اِن دنوں مُلک کے بیش ترعلاقوں میں موسمِ گرما عروج پر ہے، متعدد مقامات پر درجۂ حرارت40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کررہا ہے۔ مُلک کے مختلف حصّوں میں لُو کے خطرناک تھپیڑوں کے سبب کراچی سمیت کئی بڑے شہروں میں ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے ریلیف کیمپس قائم کیے جا چُکے ہیں۔
یاد رہے، موسمِ گرما میں ہیٹ اسٹروک یا لُو لگنے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے، جو جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ لہٰذا، اس سخت موسم سے بچائو کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔
اس ضمن میں مزید تفصیل میں جانے سے قبل آپ کو یہ بتانا بھی ضروری ہےکہ اگر کوئی شخص ہیٹ اسٹروک سےمتاثرہوجائے، تو اُسے فوری لٹا دینا چاہیے۔ اُس کے پاؤں کسی اونچی چیز یا جگہ پر رکھ دیں۔ متاثرہ شخص کے جسم پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھیں یا ٹھنڈے پانی کاچھڑکاؤ کریں۔
مریض کو فوراً پنکھے کے قریب کردیں یا کسی چیز سے مسلسل ہوا دیں، نیز فوراً اسپتال پہنچانے کی کوشش کریں۔ ذیل میں ہیٹ اسٹروک اور گرمی کے مُضر اثرات سے بچاؤ کے لیے چند احتیاطی تدابیر پیش کی جا رہی ہیں۔
احتیاطی تدابیر
٭شدید گرمی کے مُضر اثرات اور ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی پئیں۔ روزانہ کم از کم تین لیٹر پانی ضرور استعمال کریں۔ کیوں کہ موسمِ گرما میں پسینہ آنے کے سبب جسم سے نمکیات کا اخراج ہوتا ہے اور زیادہ پانی پی کر ہی بدن میں نمکیات کا تناسب برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
٭ایسی غذائوں اور مشروبات کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں کہ جو آپ کے جسم کو ٹھنڈا رکھیں۔ اس ضمن میں کھیرے کا جوس، ناریل کا پانی، اسکنجبین، فالسے، املی اور آلو بخارے کا شربت اور دودھ یا دہی کی کچی لسّی مفید ثابت ہوگی، جب کہ گرم اشیاء، باربی کیو، فاسٹ فوڈز، کولامشروبات، چائے اور کافی کا استعمال کم سے کم کردیں، جب کہ الکحل، پان اور سگریٹ وغیرہ کا استعمال بالکل ترک کردیں۔
٭ ڈھیلے ڈھالے، ہوادار اور ہلکے رنگوں کے ملبوسات پہنیں، تاکہ پسینہ جلد خشک ہوجائے۔ دن کے وقت گھر سے بِلاضرورت نہ نکلیں اور اگر باہر نکلنا ناگزیر ہو، تو سَر کو گیلے کپڑے سے ڈھانپ لیں۔ نیز، دُھوپ میں زیادہ دیر نہ رہیں۔ علاوہ ازیں، پانی کی ایک بوتل ہمیشہ اپنےساتھ رکھیں اور ہر20 سے 30 منٹ بعد پانی پیتے رہیں۔
٭ اس میں کوئی شک نہیں کہ دُھوپ وٹامن ڈی کے حصول کا سب سے اہم اور آسان ذریعہ ہے، لیکن سخت گرمی میں سورج کی الٹرا وائلٹ شعائیں چہرے سمیت پورے جسم کی جِلد کو طویل المدتی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ لہٰذا، گھر سے نکلنے سے کم از کم نصف گھنٹے قبل اپنے جسم کے کُھلے حصّوں پر سن بلاک ضرور لگائیں۔
٭ طبّی ماہرین شدید گرمی کے موسم میں اینٹی ڈیپریسینٹ ادویہ استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، کیوں کہ اس سے فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
٭ بازاری کھانے ہرگز نہ کھائیں۔ طبّی ماہرین کے مطابق، موسمِ گرما میں کیفین اور تیل سے بھرپور اشیاء اور تلے ہوئے یا پیک شُدہ کھانوں کا استعمال کم، جب کہ تازہ پَھلوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھا دینا چاہیے۔ خاص طور پر سلاد اور ایسے پَھل اور سبزیاں کھانی چاہئیں کہ جن میں پانی کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔
جیسا کہ کھیرے، تربوز، آم، فالسے، کینو، لیچی، خربوزے اور گاجر وغیرہ کا استعمال فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ ویسے تو موسمِ گرما میں گھر کے تیار، تازہ اور صاف سُتھرے کھانے ہی کو ترجیح دینی چاہیے کہ اس موسم میں ذرا سی لاپروائی بھی مختلف اقسام کے انفیکشنز اور امراض میں مبتلا کرسکتی ہے، سو، کھانے پینے میں جس قدر احتیاط ممکن ہو، ضرور کریں۔
ناقابلِ اشاعت نگارشات اور اُن کے تخلیق کاربرائے صفحہ’’ڈائجسٹ‘‘
٭رمضان المبارک، سولفظی کہانی، یکم مئی(صبا احمد)٭یاامیّا(ایمن علی منصور) ٭نماز کی اہمیت(سیّدہ مہہ جبیں جاوید نقوی)٭خاموشی کی چیخ (فرزانہ مسکان ناصر، ژوب، بلوچستان)٭فتح کس کی ہوئی (سیّدذوالفقار حسین نقوی، نیوررضویہ سوسائٹی، کراچی)٭قسمت کی ستم ظریقی(مجاہد لغاری، گائوں قاضی نورمحمّد لغاری، ٹنڈو الہیار) ٭بدنصیب، چائے، حج کی ادائی مسترد(مبشّرہ خالد، کراچی) ٭ انگریزی تحریر کا ترجمہ (بلقیس متین، کراچی) ٭پاگل(اختر شاہ عارف، جہلم) ٭انتخاب ڈائجسٹ(محمّدصفدر خان ساغر، راہوالی، گوجرانوالہ) ٭نیّت اور قربانی(رانا محمّد شاہد، بورے والا) ٭عشقِ محرم (ارسلان اللہ خان، حیدرآباد) ٭کھوپڑی کا بھوسہ، عشق کے دیے، محبّت کا شکنجہ(مہر پرویز احمد دولو، میاں چُنوں)٭آپا سیاپا (زہرا یاسمین، کراچی) ٭مائوں کا عالمی دن(ثناء توفیق خان، ماڈل کالونی، کراچی)۔
ناقابلِ اشاعت کلام اور اُس کے تخلیق کار
٭رمضان کا پیغام(حرا خان)٭بیادِ شہید ،نذرِ شہید رہبرِ معظّم (سیّد ذوالفقار حسین نقوی، نیورضویہ سوسائٹی، کراچی)٭آپریشن بنیان مرصوص(ثوبیہ ممتاز، راول پنڈی) ٭فردیات(طاہر گرامی، ٹوبہ ٹیک سنگھ)٭ فاتحِ ہرمز(ابنِ امید) ٭حمد (صبا احمد)۔
ناقابلِ اشاعت نگارشات اور ان کے تخلیق کار برائے صفحہ ’’پیارا گھر‘‘
٭گھر کو گھر، عیدالفطر(تحریم فاطمہ) ٭بچّوں کی تربیت (محمّد صفدر خان ساغر، راہوالی، گوجرانوالہ) ٭ ڈیپریشن (اریج عارف، کراچی) ٭ ماں ہوں، مشین نہیں، بچّوں کے کھلونے، عورت ہوں، گناہ گار نہیں (مبشّرہ خالد، کراچی)۔