جب سولھویں صدی کی تحریکِ احیائے علوم (Renaissance) کی کرنیں پُھوٹیں، اُس وقت امریکا نام کا کوئی مُلک نہیں تھا۔ کولمبس نے جو نئی دنیا دریافت کی تھی، اُسے وہ امریکا نہیں کہتا تھا۔ اُس کے نزدیک یہ دنیا’’ایسٹ انڈیز‘‘ تھی اور وہاں کے باشندے’’انڈین‘‘تھے۔ اُس سرزمین پر جو لوگ آباد تھے، وہ بد تہذیب اور بے شعور نہیں تھے۔
جدید معاشی اور تمدّنی ترقّی کی چکاچوند میں یہ تصوّر پھیل گیا کہ وہ لوگ بالکل جاہل تھے اور تہذیبی لحاظ سے اُن کا کلچر وحشیانہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے کے لحاظ سے مقامی طور پر ایک ترقّی یافتہ تہذیب کے حامل تھے۔ وہ زیادہ تر اجرامِ فلکی اور مظاہرِ فطرت کی پرستش کیا کرتے۔ اُن میں مقامی نوعیت کی ایک’’روحانیت‘‘ مقبول تھی، جب کہ وہ یونانی اور رومی افکار سے بھی متاثر تھے۔
مراکش اور مصر کے تہذیبی اثرات کے نقوش بھی اُن کی زندگی میں موجود تھے۔ اُس دَور کا یورپ البتہ بالکل غیر متمدّن اور تاریک تھا۔ بادشاہت، رومن چرچ اور جاگیرداری نے ایک خوف ناک استحصالی اتحاد قائم کر رکھا تھا۔ اندلس میں اسلامی تہذیب کی جو روشنی پھیلی، اُس کے اثرات اُن تک پہنچے، جس کے نتیجے میں اٹلی میں تحریکِ اِحیائے علوم وہ پہلامظہر یا ظاہر (Phenomenon) تھا، جس نے پورے یورپ کی زندگی متاثر کی اور نت نئے نظریات یا فلسفے پھیلے۔ انسانیت نوازی (Humanism)، فطرت پرستی (Naturalism)، عقلیت پرستی (Rationalism)، انفرادیت پرستی (Individualism)، جمہوریت (Democracy)، وطن پرستی یا قوم پرستی (Nationalism) اور مادّہ پرستی (Materialism)جیسے فلسفے سامنے آئے۔
اِن نظریات و افکار میں جمہوریت جیسا سیاسی نظام اور طرزِ حُکم رانی وجود پایا۔ خون ریز انقلابِ فرانس کی ہول ناکی کے بعد 1799ء میں فرانس میں ایک اور انقلاب آیا اور نپولین نے طاقت کے زور پر اپنا جبر قائم کر لیا، تو لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ نپولین کی تعریف کریں یا مذمّت۔ خانہ جنگی میں ٹھہراؤ آ جانے سے لوگ خوش بھی تھے اور ایک فوجی ڈکٹیٹر کے اقتدار پر قابض ہونے سے خوف اور تشویش کا شکار بھی کہ کہیں پہلے سے بھی زیادہ خون آشامی کا سلسلہ نہ چل پڑے۔
ہمارا اِس وقت موضوع نپولین ہے، نہ انقلابِ فرانس اور نہ ہی وہ نظریات، جو تحریکِ اِحیائے علوم کی کوکھ سے پُھوٹے۔ ہمارا اصل موضوع یہ ہے کہ اِتنے سنہرے افکار و نظریات، جمہوریت، آزادی اور انسانی حقوق کے ڈھول پیٹنے کے فوراً بعد یورپی اقوام نے سام راجیت کا کردار اپنا لیا اور کم زور دنیا پر اپنے استبدادی پرچم لہرانے شروع کر دیئے۔ قوموں کی آزادی چھینی اور حقوق پامال کیے۔ اُن کے وسائل لُوٹے اور اُنہیں ذلیل و خوار کیا۔ یہ استبدادی روش اُن تمام نظریات کا انکار تھی، جو تحریکِ احیائے علوم کا ثمر بتائے جاتے تھے۔
اُنہوں نے کئی اقوام اور ممالک پر اپنی بالادستی قائم کی اور دو، ڈھائی صدیوں تک دنیا کو استعماریت کی لاٹھی سے ہانکتے رہے۔ بیسویں صدی کے وسط میں آزادی کی تحریکیں اُٹھیں، نو آبادیاتی نظام کے غاصبانہ قبضے سے غلام مُلک آزاد ہونے لگے، تو اُنہی قوّتوں نے ایک اور رُوپ دھار لیا۔ اُنھوں نے سیاسی آزادی دے کر عسکری، معاشی، علمی و تحقیقی اور تہذیبی و ثقافتی غلبہ قائم کرلیا۔ یہ فرعونیت اختیار کر لی کہ ساری دنیا اُجڈ اور گنوار ہے، اِس لیے دنیا کی قوموں کو اُن کا پیروکار اور فرماں بردار ہو کر رہنا ہے۔ جبر و تسلّط کی نئی صُورتیں ایجاد کر لی گئیں۔ تہذیبِ نَو کی عمارت کھڑی کی۔
یہ عمارت قدیم یونان اور روم کے کھنڈرات پر کھڑی ہے۔ مزاجاً مغربی قوموں کی صحیح تصویر، بوسنیا ہرزیگووینا کے ممتاز مفکّر اور سیاسی رہنما، عزت بیگوویچ نے اپنی کتاب’’ Islam Between East and West‘‘ میں اپنے ایک غیر رسمی خط میں اپنے بیٹے، باقر کو مخاطب کر کے لکھا تھا۔’’ میرے بیٹے! یاد رکھنا کہ مغرب کبھی بھی مہذّب نہیں رہا ہے۔اس کی موجودہ ترقّی و خوش حالی کی عمارت بے رحم اور سنگ دل استعمار، خون ریزی، مظلوموں کے بہتے آنسوؤں اور اُن مصائب و آلام پرتعمیر ہوئی، جو یہ اپنے پیچھے چھوڑ آئے۔‘‘ اُنہوں نے یہ بھی لکھا کہ’’مغربی تہذیب بنیادی طور پر مادّہ پرستی، ٹیکنالوجی اور طاقت کے سنگ دلانہ استعمال پر کھڑی ہے۔‘‘
دوسری جنگِ عظیم کے بعد اِن غلبہ پسند اقوام کی قیادت امریکا نے سنبھال لی۔ گورے امریکیوں کی رگوں میں انگریزوں، اسکاٹ لینڈ اور اسکاٹ آئرش نسل سے تعلق رکھنے والوں کا خون ہے۔ اِس لیے امریکی بھی استعماری ذہنیت کے حامل ہیں، لیکن اُنہوں نے استعمار کی ایک نئی اصطلاح ایجاد کی۔ امریکا، ممالک پر قبضہ کرنے کی بجائے اُنہیں سیاسی، معاشی، عسکری اور تہذینی و ثقافتی طور پر اپنا غلام بنا کر رکھتا ہے۔ 1970ء تک تو امریکا اپنی خفیہ ایجینسی، سی آئی اے کے ذریعے ایشیا، مشرقی اور شمالی افریقا اور جنوبی ایشیا کی حکومتوں کے تختے اُلٹ کر اُنہیں اپنا تابع بنا کر رکھتا تھا۔
اِسی ایران کا، جس سے اب امریکا اُلجھا ہوا ہے، شاہ رضا شاہ پہلوی امریکا کا ہتھ بندھا غلام تھا۔ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے پولیس مین کا کردار ادا کرتا تھا۔ وہ زمانہ کمیونزم اور سرمایہ دارانہ نظام میں شدید کش مکش کا تھا۔ دنیا دو بلاکس میں بٹی ہوئی تھی۔ سرمایہ دارانہ نظام کا محافظ امریکا تھا، جب کہ کمیونزم کا پاسبان روس۔ شاہ رضا شاہ پہلوی کمیونزم کے خلاف امریکی مقاصد کا نگہہ بان تھا۔
شاہ رضا شاہ پہلوی نے ایران کو دو ہزار سال پہلے کی تاریخ سے جوڑنے کے لیے ہجری کیلنڈر منسوخ کر کے شہنشاہی کیلنڈر رائج کیا، جس کا تعلق کورشِ اعظم (کیخسرو)کے عہد سے جوڑا۔ ایک طرف قدامت پرستی، تو دوسری طرف امریکی و مغربی تہذیب کو طاقت سے مسلّط کرنے کی کوشش کی۔ یہ گویا امریکا کا بالواسطہ تسلّط، استبداد اور استعمار تھا۔
آیت اللہ روح اللہ خمینی کے علاوہ جن نام وَر شیعہ اور سُنّی علماء کو جبر و تشدّد کا نشانہ بنایا اور قید و بند کی سخت سزائیں دیں، اُن میں آیت اللہ حسین علی منتظری، آیت اللہ شریعت مداری، آیت اللہ سیّد ابوالقاسم کاشانی، آیت اللہ سیّد حسین بروجردی، آیت اللہ سیّد محمود طالقانی، آیت اللہ مرتضیٰ، آیت اللہ محمّد کاظمینی براؤجردی مظہری اور علّامہ تقی جعفری جیسی نام وَر علمی و فکری شخصیات شامل تھیں۔ ڈاکٹر علی شریعتی عالمی شہرت یافتہ ماہرِ تعلیم اور مفکّر تھے، وہ بھی شاہ کے عتاب کا نشانہ بنے اور جلاوطنی میں وفات ہوئی۔ کُردستان اور بلوچستان کے سُنی علماء بھی شاہی غیظ و غضب کا شکار ہوتے رہے۔
یہ سب امریکا کی آنکھوں کے سامنے ہوتا رہا، لیکن مہذب مغربی اقوام نے شاہ رضا شاہ پہلوی کے ظلم و تعدی پر آنکھیں بند رکھیں۔ آیت اللہ خمینی جِلاوطن کر دیئے گئے، تو وہ اکتوبر 1965ء میں عراق چلے گئے اور نجف میں مقیم رہے۔ لیکن وہاں صدر صدام حسین اُن کا مخالف ہو گیا، تو وہ اکتوبر 1978ء میں عراق سے نکل کر فرانس چلے گئے۔ وہ ٹیپ ریکارڈر سے ریکارڈ کی ہوئی تقاریر کا زمانہ تھا۔ اِمام خمینی عراق یا فرانس میں ایک تقریر کرتے اور وہ گھنٹوں میں پورے ایران میں پھیل جاتی۔
رضا شاہ پہلوی مُلک کے اندر کسی کی زبان بندی کر سکتا تھا، لیکن ہاتھوں ہاتھ منتقل ہونے والی کیسٹس کو کیسے روکتا۔ یوں امام خمینی کی آواز گھر گھر گونجنے لگی، لوگ ان کے شیدائی ہوگئے۔ ایران کے اندر صُورتِ حال تیزی سے شاہ کے خلاف ہو رہی تھی۔ اُس کے جبر سے انقلاب کی لہریں تھم نہیں رہی تھیں، بلکہ مزید شوریدہ سر اور بلند ہو رہی تھیں۔ سڑکوں پر بیک وقت ہزاروں گاڑیوں کے ہارن اِس انقلاب کی رفتار مزید تیز کر رہے تھے۔
امریکا نے سام راجیت کا جو نیا طریقہ اختیار کیا تھا، اُس کے تحت ہر مُلک میں سی آئی اے اپنے مراکز قائم کرکے اپنے آلۂ کار تیار کرتی اور ایران میں رضا شاہ پہلوی کی یہی حیثیت تھی۔ امریکا ہر حال میں رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت بچانا چاہتا تھا۔ اِسی لیے انقلابی عناصر کے اندر جتنی نفرت بادشاہ سے تھی، اُس سے بڑھ کر اُن کی نفرت اور غم و غصّہ امریکا کے لیے تھا۔ سب سے پہلے اِمام خمینی ہی نے امریکا کو اپنی ایک تقریر میں’’شیطانِ بزرگ‘‘ یعنی سب سے بڑا شیطان قرار دیا تھا۔
ایرانی انقلاب کے ابتدائی مرحلے میں بہت سے حلقوں کا خیال تھا کہ یہ ایک خاص مسلکی رنگ کا مذہبی (Theocratic)انقلاب نہیں ہو گا، بلکہ جمہوری اصولوں پر قائم نظام ہوگا، جس میں ہر فکر اور عقیدے کی نمائندگی ہو گی۔ اُن انسانی حقوق کی حفاظت کی جائے گی، جنہیں بادشاہی نظام میں پامال کیا جاتا تھا۔ اِنہی نظریات کے حامل مہدی بازرگان کو انقلاب کے بعد پہلا وزیرِ اعظم بنایا گیا۔ اُن کی کابینہ میں سیکولر اور لبرل بھی تھے، تو ٹیکنوکریٹ، ترقّی پسند اور مذہبی شخصیات بھی شامل تھیں۔
انقلاب کے بعد صدارت کا منصب سنبھالنے والے سیّد ابوالحسن بنی صدر کے نظریات بھی مہدی بازرگان جیسے ہی تھے۔ ان میں سے اکثر افراد نے فرانس سے تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ مغرب کے سیاسی نظام اور طرزِ زندگی کے مثبت پہلوؤں کو اسلام سے ہم آہنگ کر کے ایک کشادہ سیاسی و سماجی ماحول بنانا چاہتے تھے، لیکن مذہبی اشرافیہ سے ان کی بن نہیں پڑ رہی تھی۔ خاص طور پر اِمام خمینی نے ولایتِ فقیہہ کے فلسفے کے تحت جو غیر معمولی اختیارات حاصل کیے، اُن کی وجہ سے جمہوری آزادی کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔
پھر جب 4نومبر 1979ء کو انتہا پسند طلبہ نے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر لیا، تو مہدی بازرگان مستعفی ہو گئے۔ ڈاکٹر علی شریعتی کے ہم فکر شاگردوں کا بڑا حلقہ بھی حکومتی عُہدوں اور انقلابی نظام سے الگ ہو گیا۔ سفارت خانے پر قبضہ امریکا کے لیے بہت بڑی سبکی تھی، لیکن انقلاب کی لہریں اِتنی بلند تھیں کہ امریکی حکومت کوئی کمانڈو ایکشن کر کے بھی سفارت خانہ خالی نہ کروا سکی۔ اِس عمل نے امریکا اور ایران کے تعلقات میں کشیدگی کو انتہا تک پہنچا دیا۔
امریکا نے ایک اور داؤ کھیلا۔ اس نے اپنے حامی خلیجی عرب ممالک کو ڈرایا کہ ایرانی انقلاب اُنہیں بھی لپیٹ میں لے لے گا۔ اُس وقت ان ممالک میں کویت سب سے خوش حال تھا۔ عراق کے پاس ایک بڑی جنگ لڑنے کے لیے وسائل نہیں تھے۔ امریکا کے کہنے پر کویت نے عراق کو تقریباً 16بلین ڈالرز دیئے۔ جنگ طویل ہوئی، تو اخرجات بڑھ کر 30بلین ڈالرز سے اوپر چلے گئے۔ جنگ کا سبب شط العرب کا جھگڑا تھا۔ یہ اسٹریٹیجک نوعیت کا دریا ہے۔
دونوں ممالک کے پاس سے اِس طرح گزرتا ہے کہ عراق کا دعویٰ تھا کہ اِس دریا کا آبی حصّہ سارا عراق کی حدود سے گزرتا ہے، جب کہ ایران کا اصرار تھا کہ یہ دریا اُس کی حدود کے اندر سے بھی گزرتا ہے۔ ایران یہ باور کروانا چاہتا تھا کہ دریا نصف، نصف دونوں ممالک کی ملکیت ہے۔1975ء میں الجزائر کی ثالثی میں دونوں ممالک کی ایک کانفرنس ہوئی، جس میں عراق نے تسلیم کر لیا کہ دریا آدھا، آدھا دونوں کا ہے۔
عراق نے یہ فیصلہ مان لیا، لیکن ایرانی انقلاب کے بعد عراق معاہدے سے پِھر گیا۔ اسے ڈر تھا کہ انقلاب کے بعد ایران، عراقی شیعوں کو مُلک کے خلاف بھڑکائے گا۔ یہ سارے اسباب مل کر آٹھ سال کی طویل جنگ کی بنیاد بنے، جس میں دونوں کے کئی ٹریلین ڈالرز خرچ ہوئے۔ شہری آبادی کے مقتولین سمیت دونوں ممالک کا جانی نقصان پانچ سے دس لاکھ تک ہوا۔ امریکا اور کویت کے علاوہ خلیجی ممالک نے بھی عراق کی پوری مدد کی، لیکن طویل جنگ میں ایران کو شکست نہیں دی جا سکی۔
حالیہ جنگ پہلے سے زیادہ خوفناک ثابت ہوئی۔ یہ اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہوئی۔ ایران کے رہبرِ اعظم، امام علی خامنہ ای شہید کر دیئے گئے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیوریٹی کاؤنسل کے سربراہ، علی لارجانی کی جان گئی۔ ایران کے نام وَر سائنس دان اور صفِ اول کے کمانڈر بھی مارے گئے۔
ایک بڑا ظلم یہ ہوا کہ طالبات کے ایک اسکول پر میزائل برسایا گیا اور پونے دو سو کے قریب طالبات شہید کر دی گئیں۔ انفرا اسٹچر کی بے تحاشا تباہی ہوئی۔ زمینی فوج کی بجائے زیادہ تر میزائلز، راکٹس اور ڈرونز کا استعمال ہوا۔
اسرائیل کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا زعم بھی ٹوٹا کہ ایران نے اسرائیل میں میزائلز سے کئی اہم اہداف کو نشانہ بنایا۔ خلیجی ممالک میں امریکا کے سیکیوریٹی اڈّے بھی تباہ ہوئے۔ اب جنگ کا خاتمہ ہو چُکا ہے، لیکن صُورتِ حال بدلتی بھی رہتی ہے۔ ہمارے لیے خوشی اور فخر کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی ثالثی کو امریکا اور ایران دونوں نے مان لیا ہے۔ تاہم، جنگ ختم ہونے سے امریکا کے استعماری عزائم اور مزاج میں کوئی تبدیلی آنے کے امکانات نہیں ہیں۔