• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنّف: ڈاکٹر عزیز احسن

صفحات: 364، ہدیہ: 2000روپے

ناشر: نعت ریسرچ سینٹر۔ B-306، بلاک 14، گلستانِ جوہر، کراچی۔

پاکستان میں جن صاحبانِ نقد و نظر نے تقدیسی ادب کے فروغ و ارتقاء کے لیے مثالی خدمات انجام دیں، اُن میں ڈاکٹر عزیز احسن کا نام معتبر بھی ہے اور مستند بھی۔ ان کا بنیادی حوالہ شاعری ہے، جب کہ نقّاد اور محقّق کی حیثیت سے بھی نمایاں شناخت کے حامل ہیں۔ انہوں نے تقدیسی شاعری میں غیر مصدّیقہ باتوں اور غلوئی پہلوئوں کو ہدفِ تنقید بنایا ہے، جو ایمان کا بھی تقاضا ہے۔ نعت گوئی میں جو بہتری اور ندرت پیدا کی جارہی ہے، اُس کی کھل کر تعریف بھی کی ہے۔

ایک بڑے نقّاد کا کام یہی ہے کہ وہ تحقیق کی اچھائیاں اجاگر کرے، تو خامیوں کی نشان دہی بھی۔ ڈاکٹر عزیز احسن یہ کام نہایت خوش اُسلوبی سے انجام دے رہے ہیں۔ اُن کی زیرِ نظر کتاب تقدیسی شاعری کے ضمن میں ایک مستند کتاب ہے، جس میں نعتیہ شاعری کا ہیئتی و متنی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ کتاب دو ابواب پر مشتمل ہے۔

پہلے باب میں غزل کی ہیئت میں نعت، غالب کی زمین میں نعت، چھوٹی بحر کی جمالیات، ردیفی نعت، نظمِ معریٰ میں نعتیہ متون، آزاد نظم کا نعتیہ آہنگ اور نثری نظم میں نعت کے حوالے سے سیرحاصل گفتگو کی گئی ہے، جبکہ دوسرا باب نعت کا متنی مطالعہ، نعتیہ سلام، قرآنی متن کی شعری بُنت، حضور اکرمؐ کی سیرت اور اوصافِ حمیدہ کا بیان، معراج النبی کے نعتیہ نقوش، نعت میں خُود شناسی کے متون، نعت میں منقبت نگاری، معاشرتی رویّوں پر تنقید اور نعت، عجزِ اظہار اور نعت، نعت میں سائنسی شعور، مترنم بحروں میں نعت جیسے پُرمغر عنوانات سے عبارت ہے۔ کتاب کا اشاریہ ڈاکٹر سہیل شفیق نے نہایت عرق ریزی سے تیار کیا ہے۔ فلیپ معروف نعت گو، نعت خواں ’’نعت ریسرچ سینٹر‘‘ کے ڈائریکٹر، صبیح الدّین رحمانی نے تحریر کیا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید