افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کو روس اور چین حتیٰ کہ خود پاکستان بھی اپنے لئے خطرہ سمجھتاتھا۔ پاکستان میں تو یہ مشہور تھا کہ افغانستان بہانہ اور پاکستان نشانہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ ساتھ روس اور ایران بھی درپردہ طالبان کو سپورٹ فراہم کرتے رہے البتہ چین خاموشی سے سب کچھ دیکھتا رہا۔ افغانستان سے امریکہ کے نکلنے کے بعد جس طرح پاکستان میں جشن منایا گیا اسی طرح روسی ایوانوں میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اسی لئے روس نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ روس اپنے لئے داعش کو بڑا خطرہ سمجھتا ہے اور چونکہ طالبان ، داعش کے مخالف ہیں اس لئے بھی روس نے طالبان کے قریب ہونا ضروری سمجھا۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ امریکہ کی طرف سے اب بھی طالبان کو پیسے ملتے ہیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ انہیں مستقبل میں روسی مفادات کے خلاف استعمال کیا جائے ۔ اس لئے بھی روس طالبان کو قریب رکھنا ضروری سمجھتا ہے۔
اب ہوا یوں کہ آج سے ایک ہفتہ قبل ماسکو میں چار روزہ انٹرنیشنل سیکورٹی فورم کا اہتمام کیا گیاجس میں ایک سو بیس ممالک سے نمائندے مدعو کئے گئے تھے ۔ زیادہ تر ممالک کے اعلیٰ عہدیدار شریک نہیں تھے بلکہ نچلے درجے کے افسروں نے نمائندگی کی لیکن افغانستان سے وزیر دفاع ملا یعقوب شریک ہوئے ۔
اس کانفرنس کی سائیڈ لائن پر ملا یعقوب کے روسی حکام سے مذاکرات ہوئے اور ایک ملٹری ٹیکنیکل معاہدے پر اتفاق ہوا ۔پھر کیا تھا کہ ایک طوفان کھڑا ہوگیا ۔ افغان سوشل میڈیا پر ایسا تاثر دیا جانے لگا کہ جیسے دونوں ملکوں کا دفاعی معاہدہ ہو گیا ہے اور اب پاکستان جیسے ملکوں کے ساتھ دو دو ہاتھ کیے جائینگے ۔ وہ یہ تاثر دیتے رہے کہ اب پاکستان افغانستان پر فضائی بمباری کی ہمت نہیں کرسکے گا ۔ دوسری طرف پاکستان میں بھی بعض لوگوں نے اس پر ہاہا کار مچانا شروع کر دی حالانکہ انہیں سوچنا چاہیے کہ افغانستان ایک خودمختار ملک ہے اور اس کی مرضی ہے کہ جسکے ساتھ بھی چاہے اور جس قسم کے بھی چاہے معاہدے کرے ۔افغانستان اپنی فوج بناتا ہے ، اس کیلئے کسی ملک سے ہتھیار خریدتا ہے ، یا کسی اور مد میں کسی ملک سے تعاون حاصل کرتا ہے تو یہ اس کی مرضی ہے اور پاکستان سمیت کسی ملک کو اعتراض کا کوئی حق نہیں۔
اب آتے ہیں روس اور افغانستان کے مابین طے پانے والے فوجی ٹیکنیکل معاہدے کی طرف ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ اس طرح کا دفاعی معاہدہ نہیں ہے جس طرح کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین طے پایا ہے ۔ پاک سعودی دفاعی معاہدے میں یہ شق شامل ہے کہ ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر بھی حملہ تصور ہوگا اور حملے سے قبل بھی دونوں ملک حفظ ماتقدم کے طور پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں ۔ جیسا کہ ابھی تک سعودی عرب پر کسی نے حملہ نہیں کیا لیکن اس نے حفظ ماتقدم کے طور پر پاکستانی فوج طلب کرلی اور مطلوبہ تعداد میں پاکستانی فوج وہاں تعینات ہوچکی ہے ۔
دوسری طرح کا معاہدہ وہ ہوتا ہے کہ جس میں ایک ملک دوسرے کو ہتھیاریاجہاز یا ایس 400جیسا دفاعی نظام وغیرہ سپلائی کرتا ہے ۔ اب حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ معاہدے میں ایسی کوئی بات نہیں بلکہ یہ اس نوعیت کا معاہدہ ہی نہیں ہے ۔ نہ تو روس نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کو جہاز فراہم کرے گااور نہ ہی دفاعی نظام کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے ۔
جو معاہدہ (فوجی ٹیکنیکل) ہوا ہے اس کے تحت فقط اتنا ہو سکتا ہے کہ روس افغانستان کے ساتھ روسی ساختہ ہتھیاروں کی بحالی میں تعاون کرے ۔ افغانستان میں سوویت یونین دور کے چھوڑے ہوئے کچھ سکڈ میزائل ہیں اور شاید کچھ ہیلی کاپٹر بھی ہوں ۔ یوں روس ان کی بحالی میں مدد کرے گا اور بس۔ہوسکتا ہے چھوٹے موٹے ہتھیار بھی فراہم کردے۔اسی طرح فوج کی ٹریننگ کابندوبست اگر دونوں ممالک چاہیں تو ہوسکتا ہے۔خود الامارہ نے اس حوالے سے جو وضاحت جاری کی ہے ، اس سے خودبخود واضح ہوتا ہے لیکن نہ جانے اس کے باوجود کیوں چائے کی پیالی میں طوفان اٹھایا جارہا ہے ۔الامارہ نے طلوع نیوز کے حوالے سے لکھا ہے کہ ” امارت اسلامیہ کے وزیر دفاع مولوی محمد یعقوب مجاہد نے روس کے ساتھ کئے گئے معاہدے کے بارے میں کہا ہے کہ یہ کوئی دفاعی یا سیکورٹی معاہدہ نہیں بلکہ ایک فوجی ٹیکنیکل (ملٹری ٹیکنیکل) معاہدہ ہے‘‘ ۔روس کے طالبان کے ساتھ تعلقات کو پاکستان میں شک کی نظر سے نہیں دیکھاجانا چاہئے بلکہ پاکستان کی کوشش ہونی چاہئے کہ وہ دونوں زیادہ سے زیادہ قریب ہوں ۔ اس خطے میں امریکی فساد کی جڑ ثابت ہوئے ہیں۔ اس وقت امریکہ اور طالبان کے اچھے تعلقات ہیں اور طالبان روس یا چین کی طرف جائیں گے تو امریکہ سے دور ہوں گے ۔ روس بھی ان ممالک میں شامل ہے کہ جو افغانستان میں عسکریت پسند تنظیموں پر معترض ہیں اور چند روز قبل ہی اس نے اس حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا ۔یہی پوزیشن چین کی ہے اور چین کے ساتھ طالبان کی قربت اگر بڑھتی ہے تو پاکستانیوں کو خوش ہونا چاہئے کیونکہ چین کو بھی یہی اعتراض ہے ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس وقت امریکہ کو اس خطے میں امن نہیں چاہئے جبکہ روس اور چین امن چاہتے ہیں ۔ روس وسط ایشیا کو جنوبی ایشیا کیلئےٹریڈ روٹ بنانے کا خواہشمند ہے جبکہ چین پاکستان کے سی پیک کے ذریعے مڈل ایسٹ اور یورپ تک اور افغانستان کے راستے وسط ایشیا تک رسائی چاہتا ہے (اگرچہ چین براہ راست بھی وسط ایشیا کے ساتھ زمینی راستوں سے منسلک ہوچکا ہے لیکن افغانستان شاید پھر بھی نزدیک پڑتا ہے )لیکن امریکہ کے پاس ایسا کوئی آپشن نہیں ۔ وہ چاہتا ہے کہ خطے میں بدامنی رہے تاکہ چین اور روس آرام سے تجارتی سرگرمیاں نہ کرسکیں۔