شاعر: منیر راہی
صفحات: 528، قیمت: 800روپے
ناشر: ومال ہائوس، لیڈیز پارک، کبیر والا، ضلع خانیوال۔
فون نمبر: 4436074 - 0308
زیرِ نظر کتاب کے مصنّف منیر راہی’’سراپا محبّت‘‘ ہیں، اِسی لیے اُن کی ہر کتاب میں محبّت کی خوش بُو بسی ہوئی ہے۔ اِس نفرت زدہ دَور میں محبّت کی بات کرنے والا ہماری نگاہ میں ولی کا درجہ رکھتا ہے۔ منیر راہی کے تین شعری مجموعے اور تین ہی نثری مجموعے منظرِعام پر آچُکے ہیں، جو سب محبّت کے جذبات سے عبارت ہیں۔ زیرِ نظر کتاب کا پیش لفظ اُنہوں نے خُود لکھا ہے، جو تقریباً40 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں اُنہوں نے اپنی نجی زندگی اور ادبی جہتوں کا بھرپور احاطہ کیا ہے۔
اِن سطور سے بھی منیر راہی کے جذبات کا اظہار ہوتا ہے۔’’ مَیں شاعری سے بھرا ہوا ہوں، البتہ اسے پنپنے کے لیے ظرف کی ضرورت ہے۔ مَیں سوچتا ہوں، ہر شخص میں یہ حوصلہ ہو، جو کہے، یہ تو خُوب ہے، لیکن اللہ زورِ قلم اور زیادہ کرے۔ بس یہی میری کہانی ہے اور یہی میری شاعری ہے۔‘‘ زیرِ نظر مجموعے میں ان کی غزلوں کے علاوہ کچھ نظمیں بھی ہیں اور دونوں اصناف کا آہنگ ایک ہی ہے۔
محبّت کے خطوط ایک’’محبّت نامہ‘‘ ہے۔ ان کی کتابیں اُن لوگوں تک بھی پہنچنی چاہئیں، جو نفرت کے کاروبار کو محورِ زندگی بنائے ہوئے ہیں۔ یہ کتاب اُن لوگوں کے لیے ایک تحفہ ہے، جن کے دل محبّتوں سے سرشار ہیں۔ منیر راہی کی زود گوئی اُن کی کتابوں کی ضخامت سے عیاں ہے اور وہ اپنی کتابوں کے ذریعے محبّت پھیلانا چاہتے ہیں۔ اِس کتاب سے نئی نسل کو بھی استفادہ کرنا چاہیے، جو ایک نفرت زدہ ماحول میں زندگی گزار رہی ہے۔