• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اقلیت مخالف سرگرمیوں پر آر ایس ایس پر پابندی لگانے کے عالمی دباؤ میں اضافہ

آر ایس ایس  کے جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسابالے---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسابالے---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

بھارتی ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ عالمی سطح پر شدید دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اقلیت مخالف سرگرمیوں اور شدت پسند نظریات کے الزامات کے بعد تنظیم کے خلاف مختلف ممالک میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے آر ایس ایس پر پابندی عائد کرنے، اثاثے منجمد کرنے اور تنظیم سے وابستہ افراد کے امریکا میں داخلے پر پابندی کی سفارش کی ہے۔ 

کمیشن نے آر ایس ایس کو اقلیتوں کے خلاف تشدد، نفرت اور عدم برداشت کے فروغ سے جوڑا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس نے ہندوتوا نظریے کے تحت مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دیا جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے دورِ حکومت میں تنظیم کا اثر و رسوخ مزید بڑھا۔

رپورٹ میں رام مندر کی تعمیر اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو آر ایس ایس ایجنڈے کی بڑی کامیابیاں قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی دباؤ بڑھنے کے بعد آر ایس ایس نے امریکا، برطانیہ اور جرمنی میں لابنگ مہم تیز کر دی ہے، تنظیم کے جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسابالے نے یورپ اور ایشیا میں مزید سفارتی رابطوں کا اعلان بھی کیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق نریندر مودی کی آر ایس ایس سے وابستگی کے باعث بھارتی حکومت کو مذہبی شدت پسندی کے الزامات کا سامنا ہے جبکہ اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز کارروائیاں یورپ اور بھارت کے تعلقات میں بھی رکاوٹ بن رہی ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ بھی کیا گیا کہ 1925ء میں قائم آر ایس ایس کا نام ماضی میں مہاتما گاندھی کے قتل کے تناظر میں بھی سامنے آ چکا ہے جبکہ تنظیم عالمی سطح پر اپنا تشخص بہتر بنانے کے لیے لابنگ فرموں کی خدمات حاصل کر رہی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید