بھلکڑ ہونے کے باعث میں ذہنی طور پر اپنے آپ سے خوش نہیں ہوں، نہ جانے کتنی دہائیاں گزر چکی ہیں جب میں یونیورسٹی سے ریٹائر ہوا تھا۔ یاد رکھنے کے لیے میرے پاس کچھ خاص نہیں ہے، جس دور میں، میں یونیورسٹی میں دوستوں کو سنی سنائی باتیں سناکر ششدر کردیا کرتاتھا، اس دور میں موبائل فون عالم وجود میں نہیں آیا تھا۔ تب مجھے ایک ہزار ایک سو دس ٹیلی فون نمبر یاد ہوتے تھے۔ کولیگ، دوست، احباب ٹیلی فون ڈکشنری دیکھنے اور نمبر تلاش کرنے کی بجائے مجھے نمبر ملانے کے لیے کہتے تھے، مثلاً دوست جب پانی کی قلت میں مبتلا ہوتے تھے اور ان کے باتھ روم کی ٹونٹیاں خشک ہوجاتی تھیں، تب وہ مجھ سے رجوع کرتے تھے، کہتے تھے بالم پانی والے کسی کام کے افسر سے نمبر ملائو اور اسے ہماری روداد سناکر پانی پانی کردو۔ میں فوراً پانی والے افسر سے نمبر ملاتا اور اسے دوستوں کی دردناک صورت حال سناکر پانی پانی کردیتا تھا۔ کچھ دیر میں میرے پیاسے کولیگ سیر آب ہوجاتے تھے۔ ان کے یہاں لگی ہوئی ٹونٹیوں سے دریا بہہ نکلتے تھے اور وہ لوگ اپنے بال بچوں سمیت پانی میں ڈبکیاں کھاتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ گزرے ہوئے زمانے کی ایک کتھا میں نے آپ کو سنائی ہے۔ اب حالات بہت بدل چکے ہیں۔ میں نے ٹینکر مافیا کے چیف کا ٹیلی فون نمبر جلی حروف میں گھر کی دیواروں پر لکھ دیا ہے۔ جب بھی ہم خشک سالی کا شکار ہوتے ہیں، میں فوراً ٹینکر مافیا کے چیف سے رابطے میں آتا ہوں اور اس کی تعریفوں کے پل باندھنے کے بعد اپنی بنجر بیابان زندگی کے دکھڑے سناتا ہوں اور رحم دل چیف کو رلا دیتا ہوں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے میٹھے پانی کا سمندر ہمارے گھروں کا رخ کرتا ہے۔ سردست یاد رکھنے کے لیے میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے، مگر بے انتہا بھلکڑ ہونا مجھے اچھا نہیں لگتا، لوگوں کے لیے مذاق بن گیا ہوں۔ ایک روز گھنٹوں سے میں سڑکوں کے چکر کاٹ رہا تھا۔ مجھے قطعی یاد نہیں آرہا تھا کہ میں کہاں رہتا ہوں اور میرا گھر کہاں ہے۔ ایسے میں ایک ہم عمر خاتون مسکراتے ہوئے میرے پاس آئیں، عجیب سی کشش تھی، اس عورت میں، مجھے لگ رہا تھا کہ میں اس خاتون سے واقف ہوں، میں اسے جانتا ہوں، مگر کوشش کرنے کے باوجود میں اسے پہچان نہ سکا۔ مجھے اپنے بھلکڑ ہونے پر افسوس ہوا، مسکراتے ہوئے خاتون نے کہا۔ ’’بالم بھلکڑ، کیسے ہو؟‘‘
مجھے تعجب ہوا، وہ میرا نام بھی جانتی تھی، میرے بھلکڑ ہونے سے وہ واقف تھی، میں نے کہا۔ ’’میں نے آپ کو پہچانا نہیں، آپ کون ہیں۔‘‘
وہ ہنس پڑی، کہا۔ ’’یونیورسٹی میں تم میرے لیے گانے گایا کرتے تھے۔ ہنسانے کے لیے تم مجھے گھسے پٹے لطیفے سنایا کرتے تھے۔‘‘ عاجز ہوتے ہوئے میں نے کہا۔ ’’مجھے کچھ یاد نہیں پڑتا، آپ کون ہیں؟‘‘ وہ کھل کھلاکر ہنس پڑی، کہا، ’’بالم بھلکڑ میں تمہاری بیوی ہوں، تمہارے چار بچوں کی ماں ہوں۔‘‘ حیرت سے میں نے پوچھا۔ ’’کہاں ہیں میرے چار بچے؟‘‘
’’ایک کینیڈا میں ڈاکٹر ہے، دوسرا آسٹریلیا میں ڈاکٹر ہے۔‘‘ میری بیوی نے کہا۔ ’’تمہارے دو بیٹے انجینئر ہیں، ایک امریکہ میں اور ایک برطانیہ میں ہے۔‘‘ میں کیسے اپنے بھلکڑپن سے سمجھوتا کرلوں؟ ایک نامور نیورولوجسٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔ ’’یہ کوئی بیماری نہیں ہے۔ یہ آپ کی عمر کا تقاضا ہے، آپ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ بہت کچھ بھولتے رہیں گے اور آخرکار سب کچھ بھلا دیں گے۔‘‘
میں نے نیورو لوجسٹ سے پوچھا۔ ’’کیا مجھے الزائمر ہورہا ہے؟‘‘’’عین ممکن ہے، مگر کچھ کہہ نہیں سکتے‘‘۔ نیورو لوجسٹ نے کہا۔ ’’تم سب کچھ بھلا دوگے، تمہیں کچھ بھی یاد نہیں رہے گا۔‘‘
اب آپ ہی بتلائیں کہ ایسے میں کوئی اپنے بھلکڑپن سے کیسے سمجھوتا کرسکتا ہے۔ اندر سے وجود خالی خالی محسوس ہونے لگتا ہے۔
میں آپ کو پاکستان کے ان چیدہ چیدہ وزیراعظموں کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جو جہاز میں سوار ہوتے ہوئے وزیراعظم ہوا کرتے تھے اور پھر جہاز سے اترتے ہوئے وزیراعظم نہیں رہتے تھے۔ ایک صاحب رات کا کھانا کھانے کے بعد وزیراعظم بنے، سو گئے، صبح اٹھے تو ناشتہ ان کی بیگم بنا رہی تھیں، پوچھنے پر بیگم نے بتایا کہ حضرت اب آپ وزیراعظم نہیں رہے، ایک صاحب کو کراچی کی صفائی کرانے کا بہت شوق تھا۔ میٹرک فیل تھے، مگر خود کو سول انجینئر سمجھتے تھے۔ وزیراعظم بن بیٹھے۔ شہر بھر کی بڑی بڑی سڑکیں کھدواکر برساتی نالے بنوانے کی حیرت انگیز مہم چلا دی۔ انہوں نے کراچی کو پہیہ جام شہر بنا دیا۔ نہ وہ انگریز کے دور کے پرانے نالے بند کروا سکے اور نہ نئے برساتی نالے بنواسکے۔ اس کے بعد وہ وزیراعظم نہیں رہے صرف اسمبلی کے مستقل غیر حاضر وڈیرے رکن رہے۔
میں ایسے تمام وزیراعظموں کے مزے دار واقعے سنانا چاہتا ہوں، مگر کیا کروں کہ مجھے کچھ بھی باوثوق یاد نہیں رہا۔ میں ان کے اتے پتے تک بھول بیٹھا ہوں۔ میں اپنی شناخت، اپنا نام تک بھول بیٹھا ہوں۔ ایک بوڑھی خاتون بضد ہیں کہ وہ میری بیوی ہیں، میں انکو یونیورسٹی میں گانے سنایا کرتا تھا اور وہ میرے چار بچوں کی ماں ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ میرے چار بچے کہاں ہیں؟ میں ان کو بھول بیٹھا ہوں یا وہ مجھے بھول بیٹھے ہیں۔