پاکستانی اداکار اور معروف کامیڈین سہیل احمد نے مرحوم مزاحیہ فنکار اللّٰہ رکھا عرف پیپسی کی اچانک وفات کے بعد ان کی زندگی کے آخری دنوں سے متعلق چند اہم انکشافات کیے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ اللّٰہ رکھا اپنی بیٹی کی ازدواجی زندگی کے حوالے سے شدید ذہنی اذیت سے گزر رہے تھے۔
حال ہی میں ایک کامیڈی ٹاک شو میں سہیل احمد نے گفتگو کرتے ہوئے اپنے دیرینہ دوست اللّٰہ رکھا عرف پیپسی کی اچانک وفات کے پسِ منظر پر روشنی ڈالی۔
سہیل احمد نے کہا کہ اللّٰہ رکھا ایک منفرد اور خداداد صلاحیتوں کے مالک فنکار تھے اور اپنے فن پر مکمل عبور رکھتے تھے، وہ انتہائی خوددار اور باوقار انسان تھے، میں نے اپنی زندگی میں ان جیسا خوددار شخص کم ہی دیکھا ہے، شدید مالی مشکلات کے باوجود انہوں نے کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔
انہوں نے کہا کہ اللّٰہ رکھا اپنی بیٹی کی گھریلو زندگی کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔
اداکار کے مطابق ان کے داماد کا رویہ انتہائی تکلیف دہ تھا جبکہ وہ بار بار مالی مطالبات بھی کرتا رہتا تھا، اس نے ان کی بیٹی پر تشدد بھی کیا، اللّٰہ رکھا اپنی بیٹی کے حوالے سے بہت پریشان تھے اور اکثر کہتے تھے کہ داماد کے مطالبات پورے کرنا اب ان کے لیے ناممکن ہو گیا ہے۔
سہیل احمد نے بتایا کہ جب ہم اللّٰہ رکھا کی تدفین کر رہے تھے تو ایک نوجوان میرے پاس آیا اور بتایا کہ اسی روز ان کی بیٹی کو طلاق ہو گئی تھی، یہ سن کر مجھے شدید صدمہ پہنچا۔
ان کے مطابق یہ دل دہلا دینے والی خبر اللّٰہ رکھا کو جان لیوا دل کا دورہ پڑنے سے چند گھنٹے قبل سامنے آئی تھی۔
اداکار نے کہا کہ اس اطلاع کے چند گھنٹے بعد ہمیں اللّٰہ رکھا پیپسی کے انتقال کی خبر ملی، مجھے نہیں معلوم وہ اندر ہی اندر کس کرب سے گزر رہے تھے، لیکن ممکن ہے کہ یہی غم ان کی جان لے گیا ہو، اگرچہ انہیں دل کے عارضے کی شکایت بھی تھی، مگر وہ علاج کرانے پر آمادہ نہیں تھے اور شو کی ریکارڈنگ کے دوران ہی انتقال کر گئے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ ریکارڈنگ سے قبل گھر والوں نے انہیں بیٹی کی طلاق کی اطلاع دی تھی۔
واضح رہے کہ معروف کامیڈین اور اسٹیج اداکار اللّٰہ رکھا جو اپنے اسٹیج ناموں پیپسی اور پانی پوری کے نام سے مشہور تھے، 50 برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئے۔
واقعے کے وقت وہ نجی ٹی وی کے پروگرام میں پرفارم کر رہے تھے کہ اچانک براہِ راست نشریات کے دوران انہیں دل کا دورہ پڑا، انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے۔