• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مئی 2025 ء میں بھارت کے ساتھ چار دن کی جنگ کو پاکستان میں معرکۂ حق کیوں قرار دیا گیا ؟ وجہ یہ تھی کہ بھارت نے اس جنگ کا جواز ایک جھوٹ سے تلاش کیا اور جنگ کا آغاز بھی جھوٹ سے کیا - پاکستان کا جواب حق پر مبنی تھا۔ 22 اپریل 2025ء کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں دہشت گردی کے ایک واقعے کا الزام پاکستان پر لگا کر 23اپریل کو سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا گیا ۔ کئی دن تک بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر جھوٹے الزامات لگائے گئے اور پھر 7 مئی کو آپریشن سیندور کے نام پر پاکستان پر میزائل داغ دیے گئے ۔جس رات یہ حملے کئے گئے وہ رات مجھے کبھی نہیں بھولے گی ۔ ایک بھارتی خاتون صحافی نے مجھے واٹس ایپ پر پیغام بھیجا اور پوچھا کہ کیا تم خیریت سے ہو ؟ میں نے پوچھا کیا ہوا ؟ انہوں نے بتایا کہ اُن کے ٹی وی چینل پر بریکنگ نیوز چل رہی ہے کہ کراچی ، لاہور اور اسلام آباد پر بھارت کا قبضہ ہو گیا ہے۔ شہباز شریف گرفتار ہو گئے ہیں اور جنرل عاصم منیر پاکستان سےفرار ہو گئے ہیں ۔ میں نے اس خاتون صحافی کو بتایا کہ سب جھوٹ ہے اور اسلام آباد میں دور دور تک بھارتی فوج کا کوئی نام و نشان نہیں ۔ پھر مجھے پتہ چلا کہ پاکستان اور بھارت میں جنگ شروع ہو چکی ہے اور بھارت کی طرف سے جھوٹ کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تا کہ پاکستانیوں کو مایوسی کا شکار کر دیا جائے اور ہر طرف افراتفری پھیل جائے ۔ پاکستان کے میڈیا نے اس جھوٹ کے مقابلے پرحق اور سچ کو اُجاگر کیا ۔ پھر جب بھارت کے سات ہوائی جہاز مار گرائے گئے اور عالمی میڈیا نے بھی پاکستانی میڈیا کے دعووں کی تصدیق کر دی تو یہ معرکہ حق قرار پایا ۔ معرکۂ حق میں پاکستان کی فتح کے پیچھے قوم کا وہ اتحاد تھا جو ایک طویل عرصہ کے بعد دیکھنے میں آیا۔ ساری دنیا نے دیکھا کہ جب عوام اپنی فوج کے پیچھے کھڑے ہوں تو فوج اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو چاروں شانے چت کر سکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کو ملک بھر میں بڑے جوش و خروش سے منایا گیا ۔ یہ جوش و خروش بتا رہا تھا کہ عوام کا اعتماد کسی فارم 47کا محتاج نہیں ہوتا۔جب کوئی فرد یا ادارہ اپنی کارکردگی سے عوام کا اعتماد جیت لیتاہے تو پھر عوام کو بڑے سے بڑا دشمن بھی گمراہ نہیں کر سکتا ۔ معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر یہ بھی عرض کرنا ہے کہ فتح کا جشن ضرور منائیں لیکن دشمن سے ہوشیار رہیں۔ دشمن مکار بھی ہے اور کمینہ بھی۔ مئی 2025 ء کی جنگ پاکستان نےنہیں بلکہ بھارت نے شروع کی تھی۔ اس جنگ میں فتح نے دنیا بھر میں پاکستان کا سیاسی و سفارتی قد بلند کیا ۔ پاکستان نے ایران اور امریکا میں سیز فائر کروا کے جو مقام حاصل کیا ہے اُس کو قائم رکھنا اتنا آسان نہیں ۔ آج پاکستان دنیا میں امن کا نگہبان بن کر اُبھرا ہے لیکن بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کیلئےپاکستان کا یہ نیا مقام ناقابل قبول ہے ۔ بی جے پی کی سیاست نفرت ، محاذ آرائی اور جھوٹ پر مبنی ہے ۔ بی جے پی کی حکومت اسرائیل کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف سازشیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اسی لئے امریکا کے فارن افیئرز میگزین نے 4 مئی 2026 ء کو پاکستان اور بھارت میں ایک نئی جنگ کے خطرے سے خبردار کیا ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک نئی جنگ کا خطرہ اس لئے موجود ہے کیونکہ پاکستان میں بدامنی اور عدم استحکام پھیلانا بھارت کی ریاستی پالیسی ہے ۔ اس خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان میں اتحاد اور یکجہتی کو قائم رکھنا بہت ضروری ہے ۔ اس اتحاد اور یکجہتی کیلئے سیاسی قیادت کو گڈ گورننس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ گڈ گورننس کا بڑا تقاضا یہ ہے کہ تمام تر معاشی چیلنجز کے باوجود کم از کم عام آدمی پر معاشی دباؤ کم کیا جائے ۔ ہم نے دیکھا کہ جب پوری قوم معرکہ حق کی پہلی سالگرہ منا رہی تھی تو پیٹرول کی قیمت 400 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 415 روپے فی لیٹر کر دی گئی ۔ پہلے پیٹرول پر فی لیٹر لیوی 103 روپے تھی ۔ یہ لیوی بڑھا کر 117 روپے فی لیٹر کر دی گئی جبکہ آئی ایم ایف کا مطالبہ یہ رہا ہے کہ اس لیوی کو 80 روپے فی لیٹر تک ہونا چاہئے ۔پٹرول پر 37روپے فی لیٹر اضافی لیوی وصول کرنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایف بی آر ٹیکسوں کی وصولی کے اہداف حاصل نہیں کر سکا لہٰذا ان اہداف کے حصول کیلئے عام آدمی کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافے نے مہنگائی کا وہ طوفان کھڑا کیا ہے کہ عام آدمی کیلئے عید قربان پر قربانی کا جانور خریدنا محال ہو گیا ہے ۔ آجکل میں جدھر بھی جاتا ہوں عام لوگ روک روک کر کہتے ہیں کہ معرکہ حق میں آپ نے جو حق گوئی دکھائی اُس پر آپ کو سلام لیکن کچھ حق بات عوام کیلئے بھی کہہ دیں ۔ حق بات یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب پاکستانی قیادت کی بار بار تعریفیں کرتے ہیں تو ہمارے دشمنوں کے دل بہت جلتے ہیں۔ جب ایران کے پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز سے پاکستانی بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں کہ واقعی پاکستان نے کمال کر دیا۔ امریکا اور ایران دونوں ہی پاکستان سے راضی ہیں لیکن اس کمال کے باوجود پاکستان کے عوام کو کوئی ریلیف کیوں نہیں مل رہا ؟ ایران اور امریکا کی جنگ نے پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کیا ہے لیکن بھارت اور بنگلہ دیش میں پیٹرول اتنا مہنگا نہیں ہوا جتنا پاکستان میں مہنگا کر دیا گیاہے ؟ ہماری گڈ گورننس کہاں ہے ؟ ہمارے وزراء صاحبان ہمیں عمران خان کے دور حکومت کی کرپشن کے قصے سناتے نہیں تھکتے لیکن ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کی بلند و بالا عمارت کے ایک قصے نے شہباز شریف حکومت کی گڈ گورننس کا جنازہ نکال دیا ہے ۔ایک طرف مسلم لیگ (ن) کے اندر ہمیں دراڑیں نظر آ رہیں۔ مسلم لیگ ن والے ایک دوسرے پر سائبر اٹیک کر رہے ہیں اور دوسری طرف مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں فاصلے بڑھ رہے ہیں ۔ دونوں جماعتوں کے سائبر کمانڈوز ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں شروع میں ہونیوالی اس سرد جنگ کا زیادہ نقصان مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت کو ہو سکتا ہے ۔ ایران اور امریکا کی جنگ نے شہباز شریف حکومت کی کمزوریوں پر پردہ ڈال رکھا ہے لیکن وہ یاد رکھیں کہ الیکشن میں کامیابی کیلئے تو فارم 47 کام آ جاتا ہے لیکن جب دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرنا ہو تو پھر فارم 47 نہیں عوام کا بھر پور اعتماد کام آتا ہے ۔ عوام کا اعتمادصرف اس کارکردگی سے ملتا ہے جو افواج پاکستان نے مئی 2025 کے معرکہ حق میں دکھائی ۔ معرکہ حق کے جشن کے موقع پر یہ سوال اٹھانا بھی حق گوئی کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کیلئے ایک نیا معرکہ حق کب شروع ہوگا ؟

تازہ ترین