشاورتی کونسل کے چیئرمین کا عہدہ دیا گیا۔ 1971ءاور 1972 ءکے دوران جاگیرداری نظام کا خاتمہ کیا گیا اور پھر 1975ءمیں ناردرن ایریاز لیگل فریم ورک آرڈر متعارف ہوا۔ 1991ءتک اسی طرز کے لیگل فریم ورک آرڈر پر کام چلایا گیا اور پہلی دفعہ 1975 کے لیگل ورک فریم ورک آرڈر میں کچھ تبدیلی کرکے خواتین کیلئے دو نشستیں متعارف کرائی گئیں۔ 2007 میں ناردرن ایریاز فریم ورک آرڈر میں تبدیلی کرکے قانون ساز کونسل کو قانون ساز اسمبلی کا درجہ دیا گیا جس کا چیئرمین وفاقی وزیر امور کشمیر ہوتا تھا۔
2009 کا امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر چونکہ پیپلز پارٹی نے متعارف کرایا تھا اور وفاق میں اسکی حکومت تھی لہٰذا اس وقت کا الیکشن پیپلز پارٹی نے جیتا اور حکومت بنائی۔ اس کے تحت وزیر اعلیٰ اور گورنر کے عہدے متعارف کروائے گئے اور صوبائی اسمبلی کی سربراہی مقامی فرد کے ہاتھوں میں منتقل ہوئی۔ علاوہ ازیں گلگت بلتستان کونسل بھی تشکیل دی گئی جس میںچھ اراکین وفاقی پارلیمنٹ سے اور چھ ممبران کا چناؤ صوبائی اسمبلی کے ذریعے منتخب کرنے کا اصول وضع کیا گیا۔دوسرے الیکشن 2015 کے وقت وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت تھی لہٰذا لا محالہ گلگت بلتستان میں اقتدار کا ہما ان کے سر بیٹھنا تھا۔ یہی رحجان 2020 والے الیکشن میں بھی رہا اور گلگت بلتستان اسمبلی تحریک انصاف کی جھولی میں گئی ۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں اب تک کے انتخابات میں وفاق پاکستان اثرانداز رہا ہے۔ اب پھر وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے اور یہاں یہ بات زبان زد عام ہے کہ گلگت بلتستان میں اسی کا ہی دبدبہ چلے گا۔ 2026 کے الیکشن کیلئے 19 اپریل تک کاغذات نامزدگی جمع کرنے کی آخری تاریخ تھی اور مقامی اخبارات میں دی گئی تفصیلات کے مطابق براہ راست الیکشن والی 24 نشستوں کیلئے664 کے قریب امیدواروں نے کاغذات جمع کروائےہیں یوں یہ ایک بڑی تعداد بنتی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ 19 خواتین بھی براہ راست الیکشن لڑنےکیلئے میدان میں ہیں۔ایک اور مثبت اشاریہ یہ ہے کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے آپ کو نمائندگی کیلئے پیش کیا ہے۔ وفاقی پارٹیوں کی طرف سے ٹکٹوں کی تقسیم کیلئے قائم کردہ پارلیمانی بورڈ کے ممبران کی آمد شروع ہوگئی ہے جو ہر حلقے کے معروضی حالات کے تحت پوٹینشل امیدواروں کا فیصلہ کریں گے۔ایک صحت مندانہ رحجان یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ تمام انتخابی حلقوں کیلئےہر بڑی پارٹی کے ایک سے زائد امیدواروں نے فارم جمع کرا رکھاہے۔ گلگت بلتستان کے مجوزہ الیکشن نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ بین الاقوامی حالات خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے بحران کے دوران یہاں حالات کشیدہ رہے اور کافی جانی نقصان بھی ہواہے۔ ایسی صورتحال میں جبکہ علاقے کی فضا مکدر ہے سیاسی درجہ حرارت کو اعتدال پر رکھنا ضروری ہے جس کیلئے سب کی ذمہ داری بنتی ہے۔