مخطوطہ شناس اور فہرست نگار
مصنّف: محمّد یوسف چوہان
صفحات: 391، قیمت: 1500روپے
ناشر: فکشن ہائوس، لاہور۔
ڈاکٹر نجم الاسلام کا شمار پاکستان کے انتہائی معتبر محقّقین میں ہوتا تھا، وہ ماہرِ تعلیم بھی تھے اور نقّاد بھے۔ یکم جولائی 1933ء کو بجنور(یوپی) میں پیدا ہوئے، لیکن اُن کی پوری زندگی حیدرآباد (سندھ) میں گزری۔
زیرِ نظر کتاب، محمّد یوسف چوہان کا تحقیقی مقالہ ہے، جس پر اُنہوں نے ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر کی نگرانی میں علّامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی(اسلام آباد) سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ ڈاکٹر نجم الاسلام نے عملی تنقید کا آغاز، ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خانؒ سے ملاقات کے بعد کیا۔ ہجرت سے قبل وہ میرٹھ میں ایم اے کے طالبِ علم تھے۔
’’معیار‘‘ کی ادارت کے دوران اُنہوں نے اپنی دل چسپیاں اسلامی ادب کے فروغ کے لیے وقف کردی تھیں، لیکن جب پاکستان میں اُنہیں ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان جیسے مایہ ناز محقّق ملے، تو پھر اُنہوں نے تحقیق ہی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔
زیرِ نظر مقالہ چار ابواب پر مشتمل ہے، جس کے تقریباً 90عنوانات قائم کیے گئے۔ اِس مقالے میں ڈاکٹر نجم الاسلام کی زندگی کی تمام جہتیں یک جا کردی گئی ہیں، جس کی وجہ سے یہ کتاب ایک دستاویز بن گئی ہے۔
ڈاکٹر نجم الاسلام جامعہ سندھ (حیدرآباد) میں صدر شعبۂ اردو بھی رہے۔ ڈاکٹر نجم الاسلام: نظری اصولِ تحقیق، ڈاکٹر نجم الاسلام:عملی تحقیق، ڈاکٹر نجم الاسلام:مخطوطہ شناسی اور فہرست نگاری، ڈاکٹر نجم الاسلام:منسوباتی ادب، جیسے عنوانات پر کتاب کی عمارت کھڑی کی گئی ہے۔
یہ ایک بھرپور تحقیقی کتاب ہے، جسے پڑھ کر ڈاکٹر نجم الاسلام کی علمی، ادبی، تدریسی اور تحقیقی خدمات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، جو 13 فروری 2001ء کو راہی مُلکِ عدم ہوئے۔ ان کا چھوڑا ہوا کام طالبانِ ادب کی رہنمائی کے لیے صدقۂ جاریہ ہے۔