• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ ایک ایسی جنگ ہے، جو کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ یہاں ہر رات ایک راز جنم لیتا ہے اور ہر صبح ایک راز بے نقاب ہوتا ہے۔ امریکا اور میکسیکو کی سرحد پر ہزاروں کلومیٹر تک پھیلی یہ لکیر محض دو ممالک کو جُدا نہیں کرتی، اُمید اور مایوسی، قانون اور جرم، نگرانی اور فرار کے درمیان ایک مستقل معرکے کی علامت بھی بن چُکی ہے۔

فریقین نے خُود کو ٹیکنالوجی سے مسلّح کیا ہے اور جدّت پسندی اِس جنگ کا لازمی جزو بن چُکی ہے۔ یہاں ایک طرف بارڈر پیٹرول کے اہل کار جدید ترین ٹیکنالوجی، ڈرونز، سینسرز اور دیواروں کے سائے میں سرحد کی حفاظت کے لیے سرگرم ہیں، تو دوسری جانب اسمگلر اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس ہر روز نت نئے طریقے اور نئی حکمتِ عملی آزماتے ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے یہ ایک نہ ختم ہونے والا شطرنج کا کھیل ہو، جس میں ایک چال کے جواب میں دوسری چال فوراً تیار ہوتی ہے۔ دیواریں بلند ہوتی جاتی ہیں، مگر راستے تلاش کرنے کی کوششیں بھی رُکتی نہیں۔ زمین کے اوپر قانون کی نگاہیں ہیں اور زمین کے نیچے فرار کی اُمیدیں۔

امریکا/میکسیکو سرحد پر اسمگلرز اور بارڈر پیٹرول فورس کا کھیل کبھی ختم نہیں ہوتا، صرف اس کے کردار اور طریقے بدلتے رہتے ہیں۔ یہ وہ محاذ ہے، جہاں ٹیکنالوجی، عزم اور چالاکی روز ایک دوسرے کو للکارتے ہیں۔ یہاں روزانہ سیکڑوں کہانیاں جنم لیتی ہیں اور سب سے حیرت انگیز کہانیاں وہ ہیں، جو زمین کے اوپر نہیں، زمین کی تہہ میں جنم لیتی ہیں۔ جی ہاں، یہ وہ زیرِ زمین سرنگیں ہیں، جو اس بارڈر کو دنیا کے دیگر ممالک کی سرحدوں سے ممتاز کرتی ہیں۔ سرحد کے دونوں جانب جہاں سورج روز طلوع ہوتا ہے، وہیں اِس قدیم مقابلے کا آغاز بھی ہو جاتا ہے۔

امریکا، میکسیکو سرحد تقریباً1954 میل طویل ہے۔ جنوب مغربی بارڈر پر امریکی کسٹم اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے اہل کاروں کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جہاں ان کی ذمّے داریوں میں غیر قانونی تارکینِ وطن کا امریکا میں داخلہ روکنے کے علاوہ ڈرگ کارٹیلز کی جانب سے بنائی جانے والی جدید سرنگوں کا سراغ لگانے جیسے چیلنجز بھی موجود ہیں۔ ہر سرنگ ایک مکمل کہانی ہے۔اسے بنانے کے منصوبے سے لے کر پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں کتنے ہی دماغ مل بیٹھتے ہیں، کتنے مزدور، انجینئرز اور کاریگر اپنا حصّہ ڈالتے ہیں۔ یہ ایک عجیب و غریب دنیا ہے، جس کے اصول بھی اپنے ہیں اور قواعد بھی۔ اربوں ڈالرز کی بلیک اکانومی ان سرنگوں سے وابستہ ہے۔

امریکا/ میکسیکو سرحد کے نیچے موجود سرنگیں(Underground Border Tunnels) دنیا کے سب سے جدید اور پیچیدہ اسمگلنگ نیٹ ورکس میں شمار ہوتی ہیں۔ یہ سرنگیں بین الاقوامی سرحد کے نیچے خفیہ طور پر تعمیر کی جاتی ہیں تاکہ منشیات، اسلحہ، نقد رقم اور انسانوں کو سرحدی باڑ، کیمروں، سینسرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی سے بچاتے ہوئے ایک مُلک سے دوسرے مُلک منتقل کیا جا سکے۔ یہ انسانوں کے ہاتھوں کھودی گئی گزرگاہیں ہیں، جو امریکا اور میکسیکو کے درمیان سرحد کے نیچے بنائی جاتی ہیں۔

کچھ سرنگیں انتہائی سادہ اور ہاتھوں سے کھودی جاتی ہیں، جب کہ بعض اِتنی جدید ہیں کہ ان میں بجلی، روشنی، ریل کی پٹریاں، وینٹی لیشن سسٹم، لفٹ اور نکاسیٔ آب کے نظام بھی موجود ہوتے ہیں۔ انہیں محض سرنگیں نہیں، زیرِ زمین ٹرانسپورٹیشن سسٹم بھی قرار دیا جاتا ہے۔ کچھ سرنگیں سادہ ہوتی ہیں، جو ہاتھوں سے کھودی جاتی ہیں۔ اُن میں روشنی کا نظام نہیں ہوتا، مضبوط ڈھانچا یا سپورٹ نہیں ہوتی اور عموماً ایسی سرنگیں عارضی استعمال کے لیے بنائی جاتی ہیں۔

اکتوبر2020 ء میں نوگالس (Nogales) میں دریافت ہونے والی سرنگ تقریباً10 فٹ لمبی تھی اور اس میں روشنی یا ہوا کی نکاسی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ جدید سرنگوں میں مضبوط دیواریں اور چھت ہوتی ہے۔ ان سرنگوں میں بجلی کی وائرنگ، وینٹی لیشن سسٹم، ریل گاڑی یا ٹرالی کے لیے پٹریاں، ہائیڈرولک لفٹ اور نکاسیٔ آب کے پمپ تک موجود ہوتے ہیں۔ اِس طرح کی ایک سرنگ اوٹے میسا (Otay Mesa) کیلی فورنیا میں دریافت کی گئی تھی، جس میں ریل سسٹم، وینٹی لیشن اور بجلی کا مکمل نظام موجود تھا۔

ان سرنگوں کا بنیادی مقصد سرحدی سیکیوریٹی کو چکما دینا ہوتا ہے۔ یہ سرنگیں دونوں ممالک کے درمیان سخت ترین حفاظتی حصار اور دیواروں کو بائی پاس کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔ سرحد پر نصب جدید ترین ٹیکنالوجی، تھرمل کیمروں، ڈرونز اور فزیکل دیواروں سے بچنے کے لیے کارٹیلز زمین کے نیچے کا راستہ چُنتے ہیں۔ یہ سرنگیں عام طور پر میکسیکو کی طرف کسی گودام یا گھر سے شروع ہوتی ہیں اور امریکی سرحد کے اندر کسی صنعتی علاقے یا رہائشی مکان میں جا کر کُھلتی ہیں۔

اِس طرح کارٹیل سرحد پر موجود بارڈر پیٹرولنگ فورس کی نظروں میں آئے بغیر کام کرتے ہیں۔ زمین کی گہرائی میں ہونے کی وجہ سے یہ سرنگیں عام ریڈار یا سینسرز کی گرفت میں نہیں آتیں۔ ایک بار سرنگ بن جائے، تو یہ کارٹیل کے لیے ایک نجی ہائی وے کی طرح کام کرتی ہے، جہاں وہ اپنی مرضی کے وقت اور محفوظ طریقے سے سامان منتقل کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ان سرنگوں کا بنیادی مقصد منشیات کی اسمگلنگ ہے، لیکن ان کا استعمال دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے بھی ہوتا ہے۔

بڑے پیمانے پر منہگی منشیات میکسیکو سے امریکا بھیجی جاتی ہیں۔ امریکا میں منشیات فروخت ہونے کے بعد حاصل ہونے والا اربوں ڈالرز کا کیش اور جدید امریکی اسلحہ اِنہی سرنگوں کے ذریعے واپس میکسیکو منتقل کیا جاتا ہے۔ کچھ مخصوص اور محفوظ سرنگوں کو ہائی پروفائل لوگوں یا غیر قانونی تارکینِ وطن کو سرحد پار کروانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جدید سرنگیں محض اندھیری غاریں نہیں ہوتیں، بلکہ انجینئرنگ کا ایک بہترین(اور مجرمانہ) نمونہ ہوتی ہیں، جنہیں چلانے کے لیے باقاعدہ ایک نظام کام کرتا ہے۔

سرنگوں کے فرش پر لوہے کی پٹریاں(Rails) بچھائی جاتی ہیں، جن پر خودکار یا دستی ٹرالیاں چلائی جاتی ہیں تاکہ سیکڑوں کلو وزنی سامان کم وقت میں ایک سے دوسری طرف منتقل کیا جا سکے۔ زمین کے نیچے آکسیجن کی کمی پوری کرنے اور زہریلی گیسز سے بچنے کے لیے بڑے بڑے پائپس اور ایگزاسٹ فینز کے ذریعے ہوا کا باقاعدہ نظام بنایا جاتا ہے۔ پوری سرنگ میں بجلی کے تار دوڑائے جاتے ہیں اور ایل ای ڈی (LED) لائٹس لگائی جاتی ہیں تاکہ کام کرنے والوں کو اندھیرے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

سرنگ کو زیرِ زمین پانی کے رسائو سے بچانے کے لیے واٹر پمپ لگائے جاتے ہیں، جو پانی باہر نکالتے رہتے ہیں۔ کارٹیلز ان سرنگوں کی تعمیر کے لیے بھاری سرمایہ کاری کرتے ہیں اور باقاعدہ ماہرین(کوالی فائیڈ سِول انجینئرز اور مائننگ مائلڈز) کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ سرنگیں بنانے کے لیے سرحد کے دونوں اطراف ایسے علاقوں کا انتخاب کیا جاتا ہے، جہاں زمین نرم ہو (جیسے کیلی فورنیا کا سین ڈیاگو یا ایریزونا کا نوگالیس علاقہ)۔ میکسیکو کی طرف کسی گودام کے اندر کُھدائی شروع کی جاتی ہے تاکہ باہر کسی کو شک نہ ہو۔

کھدائی کے لیے الیکٹرک ہیمرز، ڈرلنگ مشینری اور بعض اوقات روایتی اوزاروں کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ شور کم سے کم ہو اور امریکی سینسرز کو پتا نہ چلے۔ سرنگ بناتے وقت سب سے بڑا چیلنج کُھدائی سے نکلنے والی ٹنوں مٹّی کو چُھپانا ہوتا ہے۔ کارٹیلز اِس مٹّی کو بند گوداموں کے اندر ہی ڈمپ کرتے ہیں یا رات کے وقت ٹرکوں کے ذریعے خاموشی سے باہر منتقل کرتے ہیں۔

سرنگ کو بیٹھنے یا گرنے سے بچانے کے لیے اس کی چھت اور دیواروں کو لکڑی کے شہتیروں یا کنکریٹ کے پلرز لگا کر مضبوط کیا جاتا ہے۔امریکی اور میکسیکن حکّام ان سرنگوں کو تلاش کرنے کے لیے اب (Ground Penetrating Radar) اور مٹّی کی حرکات نوٹ کرنے والے سینسرز کا استعمال کرتے ہیں۔

منشیات فروش گروہ اور کارٹیل ان سرنگوں پر لاکھوں ڈالرز خرچ کرتے ہیں، کیوں کہ کام یاب اسمگلنگ سے اُنہیں اِس سے کہیں زیادہ منافع حاصل ہوتا ہے۔ منشیات، انسانوں اور اسلحے کی اسمگلنگ کے ساتھ، نقد رقم کی منتقلی کے ذریعے حاصل ہونے والی رقوم ان کارٹیلز کو حاصل ہوتی ہے۔ عام طور پر یہ سرنگیں میکسیکو کے منشیات فروش کارٹیل اور بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیمیں تعمیر کرتی ہیں۔ ان سرنگوں کی تعمیر میں جرائم پیشہ گروہ کان کنوں، انجینئرز، الیکٹریشنز، ویلڈرز، تعمیراتی مزدوروں کا استعمال کرتے ہیں۔

کچھ سرنگیں بنانے کے لیے اتنی انجینئرنگ مہارت درکار ہوتی ہے، جتنی کسی تجارتی منصوبے میں استعمال ہوتی ہے۔ زیادہ تر سرنگیں سرحدی شہروں اور گنجان آباد علاقوں میں دریافت ہوئی ہیں۔ نوگالس، ایریزونا کا علاقہ سرنگوں کے ضمن میں سب سے معروف ہے۔ سان ڈیاگ،و تیجوانا (Tijuana )کا علاقہ دنیا کی چند جدید ترین سرحدی سرنگوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے، جب کہ ایل پاسو سیوداد خواریز(Ciudad Juárez) میں جن سرنگوں کا سراغ لگایا گیا، وہ نکاسیٔ آب کے نظام کے اندر چُھپائی گئی تھیں۔ ابتدائی دَور میں اسمگلر بیلچے، کدال، ہاتھ سے کھدائی یا لکڑی کے سہارے سرنگیں بناتے تھے۔

یہ سرنگیں نسبتاً تنگ اور غیر محفوظ ہوتی تھیں۔ اب جرائم پیشہ گروہ ان سرنگوں کو بنانے کے لیے جدید طریقے استعمال کرتے ہیں، جن میں الیکٹرک جیک ہیمر، صنعتی ڈرلنگ مشینیں، لیزر پیمائش کے آلات، وینٹی لیشن سسٹم، بجلی کی وائرنگ، ریل ٹرالی سسٹم، ہائیڈرولک لفٹ وغیرہ شامل ہیں، جب کہ کچھ سرنگوں میں ہائی وولٹیج بجلی، ریل ٹریک، لفٹ اور جدید وینٹی لیشن سسٹم بھی پایا گیا ہے۔ امریکی کسٹم اینڈ بارڈر پروٹیکشن ( CBP ) کے حکّام کے مطابق، جدید سرنگوں کی تعمیر میں کئی ماہ اور بعض اوقات ایک سال یا اس سے بھی زیادہ وقت لگتا ہے۔

ٹکسن سیکٹر (اریزونا) میں 1990 ء سے 2020 ء تک کم از کم 127 سرنگیں دریافت کی جا چُکی ہیں۔ سان ڈیاگو کے علاقے میں1993 ء سے اب تک95 سے زائد سرنگیں دریافت اور بند کی جا چُکی ہیں۔ امریکی بارڈر پیٹرول کے سان ڈیاگو سیکٹر نے سال2020 ء میں امریکا اور میکسیکو کی جنوب مغربی سرحد پر طویل غیر قانونی سرحدی سرنگ کا سراغ لگایا۔ یہ سرنگ میکسیکو کے شہر تیجوانا سے شروع ہوتی ہے اور اوٹے میسا بارڈر کراسنگ سے تقریباً نصف میل مغرب میں واقع ایک صنعتی علاقے میں جا کر ختم ہوتی ہے۔

نمائندہ جنگ، سینئر بارڈر پیٹرول ایجنٹ کے ساتھ
نمائندہ جنگ، سینئر بارڈر پیٹرول ایجنٹ کے ساتھ

امریکی حکّام کے مطابق اِس سرنگ کی لمبائی سرحد سے آگے 4,068 فٹ ہے، جب کہ مجموعی طور پر یہ تین چوتھائی میل سے بھی زیادہ طویل ہے۔ حکّام نے بتایا کہ سرنگ میں ریل اور ٹرالی کا نظام، زبردستی ہوا کی فراہمی (Forced-Air Ventilation)، ہائی وولٹیج بجلی کی کیبلز اور برقی پینل، نکاسیٔ آب کا نظام اور سرنگ کے داخلی مقام پر ایک لفٹ بھی نصب تھی۔ سان ڈیاگو ٹنل ٹاسک فورس کے ارکان نے اِس سرنگ کے راستے کی نقشہ سازی ایک مشکل اور کئی سالوں پر محیط مشترکہ تحقیقات کے دوران کی۔

کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق اِن تحقیقات میں جدید ٹیکنالوجی، خفیہ معلومات کے حصول اور مقامی کمیونٹی سے رابطوں کا اہم کردار رہا۔ ایجینٹس نے سرنگ کا امریکی اختتامی حصّہ اوٹے میسا کے گوداموں والے صنعتی علاقے میں دریافت کیا، جہاں اس کا راستہ سیکڑوں ریت سے بھرے تھیلوں (Sandbags) کے نیچے چُھپایا گیا تھا۔ اکتوبر2020 ء کے آخر میں بارڈر پیٹرول ایجینٹس نے نوگالس میں ویسٹ انٹرنیشنل اسٹریٹ پر سرحدی باڑ کے نیچے ایک ہاتھ سے کھودی گئی سرنگ دریافت کی۔ یہ مقام ڈی کونسینی پورٹ آف اینٹری سے تقریباً نصف میل مغرب کی جانب واقع تھا۔

یہ تنگ سرنگ تقریباً10 فٹ لمبی تھی۔ اس کا داخلی راستہ میکسیکو میں تھا، جب کہ خارجی راستہ، جو تقریباً دو فٹ ضرب دو فٹ کے سائز کا تھا، سرحدی باڑ سے تقریباً ایک گز شمال میں واقع تھا۔ حکّام کے مطابق، غالب امکان ہے کہ یہ سرنگ امریکا میں غیر قانونی منشیات منتقل کرنے کے لیے استعمال ہو رہی تھی یا اسی مقصد کے لیے تیار کی گئی تھی۔

اسمگلر طویل عرصے سے امبوس نوگالس (Ambos Nogales) کے نکاسیٔ آب کے نظام کو غیر قانونی منشیات کی سرنگوں کے داخلی اور خارجی راستوں کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ سال2014 ء میں دریافت ہونے والی481 فٹ طویل سرنگ نہ صرف نوگالس میں اب تک ملنے والی سب سے لمبی سرنگ تھی بلکہ مقامی معیار کے مطابق نسبتاً جدید بھی تھی۔ تقریباً دو فٹ چوڑی اور تین فٹ اونچی اس سرنگ میں لکڑی کے سہارے، برقی روشنی اور ہوا کی گردش کے لیے پنکھے نصب تھے۔

سرنگ کھودنے والوں نے نوگالس میں بعض اوقات وفاقی تنصیبات کے نیچے بھی سرنگیں بنانے کی کوشش کی۔ مارچ 2019 ء میں ڈینس ڈی کونسینی پورٹ آف اینٹری جانے والی گاڑیوں کی ایک لین کا فرش اچانک دھنس گیا۔ امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن نے اس واقعے کو’’پہلے سے بند کی گئی ایک سرنگ کے جزوی طور پر دوبارہ منہدم ہونے‘‘ کا نتیجہ قرار دیا۔

مئی2011 ء میں ایک مقامی مکان مالک نے ایسٹ اسٹریٹ اور نارتھ نیلسن ایونیو کے قریب واقع اپنی کرائے کی جائیداد میں ایک سرنگ کا دہانہ دریافت کیا تھا۔ جنوری2025 ء میں امریکی بارڈر پیٹرول کے اہل کاروں نے ٹیکساس اور میکسیکو کی سرحد کے نیچے ایک انسان کے ہاتھوں بنائی گئی سرنگ دریافت کی، جو سرحد عبور کرتی تھی۔ ایل پاسو سیکٹر کی’’کنفائنڈ اسپیس انٹری ٹیم‘‘ نے ایک طوفانی پانی کے نکاسی (storm drain) نظام کا معائنہ کیا، تو اُنہیں ایک سرنگ ملی، جو میکسیکو کے شہر سیوداد خواریز تک جاتی ہے۔

یہ سرنگ اُس وقت سامنے آئی، جب اہل کاروں نے ایک دھاتی پلیٹ ہٹائی، جو 36x36 انچ کے سوراخ کو ڈھانپے ہوئے تھی۔ نوگالس، سرنگوں کے لیے مشہور ترین علاقے میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں دریافت ہونے والی کئی سرنگوں کے داخلی راستے نکاسیٔ آب کے نظام یا ڈرینیج چینلز کے اندر اور سرحد کے قریب پوشیدہ مقامات پر موجود تھے۔ کئی سرنگیں مشکوک سرگرمیوں کی ویڈیو نگرانی کے ذریعے دریافت کی گئیں۔

خفیہ معلومات، مخبر، خفیہ آپریشن، فون نگرانی، ڈرینیج اور سیوریج کی تلاشی کے ذریعے بھی سرنگوں کا سراغ لگایا گیا۔ رواں ماہ ( جون 2026 ) میں امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیوریٹی کی ٹاسک فورس کی تحقیقات کے نتیجے میں امریکا اور میکسیکو کے درمیان قائم ایک انتہائی جدید خفیہ سرنگ کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد چار افراد کے خلاف تقریباً ایک ٹن سے زائد کوکین کی اسمگلنگ کی سازش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ضبط کی گئی کوکین کی مالیت تقریباً4 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔ حکّام کے مطابق یہ سرنگ میکسیکو کے شہر تیجوانا سے امریکی شہر سان ڈیاگو تک تقریباً 1,933 فٹ طویل تھی اور سان ڈیاگو کے اوٹے میسا بارڈر کراسنگ کے قریب واقع ایک مبیّنہ ریٹیل اسٹور تک جاتی تھی۔ سرنگ میں مضبوط دیواریں، ریل کا نظام، ہوا کی نکاسی اور بجلی کی سہولت بھی موجود تھی، جس سے اس کے انتہائی منظّم اور پیشہ ورانہ انداز میں تعمیر کیے جانے کا اندازہ ہوتا ہے۔

تحقیقات کے مطابق، ہوم لینڈ سکیوریٹی انویسٹی گیشنز ٹنل ٹاسک فورس نے دسمبر2025 ء میں مذکورہ اسٹور کی نگرانی شروع کی تھی، کیوں کہ وہاں غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی جا رہی تھیں۔ حکّام نے نوٹ کیا کہ اسٹور پر گاہک نہ ہونے کے برابر آتے تھے، جب کہ بعض افراد خالی سوٹ کیس اسٹور سے گاڑیوں تک یا سرحد پار لے جاتے دِکھائی دیتے تھے۔29 مئی 2026ء کو اہل کاروں نے ایک شخص کو اسٹور سے بھاری سامان ایک وین میں منتقل کرتے اور اسے قریبی میکینک ورکشاپ تک لے جاتے دیکھا۔ اسی دوران ایک ملزم کو علاقے میں مشتبہ انداز میں نگرانی کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ بعد ازاں، اس نے وین دوسری جگہ منتقل کی، جہاں ایک ٹرک پہنچا۔

ملزمان نے وین سے تین بڑے فریزر نکال کر ٹرک میں رکھے اور اُنہیں مشتبہ پیکٹس سے بھر دیا۔ پھر ملزم ٹرک کو دوسری جگہ لے گیا اور خُود وہاں سے چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد دوسرا ملزم موقعے پر پہنچا اور ٹرک لے کر روانہ ہوگیا۔ سان ڈیاگو کاؤنٹی شیرف کے اہل کاروں نے ٹرک روک لیا اور پولیس کے تربیت یافتہ کتّے (K9 یونٹ) کی مدد سے منشیات کی موجودگی کے شواہد حاصل کیے۔

بعد ازاں، ایک دوسرے ٹرک اور وین کو بھی تحویل میں لیا گیا، جن کا تعلق اسی نیٹ ورک سے تھا اور ان میں بھی منشیات کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ حکّام نے ان کارروائیوں کے دوران1,000 کلوگرام سے زائد (2,200 پاؤنڈ سے زیادہ) کوکین برآمد کی۔

بعد ازاں، اسٹور اور میکینک ورکشاپ پر سرچ وارنٹ کے تحت چھاپے مارے گئے، جہاں سے سرنگ کا داخلی راستہ دریافت ہوا۔ یہ راستہ اسٹور کے فرش کے نیچے ایک ہائیڈرولک لفٹ کے ذریعے چُھپایا گیا تھا۔ سرنگ کا تقریباً 1,064 فٹ حصّہ امریکی سرحد کے اندر اسٹور سے سرحد تک، جب کہ مزید 800 فٹ حصّہ میکسیکو کے اندر تک پھیلا ہوا تھا۔

سینئیر بارڈر پیٹرول ایجنٹ Gerardo Gutierrez کے مطابق’’بارڈر پیٹرول اور میکسیکو کے حکّام باقاعدگی سے نالوں، سیوریج لائنز، نکاسیٔ آب کے راستوں کی تلاشی لیتے ہیں۔ زمین کے نیچے غیر معمولی سرگرمیوں کی نشان دہی کرنے والے جدید سینسرز استعمال کیے جاتے ہیں، ہم میکسیکن پولیس کے ساتھ ہفتے میں دو بار مشترکہ پیٹرولنگ بھی کرتے ہیں۔ ہمارے پاس بہت سے سینسرز ایسے ہیں، جو تصویر لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جب کہ ریڈار ٹاورز، کیمروں کی مانیٹرنگ کے علاوہ فزیکل پیٹرولنگ بھی جاری رہتی ہے۔

ہماری ٹیم چوبیس گھنٹے یہاں موجود ہوتی ہے، جو تین شفٹس میں کام کرتی ہے، جب کہ ٹنل پروٹیکشن ٹیم بھی ہمہ وقت مصروفِ عمل رہتی ہے۔‘‘ بارڈر پیٹرول حکّام کے مطابق، بعض سرنگیں اُس وقت سامنے آئیں، جب اچانک سڑک بیٹھ گئی، عمارت میں دراڑ پڑ گئی یا تعمیراتی کام کے دوران کوئی خالی جگہ سامنے آئی۔ بہت سی جدید سرنگوں کے داخلی راستے گوداموں، گھروں، تجارتی عمارتوں اور جعلی کاروباری مراکز میں چُھپائے گئے تھے۔

کارٹیلز کے پاس وسیع مالی وسائل اور انجینئرنگ مہارت موجود ہوتی ہے۔ امریکی بارڈر پیٹرول سان ڈیاگو سیکٹر کے چیف پیٹرول ایجنٹ Justin DeLa Toree کے مطابق’’ہمارا مقصد لوگوں کو غیر قانونی طور پر امریکا میں داخلے سے روکنا ہے۔ اکثر منشیات اور انسانی اسمگلنگ میں ایک ہی کارٹیل ملوّث ہوتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہم نے 90 سرنگوں کا سُراغ لگایا ہے۔ جرائم پیشہ افراد اب بھی ہوا، سمندر اور زمینی راستوں سے کوششیں کر رہے ہیں اور انہیں روکنے کی ہماری کوششیں بھی مستقل جاری ہیں۔‘‘

وقت گزرنے کے ساتھ ہتھیار بدل گئے، نگرانی کے طریقے بدل گئے، دیواریں بدل گئیں اور سرنگیں بھی پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو گئیں، مگر ایک چیز نہیں بدلی، وہ سرحد کے دونوں طرف جاری مسلسل جدوجہد ہے، جو آج بھی اُسی شدّت سے جاری ہے، جیسے کل تھی اور شاید آنے والے کل میں بھی اِسی طرح جاری رہے گی اور یہی اِس سرحد کی سب سے بڑی اور سب سے حیران کُن حقیقت ہے۔