• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عیدالاضحیٰ قریب آتے ہی ملک کے مختلف شہروں میں مویشی منڈیاں سج گئی ہیں۔ کراچی میں مختلف مقامات پر لگائی گئی مویشی منڈیوں میں شہریوں کا خریداری کے لیے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ شہریوں کی جانب سے جانوروں کی قیمت زیادہ ہونے کا شکوہ کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب مختلف علاقوں سے بیوپاری اپنے خوب صورت اور صحت مند جانور لے کر کراچی پہنچ گئے ہیں۔ بیوپاری پُرامید ہیں کہ جانور اچھی قیمتوں پر فروخت ہوجائیں گے۔اگرچہ بہت سے افراد قربانی کے جانور خرید چکے ہیں، لیکن ابھی بڑی تعداد میں ایسے افراد باقی ہیں جو یا تو مناسب جانور کی تلاش میں ہیں یا انہیں خریدنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

نمائش کا عنصر

کچھ عرصے سے قربانی کے موقعے پر نیا رجحان بن چکا ہے۔ بڑے بڑے جانور خریدے جاتے ہیں، دس لاکھ، بیس لاکھ، بلکہ پچاس لاکھ تک کی قیمتیں سوشل میڈیا پر بڑے فخر سے شیئرکی جاتی ہیں۔جانور کو محلے میں باقاعدہ گھمانا، تصویریں کھینچوانا، وڈیوز بنانا، اور بار بار قیمت دہرانا گویا قربانی کا اصل مقصد بن چکا ہے۔

دوسری جانب کمر توڑ منہگائی کے دو رمیں قربانی کے جذبے کو سلام کرتے ہوئے علما اور دانش ور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مسلمانوں کو اس عظیم موقعے پر سادگی اور رواداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ قربانی کے جذبے کو برقرار رکھنے کےلیے دکھاوے اور نمائش سے گریز کرنا ضروری ہے جو کہیں نہ کہیں معاشرے میں کسی کے لیے مایوسی اور دل شکنی کا سبب بن جاتی ہے۔

اس کے علاوہ آج کل قربانی کے جانوروں کی خریدو فروخت،ان کی دیکھ بھال اور انہیں قربان کرنے کے مراحل میں جو بہت سے معاشرتی مسائل پیدا ہوگئے ہیں ان پر بھی توجہ دینے کی ضروت شدّت سے محسوس کی جارہی ہے۔

علمائے کرام کا کہنا ہے کہ قربانی کے جانوروں کے ضمن میں دکھاوا اور نمائش بہت بُری بات ہے۔ ان کے بہ قول قربانی میں آپ کی نیت اور جذبہ اہمیت رکھتا ہے۔ آپ کا بکرایا گائے کتنے کی ہے اور دوسرے کا بکرا یا گائے کتنے کی ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ جانور پچاس لاکھ روپے کا ہو یا پچاس ہزار روپے کا، قربانی کا ثواب یک ساں ہوتا ہے۔ اس لیے مسلمان قربانی میں نمائش سے گریز کریں ۔اللہ تعالی کو نمائش و ریاکاری پسند نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس تہوار کے موقعے پر اگرہم اسلامی، صحت و صفائی کے اصولوں اوراحتیاطی تدابیرپر عمل کریں اور کھاوے سے اجتناب کیا جائے تو یہ عظیم تہوار معاشرے میں کئی مثبت تبدیلیاں لاسکتا ہے ۔لیکن اس عمل میں در آنے والی بعض خرابیوں نے قربانی کے فلسفے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

اس ضمن میں نمائش کا عنصر بہت سنگین ہوچکا ہے۔بہت سے افراد کو آج یہ فکر ہوتی ہے کہ ہمارا جانور محلے میں سب سے بڑا، سب سے قیمتی ہویا کم سے کم ایسا تو ہو جس کی ہم نمائش کر سکیں۔ ہم دکھاوے کے چکر میں یہ بھول جاتے ہیں کہ محلے میں کتنے لوگوں کی دل آزاری ہوگی جو دن میں تین وقت کا کھانا صحیح سے نہیں کھا سکتے۔ اس دکھاوے کے چکر میں حقوق العباد بالکل بھول چکے ہیں۔اپنے رشتے داروں اپنے پڑوسیوں کی طرف دیکھنے سے پہلے ہمیں اپنے دکھاوے کی فکر ہو جاتی ہے۔

قربانی کی روایت ان مساکین کی محرومیاں دور کرنے کے لیے بھی ہےجو ساراسال اچھی خوراک حاصل نہیں کر پاتے۔ مگر یہاں معاملہ الٹا ہوگیا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور میڈیا پر منہگے جانوروں اور کھانوں کی اتنی تشہیر ہو رہی ہے کہ اس سے مالی لحاظ سے کم زور افراد محرومیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ قربانی صرف منہگے سے منہگے جانور خرید کر ذبح کردینے، صرف خون بہانے اور قربانی کے گوشت سے عمدہ ڈشیں تیار کرکے لطف اندوز ہونے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ دینی، اخلاقی اور تربیتی ورک شاپ ہے جو ہمیں ہر آن و ہر لمحہ اور پورے ماہ وسال میں تسلیم ورضا،خودسپردگی وخاک ساری کے جذبات سے آشنا کرواتی ہے۔ افسوس کہ آج ہم نے قربانی کو اپنا اسٹیٹس دکھانے کا ذریعہ سمجھ لیا ہے۔

اجازت کے برعکس جگہ جگہ مویشی منڈیاں

قربانی کے موقعے پر جگہ جگہ غیر قانونی مویشی منڈیاں لگنے کی وجہ سے ٹریفک جام رہنے، گندگی اور رش کی شکایات بھی عام ہوتی ہیں۔اس مرتبہ کمشنر کراچی کی جانب سے کے ایم سی کو شہر میں صرف پانچ مقامات پر مویشی منڈیاں لگانے کی اجازت دی گئی ہے۔

نوٹی فیکیشن کے مطابق اتوار بازار نارتھ کراچی، کے ایم سی گراؤنڈ، سفاری پارک اور گلستانِ جوہر بلاک 5 اور 6 میں منڈی قائم کرنے کی اجازت ہے۔ نوٹی فیکیشن میں کہا گیا ہے کہ بکرا پیڑی لیاری اور کورنگی میں خالی پلاٹ پر بھی مویشی منڈی قائم کی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ کے ایم سی نے11مقامات پر مویشی منڈیاں قائم کرنے سے متعلق کمشنر کراچی سے اجازت طلب کی تھی۔

دوسری جانب کراچی میں جگہ جگہ جانوروں کی غیر قانونی منڈیاں آباد ہونے سے ٹریفک جام ہونے کا مسئلہ جنم لینے لگا ہے۔ اطلاعات کے مطابق شہر کے مختلف مقامات پر عید الاضحی پر قربانی کےلیے لائےگئے جانوروں کی غیر قانونی منڈی آباد ہونے سے شہر میں ٹریفک جام کا مسئلہ جنم لینے لگا ہے۔

بیوپاریوں نے شہر کی مصروف ترین شاہ راہوں پر جگہ جگہ بکرے، گائے، دنبے فروخت کرنا شروع کردیے ہیں جنہیں خریدنے اور دیکھنے والوں کے رش سے ٹریفک کی روانی میں خلل پیدا ہورہا ہے۔ برنس، روڈ، عائشہ منزل، نمائش چورنگی، غریب آباد، ناظم آباد پہلی چورنگی، پیٹرول پمپ ناظم آباد، حیدری فائیو اسٹار چورنگی، پاور ہاؤس چورنگی، ناگن چورنگی، یوبی ایل اسپورٹس کمپلکس، ملیر، لانڈھی، کورنگی، اورنگی ٹاؤن، شاہ فیصل کالونی، پاک کالونی کی مختلف سڑکوں، لیاقت آباد دس نمبر کے علاوہ نارتھ ناظم آباد کے مختلف بلاکس کی سڑکوں پر جانوروں اور خریداروں کا ہجوم دکھائی دے رہا ہے۔

گوشت کی تقسیم

گزشتہ برس عید الاضحٰی پر مجموعی طور پر69لاکھ 77 ہزار جانور قربان کیےگئے تھے جن میں30لاکھ گائیں، 34لاکھ بکرے، 4لاکھ بھیڑیں اور ایک لاکھ اونٹ شامل تھے۔ لیکن بات گوشت کی تقسیم کی ہو تو وہ اطمینان بخش نظر نہیں آتی۔ گوشت اصل حق داروں تک بہت کم پہنچ پاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بہت سا گوشت چند متحرک گروہوں کے پاس چلاجاتا ہے جو جگہ جگہ سے گوشت اکٹھا کر کے مختلف ریستورانوں میں بیچ دیتے ہیں۔

حالاں کہ عیدالاضحیٰ کا بنیادی فلسفہ ہی قربانی و ایثار اور خلوص کے ساتھ راہ خدا میں متاعِ عزیز کو نچھاور کرنا ہے۔ چناں چہ ضرورت اس امر کی ہے کہ عید کی خوشیوں میں ہم ان گھرانوں کو ضرور یاد رکھیں جو سفید پوشی کی چادر اوڑھے صبر اور رضا کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس موقعے پر ہمیں چاہیے کہ ہم ان افراد کو ضرور یاد رکھیں جو سال بھر روکھی سوکھی کھاتے ہیں اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کا گوشت ان کے لیے نعمتِ خداوندی ثابت ہوتا ہے۔

دوسری جانب بہت سے افراد کے ہاں گوشت کی تقسیم بھی تعلق اورخاندانی رسم و رواج کے مطابق ہوتی ہے۔اہم افراد، خصوصی تعلق داروں اور اونچے گھرانوں کو اچھے اور بہترین گوشت سے نوازہ جاتا ہے اور ان کی گھر میں آمد کے بعد خوب خاطر مدارت بھی کی جا تی ہے اور قربانی کے حقیقی حق داروں کو یا تو ٹرخا دیا جا تا ہے یا پھر اس گو شت سے نوازا جا تا ہے جو خود کھانے سے صاحبِ قربانی عا جز ہوتا ہے۔ مطلب اس گوشت کی تقسیم کرتے وقت بھی اس گوشت کو آپس میں ملایا نہیں جاتا بلکہ بہترین حصے کو اپنے فریج میں فریز کر لیا جاتاہے یا پھر اہم لوگوں کو تحفے میں دیا جاتا ہے اور اپنی بڑائی جتلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

گندگی اور آلائشیں

آج کل یہ رجحان بھی زور پکڑ رہا ہے کہ عید سے دس بارہ روز قیل جانور خرید کر گھر کے باہر باندھ دیا جاتا ہے۔ ہر گلی میں دو چار ایسے مناظر دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ کہیں کہیں تو قناعتیں لگاکر پوری گلی ہی بند کردی جاتی ہے۔ اس عمل سے پوری گلی میں گندگی اور تعفّن پھیلا رہتا ہے اور لوگوں کو آنے جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

پھر قربانی کے بعد جس طرح لوگ آلائشیں جگہ جگہ پھینک دیتےہیں، کیا انہیں اندازہ نہیں ہوتاکہ ان سے پیدا ہونے والا تعفن اردگرد رہنے والوں کی زندگی اجیرن کر دے گا؟ اور اس گند کو صاف کرنا بھی ایک طرح سے فرض ہے۔

عید الاضحی کے بعد گلیوں، محلّوں میں جو مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں وہ ہماری اجتماعی غفلت کی تصویر ہوتے ہیں۔ اگرچہ بلدیاتی ادارے صفائی کی مہم چلاتے ہیں، لیکن اصل تبدیلی تب آئے گی جب ہم بہ حیثیت ذمے دار شہری اپنی ذمہ داریاں سمجھیں گے۔

جانور اور گوشت کے فضلات کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا، خون کو پانی سے دھونا اور آس پاس کے ماحول کو صاف رکھنا صرف حکومت کا نہیں، بلکہ ہر فرد کا اخلاقی اور دینی فریضہ ہے، کیوں کہ ہمارے دین نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے اور قربانی جیسے مقدس موقعے پر اگر ہم صفائی کا خیال نہ رکھیں تو یہ عبادت کی روح کے منافی ہے۔

جانور کی قربانی کے بعد اس کی آلائشیں احتیاط کے ساتھ ٹھکانے لگائیں یا گھر کے باہر ایک طرف رکھ دیں تاکہ بلدیہ کی گاڑیاں اٹھالیں۔ اگر کافی دیرتک گاڑی نہ آئے تو انہیں فون کرکے بلوالیں، ان کے نمبر عید کے دنوں میں سب کے پاس ہوتے ہیں۔ قربانی کے بعداس جگہ کو فوراً اچھی طرح پانی سے دھوئیں اور کوشش کریں کہ وہاں چونا چھڑک دیں، تاکہ خون کی بُو اور جراثیم نہ پھیلیں۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں قربانی کےجانوروں کی گندگی اور آلائشوں سے تعفن اٹھنے کا سلسلہ کئی ہفتوں تک چلتا رہتا ہے۔ لوگ اپنے جانوروں کی غلاظتوں کو ذمہ داری سے ٹھکانے لگانے کے بجائے گلی محلے کے نکڑ پر گلنے سڑنے کے لیے ڈال دیتے ہیں۔ سڑکوں پر بہتا خون، گلیوں میں بکھرا فضلہ اور کُھلے مقامات پر پڑی آلائشیں نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتی ہیں، بلکہ تعفّن اور بیماریوں کے پھیلاؤ سے انسانی صحت کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کرتی ہیں۔

عوام کو چاہیے کہ جس اہتمام سے وہ جانور خریدتے ہیں، اس کی خدمت کرتے ہیں، قربانی کے لیے قصائی کا بندوبست کرتے ہیں، گوشت بانٹتے اور پکا کے کھاتے کھلاتے ہیں اسی اہتمام سے قربان کیے گئے جانوروں کی آلائشوں اور گندگی کو ٹھکانے لگانے کا بھی بندوبست کریں۔

معاشی پہلو اور فوائد

پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن اور مویشی پالنے والے کسانوں کے مطابق گزشتہ برس عید الاضحی پر تقریباً 6 تا 10لاکھ کم جانورقربان کیے گئے تھے۔ پاکستان ٹینریز ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ برس عید الاضحٰی پر مجموعی طور پر69 لاکھ 77ہزار جانور قربان کیے گئے تھے جن میں 30لاکھ گائیں، 34لاکھ بکرے، 4لاکھ بھیڑیں اور ایک لاکھ اونٹ شامل تھے۔ پاکستان ٹینریز ایسوسی ایشن کے مطابق قربان کیے گئے جانوروں کی تعداد میں کمی کی وجہ منہگائی اور قوت خرید کم ہونا تھی۔

ٹینرز ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ برس عید پر جانوروں کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیاتھا۔ قربانی کے جانوروں کی کل مالیت کا تخمینہ500ارب روپے سے کم رہاتھا۔

گائے کی اوسط قیمت میں 25ہزارسے ڈیڑھ لاکھ روپے کمی اور بکرے کی قیمت میں 10 ہزارسے 50 ہزار روپے تک اضافہ ہوا تھا۔ اونٹ کی قیمت میں بھی اضافے کا رجحان دیکھا گیا تھا۔ دوسری جانب گزشتہ برس کھالوں کی مالیت کا تخمینہ6.35 ارب روپے لگایا گیا تھا۔

قربانی کا ایک فلسفہ تو اپنے اندر ایثار کا جذبہ پیدا کرنا ہے، مگر اس کا ایک پہلو گردشِ زر بھی ہے۔ جیسے ہی عید کا موقع آتا ہے، پیسہ گردش میں آ جاتا ہے، معیشت کا پہیہ رواں دواں ہو جاتا ہے، دولت ایک ہاتھ سے نکل کر دوسرے ہاتھ میں جانے لگتی ہے۔

دنیا بھر میں مختلف ایمنسٹی ا سکیمز اور ٹیکس فری ترغیبات دی جاتی ہیں تاکہ سرمائے کو حرکت میں لایاجا سکے، مگر ان سے اتنا فائدہ نہیں ہو پاتا جتنا خدا کے ایک حکم پر عمل سے ہو جاتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اسلامی معیشت کا محور گردشِ زر ہی پر ہے۔ زکوٰۃ کا حکم ہو یا صدقات کی ترغیب، مسکینوں کو کھانا کھلانے سے حج و قربانی تک، نیکی کے تمام بڑے کاموں میں کوئی عمل ایسا نہیں جس میں دولت ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل نہ ہوتی ہو۔

بعض ماہرینِ معیشت کے مطابق عید الاضحی کا معیشت پر بھی نمایاں اثر پڑتا ہے۔ پاکستان میں قربانی سے جڑی معیشت، یعنی جانوروں کی خرید و فروخت کا سالانہ حجم500ارب روپے کے لگ بھگ ہے اور ملکی معیشت میں سب سے بڑا کاروبار ی موقع بقرعید کا ہوتا ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق صرف قربانی کی مزدوری کی مد میں 25 سے 40ارب روپے ادا کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار افراد کو روزگار ملتا ہے۔

لاکھوں جانوروں کی خرید و فروخت، قصائیوں، چارہ فروشوں، اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کے لیے یہ ایّام معاشی سرگرمی کا باعث بنتے ہیں۔ دیہی علاقوں سے جانور شہروں میں آتے ہیں، بازار سجتے ہیں اور ہزاروں خاندانوں کو روزگار ملتا ہے۔

قربانی کے جانوروں کا سالانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق عید الاضحیٰ 2023ء کے دوران پاکستان میں تقریباً 61لاکھ جانور قربان کیے گئے تھے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 531 ارب روپے تھی۔ اس برس قربان کیے گئے جانوروں میں گائے اور بیل 2.6 ملین، بکرے 3ملین، بھیڑیں 350,000، بھینسیں 150,000 اور اونٹ 87,000 تھے۔

پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے مطابق، ان قربانیوں سے حاصل ہونے والی کھالوں کی مالیت تقریباً 7 ارب روپے تھی۔ تاہم شدید گرمی اور مناسب دیکھ بھال کی کمی کی وجہ سے کھالوں کا تقریباً 35فی صد حصہ ضائع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

اسی طرح عید الاضحیٰ 2024ء کے دوران پاکستان میں تقریباً 68لاکھ جانور قربان کیے گئے تھے جن کی مجموعی مالیت 500ارب روپے سے زائد تھی۔ قربان کیے گئے جانوروں میں 28لاکھ گائے، 33لاکھ بکرے، 1.65 لاکھ بھینسیں، 99ہزار اونٹ اور 3.85لاکھ بھیڑیں شامل تھیں۔ عید الاضحیٰ 2025ء کے دوران تقریباً 6.5 سے 7.0 ملین (65 سے 70 لاکھ) جانور قربان کیے گئے تھے جن کی مجموعی مالیت 500 سے 550 ارب روپے کے درمیان تھی۔

بقر عید میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 400 ارب روپے شہری علاقوں سے دیہات کو منتقل ہوتے ہیں، کیوں کہ وہاں قربانی کے لیے جانور پالے جاتے ہیں، جنہیں شہروں میں قربانی کے لیے فروخت کیا جاتا ہے۔ اِس طرح پس ماندہ اور دیہی علاقوں کے باسیوں کو کافی مالی سہارا میّسر آجاتا ہے۔

علاوہ ازیں عید الاضحی کے موقعے پر بہت سے لوگ کاروباری نقطۂ نظر سے سیکڑوں کم عُمر بیل، گائیں، بکرے وغیرہ خرید کر دیہات منتقل کر دیتے ہیں، جنہیں وہاں سال بھر پالا جاتا ہے۔ اِس طرح بھی ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے مواقعے پیدا ہوتے ہیں۔

علاوہ ازیں، قربانی کے اِس عمل سے دیگر کاروباروں کو بھی فروغ ملتا ہے، جن میں چارے، بھوسے، ذبیحہ کرنے کے لیے درکار اوزاروں، جانوروں کی آرائشی اشیا، جانوروں کی دیکھ بھال، منڈیوں میں مزدوری، قصّاب اور کھال سے متعلق شعبہ جات شامل ہیں۔

اب تو بڑے شہروں میں قربانی کے گوشت سے مختلف ڈشز بنوانے کا رجحان بھی فروغ پارہا ہے اور عید کے تین دنوں میں اِس حوالے سے خاصا کاروبار ہوتا ہے۔ گوشت کا قیمہ بنانے والے بھی جگہ جگہ موجود ہوتے ہیں۔ گویا عید کے دنوں میں ایک پوری صنعتِ مویشی وجود میں آ جاتی ہے جس سے لاکھوں افراد فائدہ اُٹھاتے ہیں اور مُلکی معیشت میں اربوں روپے داخل ہوتے ہیں۔

عیدالاضحیٰ پاکستانی معیشت کے لیے ایک بہت بڑا محرک ہےاور اس کا پاکستان کی معیشت چلانے میں اہم کردار ہے، جسے مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی چمڑے کی صنعت جو ملک کے جی ڈی پی کاایک فی صد اور مینو فیکچرنگ جی ڈی پی کا چھ فی صد ہے، تقریباً ڈھائی لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ عیدالاضحی کے موقع پر بڑی تعداد میں کھالیں جمع ہوتی ہیں، جو چمڑے کی صنعت کے لیے خام مال کا کام کرتی ہیں۔

ایسا کیوں ہے؟

اتنے دینی، معاشرتی اورمالی فوائد کے باوجود یہ تہوار ہمارے معاشرے اور معیشت میں ہر برس کو ئی نمایاں تبدیلی کیوں نہیں لاپاتا اور ہر گزرتے سال کے ساتھ اس کی وجہ سے بعض نِت نئے مسائل ہی کیوں سامنے آرہے ہیں؟ اہلِ علم ودانش اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ آج ہم اپنی غلط حکمتِ عملیوں اور جامد سوچ کی وجہ سے معاشی کسم پُرسی کا شکار ہیں۔

ہم اپنے آباو اجداد کی روایات کو صحیح طریقے سے سمجھ ہی نہیں سکے۔ اسی لیے ہم زمانے کی رفتار کا مقابلہ نہیں کرپا رہے۔ ان روایات کا مقصد ایک اچھے متوازن معاشرے کا فروغ تھا اور انہیں دورِ جدید میں مثبت و مفیدجِدّت کے ساتھ فروغ دینا ہم پر منحصر ہے۔ لیکن اس کے برعکس ہم ان میں ایسی تبدیلیاں لا رہے ہیں، جن سے ہمارا معاشرہ تباہی کی طرف جارہا ہے، حالاں کہ سُنّتِ ابراہیمی کو اس کی روح کے مطابق اپنا کر ہم اپنے لاکھوں لوگ کو خوش اور خوش حال کرسکتے ہیں۔

ہم نمائش کا سلسلہ ختم کرکے، گندگی اور آلودگی پھیلانے والی سرگرمیاں ترک کرکے، قربانی کا گوشت حقیقی مستحقین تک پہنچا کر، گلّہ بانی کو سائنسی بنیادوں پر اپناکر اور چمڑے کی صنعت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے اس تہوار سے بے تحاشا فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید