• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنّفہ: شاہین کمال

صفحات:  208، قیمت: 1000روپے

ناشر: گفتگو فورم پبلی کیشنز۔ 749 نیلم بلاک، علّامہ اقبال ٹائون، لاہور۔

فون نمبر: 5861605 - 0336

زیرِ نظر کتاب میں شاہین کمال کا خونِ جگر ہی نہیں، خونِ دل بھی شامل ہے۔ اِس کتاب میں19 کہانیاں ہیں اور ہر کہانی اپنے اندر ایک داستان رکھتی ہے۔ سانحۂ مشرقی پاکستان کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا اور ہر محبِ وطن پاکستانی ہی اِس دل خراش المیے سے متاثر ہوا، لیکن جن افراد نے وہ ہول ناک مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے، اُن کی کہانیاں سُن کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔

شاہین کمال نے سانحۂ مشرقی پاکستان کی کہانی بڑے پُرسوز انداز میں تحریر کی ہے۔ لکھنے والا جب تک کہانی کا حصّہ نہ ہو، اُس کی تحریر میں درد محسوس نہیں کیا جاسکتا۔

معروف ناول نویس اور کالم نگار، سہیل پرواز نے لکھا ہے کہ’’اِس کتاب کا ہر صفحہ مجھے چاٹگام کی گلیوں، ڈھاکا کے پلٹن میدان، بوگرہ کی بڑی ٹنکی کے رہائشی علاقے، جنیوا کیمپ اور نہ جانے کہاں کہاں لیے پِھر رہا ہے، جہاں کسی جگہ پر تو لاشوں کی سرانڈ کے باعث مجھے ناک پر رومال رکھنا پڑ رہا ہے اور کہیں میرے جوتے، ٹخنوں تک چڑھے خون میں ڈوب رہے ہیں۔

شاہین نے اپنے قلم کو بُرش کی طرح استعمال کرتے ہوئے ہر منظر تفصیل سے بیان کر کے پوری پینٹنگ آپ کے سامنے کھڑی کردی ہے۔‘‘ بلاشبہ، یہ کتاب سابق مشرقی پاکستان کا نوحہ ہے۔

کتاب کا انتساب اُن مظلوم محصورین کے نام ہے، جو نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے پر بھی اپنی ہی زمین پر اجنبی ہیں۔ راجا شہزاد علی، سرور غزالی اور انیس احمد کے مضامین بھی کتاب میں شامل ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید