ایران کے شہید رہبرِ اعلیٰ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی سرکاری آخری رسومات کا باقاعدہ آغاز تہران کی مصلیٰ مسجد اور اس سے ملحقہ شاہراہوں پر ہو گیا ہے۔
خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق دارالحکومت تہران میں لاکھوں سوگواروں کی آمد کے پیشِ نظر عظیم نماز گاہ کمپلیکس کے دروازے کھول دیے گئے ہیں، جہاں لوگ شہید رہبرِ اعلیٰ کو آخری خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کون پڑھائے گا یہ سوال ہر ایک کے لیے اہم ہے کیونکہ شہید آیت اللّٰہ خامنہ ای کے صاحبزادے اور موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنے والد کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہیں کریں گے، تاہم اس حوالے سے تاحال سرکاری طور پر کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
یہ بھی نہیں بتایا گیا ہے کہ تہران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ پڑھانے والی شخصیت ایک ہی ہو گی یا مختلف ہوں گی۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی نمازِ جنازہ آیت اللّٰہ جعفر سبحانی پڑھائیں گے۔
تاریخی لحاظ سے دیکھیں تو یہ ضروری نہیں کہ سپریم لیڈر کے انتقال کی صورت میں ان کی نمازِ جنازہ نئے سپریم لیڈر ہی نے پڑھائی ہو۔
3 جون 1989ء کو جب ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خمینی کا انتقال ہوا تو 6 جون کو ان کی نمازِ جنازہ سید محمد رضا گُلپائیگانی نے پڑھائی تھی، وہ حوزہ علمیہ قم کے سرپرست تھے جبکہ آیت اللّٰہ خامنہ ای صفِ اوّل ہی میں ان کے بالکل دائیں جانب موجود تھے تاہم اس وقت تک آیت اللّٰہ خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب نہیں کیا گیا تھا۔
رہبرِ اعلیٰ کے طور پر آیت اللّٰہ خامنہ ای کا انتخاب 6 اگست 1989ء کو یعنی آیت اللّٰہ خمینی کی نمازِ جنازہ کے ٹھیک 2 ماہ بعد ہوا تھا۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے رواں برس 28 فروری کو مشترکہ حملے میں آیت اللّٰہ خامنہ ای کی شہادت کے سبب 8 مارچ کو یعنی تقریباً 1 ہفتے ہی میں نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کر لیا گیا تھا تاہم شہید سپریم لیڈر کی فوری تدفین نہیں کی گئی تھی۔
شہید آیت اللّٰہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کے اجتماعات کا آج سے باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس کے بعد 4 سے 6 جولائی تک تہران میں اور 7 جولائی کو قم میں نمازِ جنازہ کے مختلف اجماعات ہوں گے جبکہ 8 جولائی کو جسدِ خاکی عراق لے جایا جائے گا جہاں نجف اور کربلا میں نمازِ جنازہ کے اجتماعات کے بعد اسی شب میت واپس لائے جانے کا پروگرام ترتیب دیاگیا ہے۔
9 جولائی کو آخری نمازِ جنازہ مشہد میں ادا کی جائے گی اور پھر وہیں ان کی تدفین کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شہید آیت اللّٰہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں 1 کروڑ سے زائد افراد کی متوقع شرکت کے موقع پر نئے سپریم لیڈر کی سیکیورٹی یقینی بنانا بہت بڑا چیلنج ہو گا کیونکہ عوام ناصرف شہید لیڈر کا آخری دیدار کرنا چاہتے ہیں بلکہ نئے سپریم لیڈر کی جھلک بھی دیکھنے کو بے تاب ہیں۔
امکان یہی ہے کہ نئے سپریم لیڈر کی سیکیورٹی ان کے عوامی دیدار پر مقدم رکھی جائے گی۔