• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’ہیں ہیں… یہ کیا، ہر سال تین جولائی کو بعض افراد میرے خلاف غُلغُلہ کیوں شروع کر دیتے ہیں کہ’’پلاسٹک بیگز یعنی پولی تھین کی تھیلیوں کا استعمال بند کروایا جائے۔‘‘ دراصل، یہ شوشا سب سے پہلے 2008 ء میں’’زیرو ویسٹ یورپ‘‘ نامی تنظیم نے چھوڑا تھا، جس کا مقصد یورپ کو پلاسٹک کے تھیلوں سے پاک کرنا تھا، پھر یہ مہم رفتہ رفتہ پوری دنیا میں پھیلتی چلی گئی اور آج لاکھوں افراد اس کا حصّہ بن کر مجھے ملامت کرتے نظر آتے ہیں۔

ناقدین مجھ پر لاکھ نکتہ چینی کریں، لیکن میرے قدردان میری منفرد خصوصیات اور فضائل کے دل دادہ ہیں، جب ہی تو ایک بڑی تھیلی میں سینت کر رکھے گئے بیسیوں چھوٹے شاپرز ہر اسٹور اور کچن میں موجود ہوتے ہیں۔ آج میں اپنا مقدمہ عوام کے سامنے رکھنا چاہتی ہوں۔ آپ میرے اور اپنے مستقبل کے لیے میرٹ پر جو بھی حکم صادر کریں گے، مَیں بخوشی سر تسلیمِ خم کر کے قبول کر لوں گی۔

وہ غالب نے کہا ہے ناں کہ؎’’ہم سخن فہم ہیں، غالب کے طرف دار نہیں۔‘‘ مجھے آپ کی فہم و فراست پر پورا بھروسا ہے کہ آپ غیر جانب داری سے جو بھی فیصلہ سُنائیں گے، اُسے اپنی روز مرّہ زندگی میں لاگو کرنے کے لیے بھی کردار ادا کریں گے۔ اپنے منہ میاں مٹھو بننا تو اچھا نہیں لگتا، مگر کیا کروں کہ کچھ افراد کو میری خوبیوں سے زیادہ میری خرابیاں نظر آتی ہیں، سو، مجبوراً اُنہیں اپنے محاسن گنوانے پڑ رہے ہیں۔ بہرکیف، قصّہ کچھ یوں ہے کہ میرا خاندان، یعنی پلاسٹک ساختی طور پر لمبی زنجیروں والی پولی مرز سے بنتا ہے، جو زیادہ تر خام تیل، پیٹروکیمیکلز اور قدرتی گیس سے تیار کیے جاتے ہیں۔

یہ جدید کیمیائی صنعت میں بہت ہی سَستی اور عام شے ہے۔ میرے خاندان کے تمام اراکین اِس قدر اہمیت حاصل کر چُکے ہیں کہ کسی نہ کسی صُورت ہر وقت انسانوں کی ہم راہی کا شرف حاصل کرتے ہیں۔ حکیم مومن خان مومن نے بھی؎ ’’تم میرے پاس ہوتے ہو گویا… جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا‘‘ جیسا شعر اِسی لیے کہہ دیا تھا کہ اُن کے زمانے میں پلاسٹک موجود نہیں تھا۔1907ء میں یعنی تقریباً120 سال پہلے ایجاد ہوا پلاسٹک فی زمانہ انسانی زندگی میں ایسے در آیا ہے کہ اتنی شُدھ تنہائی کا تصوّر بھی محال ہے۔

کوئی اور ہستی ہو نہ ہو، پلاسٹک سے بنی کوئی نہ کوئی چیز آپ کی خدمت کے لیے دائیں، بائیں ضرور موجود ہو گی، وگرنہ مَیں تو ضرور قرب و جوار میں’’مَیں اُڈی اُڈی جاواں، ہوا دے نال‘‘ گنگناتی فضا میں رقصاں آپ کے خیالات کا نازک سلسلہ توڑنے کو حاضر ہوں گی۔ میرے عملی اور اقتصادی فوائد کے پیچھے میری مینوفیکچرنگ اور دیگر خصوصیات ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مَیں دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی اشیاء میں سے ایک ہوں۔جی ہاں، دنیا ہر ایک منٹ میں تقریباً10 لاکھ ایک بار استعمال کے بعد بے کار ہونے والے پلاسٹک بیگز استعمال کرتی ہے۔

میرا پہلا وصف تو یہ ہے کہ مَیں انتہائی سَستی اور کفایتی(cost effective ) ہوں۔ اِسی امتیاز نے مجھے چھوٹے دُکان داروں سے لے کر بڑی ہائپر مارکیٹس تک کاروباری افراد کی اوّلین پسند بنا دیا ہے۔کاغذ یا کپڑے کے تھیلوں کی تیاری پر آنے والی لاگت کے مقابلے میں، مَیں انتہائی کم قیمت اور منافع بخش انتخاب ہوں۔ میری ہمہ گیر مقبولیت میں یہ عُنصر کلیدی ہے کہ مَیں اپنی ہلکی پُھلکی ساخت کے باوجود کافی مضبوط اور اپنے وزن سے کئی گُنا زیادہ وزن اُٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ مَیں آسانی سے نہیں پَھٹتی، جب کہ میرے مقابلے میں کاغذ کے تھیلے وزن میں معمولی اضافہ بھی برداشت نہیں کر پاتے اور بیچ بازار داغِ مفارقت دے جاتے ہیں۔

میری ایک خصوصیت واٹر پروف بھی ہونا ہے۔ مَیں پانی یا نمی کو اندر نہیں جانے دیتی۔ گیلی اور مائع اشیاء جیسے گوشت، دودھ، دہی وغیرہ کو کہیں لے جانا ہو، تو مجھ سے بہتر اور سہل کوئی دوسرا سَستا آپشن نہیں۔ اور کیا بھول گئے کہ اچانک بارش شروع ہو جائے، تو عوام کی اکثریت اپنے موبائل فونز اور بٹوے وغیرہ کو پانی سے بچانے کے لیے میری فوری اور مفت خدمات حاصل کرنے میں ذرا بھر توقف نہیں کرتی۔ کچھ کرم فرما تو بڑے سائز کے پولی تھن بیگز کو چھتری کی طرح استعمال کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ کبھی اِس طرف بھی دھیان دیا کہ مَیں کتنی لچک دار اور وزن میں ہلکی پُھلکی ہوں اور میری نقل و حمل کتنی آسان ہے۔

مجھے ہزاروں کی تعداد میں اسٹور کرنے کے لیے بھی انتہائی کم جگہ درکار ہوتی ہے، جب کہ کاغذ یا کپڑے کے اِتنے ہی تھیلے رکھنے کے لیے بڑے گودام کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ میرے کثیر المقاصد استعمال اور ورسٹائل ہونے پر بھی کبھی غور کریں۔ فیکٹریز میں مختلف اشیاء کو دھول مٹّی سے بچانے کے لیے ان کی ایئر ٹائٹ پیکنگ کا مرحلہ ہو، تو پیکجنگ کے لیے مجھ خاکسار ہی کو یاد کیا جاتا ہے۔ گھروں میں کپڑے، جوتے، کمبل غرض ہر طرح کے چھوٹے بڑے سامان کو گرد، نمی اور کیڑوں سے بچانے کے لیے بغیر کسی تردّد مجھے اُن پر لپیٹ دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ دفاتر اور گھروں میں ڈسٹ بن کے اندر لائنر کے طور پر بھی بے جھجک مجھے چڑھا دیا جاتا ہے۔

پھر یہ کہ میری حفظانِ صحت کے سلسلے میں بھی خدمات فراموش کرنا ممکن نہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء کو گردو غبار، جراثیم اور آلودگی سے بچانے کے لیے مَیں ایک انتہائی مؤثر اور جراثیم سے پاک پیکنگ فراہم کرتی ہوں اور چیزوں کی خستگی کو بھی تا دیر برقرار رکھتی ہوں۔

کئی سائنسی تحقیقات کے مطابق، ایک پلاسٹک بیگ بنانے کے لیے کپڑے یا کاغذ کے تھیلے کے مقابلے میں بہت کم توانائی اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے، تو اِس لحاظ سے میرا مینوفیکچرنگ پراسس کم وقت میں زیادہ پیداوار دیتا ہے۔ نیز، میرا جیسا تنوّع خال خال ہی نظر آتا ہے۔ مَیں صارفین کی ضرورت اور ترجیح کے مطابق مختلف رنگ، سائز اور ڈیزائن میں ڈھل جاتی ہوں۔ کچھ کاروباری افراد مجھ پر اپنے برانڈ لوگو، نام یا شُکریے کے پیغامات بھی پرنٹ کروا لیتے ہیں۔

مَیں مانتی ہوں کہ مجھ میں کچھ خامیاں بھی ہیں، جنہوں نے میرے کمالات گہنا دیئے ہیں۔ تاہم، اِس ضمن میں صرف اِتنا ہی کہہ سکتی ہوں کہ کانٹے تو گلاب کے ساتھ بھی ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ بہت مشکل امر ہے، مگر پھر بھی مَیں بوجھل دل کے ساتھ اپنے نقائص کا بلا کم و کاست علانیہ اقرار کرتی ہوں۔ مَیں اپنے عیوب کے دفاع میں کوئی توجیہہ یا صفائی پیش نہیں کر سکتی۔

اِس کجی کا تو مجھے بھی بہت افسوس ہے کہ مَیں انسانی صحت کے لیے محفوظ نہیں ہوں۔ جب مجھ میں گرم کھانا مثلاً سالن، روٹی یا چائے ڈالی جاتی ہے، تو میرے زہریلے کیمیکلز (Bisphenol A Phthalates) کھانے میں شامل ہو جاتے ہیں، جو سرطان، جگر کی بیماریوں یا ہارمونز کے بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔

اِس بات کی تردید بھی مشکل ہے کہ جب لوگ پلاسٹک کا کچرا تلف کرنے کے لیے اُسے جلاتے ہیں، تو مجھ سے انتہائی خطرناک گیسز خارج ہوتی ہیں، جو سانس کی بیماریوں اور پھیپھڑوں کے سرطان کا باعث بنتی ہیں۔ مَیں اکثر اِس سبب سے بھی پریشان ہو جاتی ہوں کہ مَیں نہ چاہتے ہوئے بھی آبی اور زمینی حیات کے لیے سنجیدہ خطرہ ہوں۔ کچرے کے ڈھیر پر منہ مارتی گائیں یا دوسرے بے زبان جانور، خوراک کے ساتھ مجھے بھی نگل لیتے ہیں۔ مَیں اُن کے معدے میں پھنس کر تکلیف دہ موت کا موجب بن جاتی ہوں۔

اِس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ہر سال لاکھوں ٹن پلاسٹک سمندروں میں گرتا ہے، جسے کچھوے، مچھلیاں، جیلی فش یا اپنی خوراک سمجھ کر کھا لیتے ہیں۔ میرا جرم یہ ہے کہ مَیں اُن کے نظامِ انہضام میں رکاوٹ بن جاتی ہوں۔ میری زندگی کا یہ تضاد بہت ہی عجیب ہے۔ طویل عرصۂ حیات کے باوجود، میرے استعمال کا اوسط دورانیہ انتہائی مختصر، محض 12 سے15 منٹ ہے۔ مَیں قدرتی طور پر خود بخود ختم نہیں ہوتی۔ مجھے گلنے یا مٹّی میں تحلیل ہونے کے لیے سیکڑوں برس(400 سے لے کر ایک ہزار سال تک) کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

مَیں مکمل طور پر ختم ہونے کی بجائے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہوں، جنہیں’’مائکرو پلاسٹک‘‘ کہتے ہیں۔ مجھے یہ بتاتے شرمندگی محسوس ہوتی ہے مگر ورلڈ وائیڈ فنڈ فور نیچر( WWF ) کی جانب سے نیو کیسل یونی ورسٹی، آسٹریلیا کی عالمی تحقیق نے اندازہ لگایا ہے کہ انسان لاشعوری طور پر ہر ہفتے لگ بھگ پانچ گرام تک مائکرو پلاسٹک اپنے اندر نگل لیتا ہے، جو وزن میں ایک عام کریڈٹ کارڈ کے برابر ہوتی ہے۔ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ پلاسٹک ماحول میں اِس حد تک پھیل چُکا ہے کہ اس کا جسم میں پہنچنا روزمرّہ کا معمول بن گیا ہے۔

اِس پلاسٹک کی بڑی مقدار، تقریباً 90 فی صد پینے کے پانی اور باقی خوراک کے ذریعے جسم میں داخل ہوتی ہے۔ یہی مائکرو پلاسٹک خرابی کی جڑ ہے، جو پانی، مٹّی اور بالآخر خوراک کے ذریعے جانوروں اور انسانوں میں داخل ہو کر شدید نقصان کا باعث بنتی ہے۔ یہ اعتراف بھی کرتے ہی بنے گی کہ جب مَیں مٹّی میں دفن ہو جاؤں، تو پانی اور ہوا کو زمین کے اندر جذب ہونے سے روک دیتی ہوں، جس سے مٹّی کی زرخیزی ختم اور پودوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔

مجھ پر یہ الزام بھی درست ہے کہ شہروں میں میرا بڑا اور فوری نقصان سیوریج سسٹم کی تباہی کی صُورت ظاہر ہوتا ہے۔ میرے گٹروں میں پھنس جانے سے پانی کا بہاؤ رک جاتا ہے، جس کے نتیجے میں معمولی بارش کے بعد سڑکیں تالابوں اور گلیاں جوہڑوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ گندا پانی گھروں میں داخل ہو جاتا ہے۔ مجھ پر انگشت نُمائی کرنے والوں کو میری سیاحت پسندی پر بھی اعتراض ہے۔

یہ ادبی اور جمالیاتی ذوق رکھنے والے خود تو جھوم جھوم کے غالب کے شعر؎’’ مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں…ایک چکر ہے مرے پانو میں زنجیر نہیں‘‘ کا ورد کرتے رہتے ہیں، لیکن مجھ پر تنقید کرتے ہیں کہ مَیں ہر جگہ گھومتی پِھرتی، شہروں کی دل کشی خراب کرتی ہوں۔ خدارا! یہ نہ سمجھیے گا کہ مَیں اِتنی کم ظرف ہوں کہ دوسروں کی غیبت کر رہی ہوں، میرا مقصد تو صرف آپ کوخبردار کرنا ہے۔

عام طور پر کاغذ یا کپڑے کے تھیلوں کو مجھ پر فوقیت دی جاتی ہے، مگر اُن کی بھی کچھ قباحتیں ہیں۔ کاغذ کے تھیلے درختوں کی کٹائی، پانی اور توانائی کے بے پناہ استعمال کے باوجود کم زوری اور نمی کی وجہ سے پریشان کرتے ہیں، جب کہ کپڑے کے تھیلے بنانے میں بہت زیادہ پانی، زمین اور توانائی خرچ ہوتی ہے۔ یہ منہگے ہونے، بار بار دھونے کی زحمت اور ہر جگہ ساتھ لے جانے کی سُستی کی وجہ سے مشکل کا باعث بنتے ہیں۔

معاملے کی درست تصویر کشی کے لیے یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ دنیا میں ہر سال تقریباً5 ٹریلین پلاسٹک بیگز استعمال ہوتے ہیں، جب کہ پاکستان میں میری سالانہ پیداوار55 ارب سے زائد ہے۔ اگر اس کا اوسط نکالا جائے، تو مُلک بھر میں روزانہ15 کروڑ شاپرز تیار اور بے دریغ استعمال ہو رہے ہیں۔

وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی اور پاکستان انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجینسی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں شاپنگ بیگز اور پلاسٹک پیکجنگ تیار کرنے والے یونٹس کی تعداد8 ہزار سے11 ہزار کے درمیان ہے، جن میں سے اکثر کاٹیج انڈسٹری گھریلو یا چھوٹے پیمانے کی صنعت کے زمرے میں آتے ہیں۔

اِس صنعت سے تقریباً ایک لاکھ، ساٹھ ہزار افراد براہِ راست اور چھے لاکھ سے زائد بالواسطہ اپنا روزگار کما رہے ہیں۔ پولی تھین بیگز کے خلاف عالمی مہم میں دنیا کے100 سے زائد ممالک مکمل یا جزوی طور پر مجھ پر پابندی عائد کر چُکے ہیں، جب کہ دیگر کئی اس پر سنجیدگی سے غور کر کے مرحلہ وار پابندی نافذ کر رہے ہیں۔ بنگلا دیش وہ پہلا مُلک تھا، جس نے 2002ء میں مجھ پر مکمل پابندی لگائی۔ اِس معاملے میں کچھ افریقی ممالک جیسے روانڈا، کینیا، تنزانیا اور یوگنڈا باقی دنیا پر سبقت لے گئے۔

مغربی ممالک بھی مختلف طریقوں اور حیلے بہانوں سے میرے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنے پر کمر بستہ ہیں، حتیٰ کہ آئرلینڈ والوں نے تو مجھ پر ایک ایسا ٹیکس عائد کیا کہ چند ہی ماہ کے اندر شہریوں نے میرا استعمال90 فی صد تک کم کر دیا۔ پاکستان میں بھی ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک اور شاپنگ بیگز کے خلاف وفاقی اور صوبائی، دونوں سطحوں پر باقاعدہ قانون سازی کی گئی ہے، بلکہ وقت کے ساتھ، یہ قوانین مزید سخت بنائے جا رہے ہیں، اگرچہ ان پر عمل درآمد ایک امرِ محال ہے، لیکن میرے محتسبین کو مُژدہ ہو کہ؎ اے مریضِ الم ! تسلّی رکھ… چارہ گر کر رہے ہیں تدبیریں۔

مَیں سمجھتی ہوں کہ مجھے یک دَم زندگی سے خارج کرنا ممکن نہیں۔ میرے تمام فوائد کا حصول تب تک ہی ممکن ہے، جب میرا استعمال بے جا اسراف سے گریز کرتے ہوئے ذمّے داری سے کیا جائے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ میری پیچیدہ ری سائیکلنگ کا نظام ابھی پاکستان میں فعال نہیں ہے۔ تدریجی بنیادوں پر میرا استعمال محدود کر کے انسانی صحت، سمندری حیات اور ماحول بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ ماہرین کاغذ کی بجائے کپڑوں کے ایسے تھیلوں پر زور دیتے ہیں، جو کئی بار استعمال ہو سکیں، جو عملی طور پر اِتنا مشکل بھی نہیں ہے۔

مغرب میں تو نوجوانوں کی اکثریت کمر پر بیگ پیک لادے یا شان بے نیازی سے ماحول دوست کینوس، کاٹن یا جوٹ یعنی ٹاٹ کے منفرد ٹوٹ بیگ ( Tote bag ) بغل میں دبائے سڑکوں پر چہل قدمی کرتی نظر آتی ہے، جو ہاتھ میں شاپر لٹکانے کے مقابلے میں زیادہ نفیس، فیشن ایبل اور اسٹائلش لگتا ہے۔

بہرحال، مَیں نے سب کے سامنے نہایت دیانت داری سے اپنا دل کھول کے رکھ دیا ہے اور اسے میری طرف سے اتمامِ حجت ہی سمجھیں۔ اب فیصلے اور عمل کی طاقت آپ کے ہاتھ ہے کہ؎’’ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں…مانو نہ مانو جانِ جہاں! اختیار ہے۔‘‘