امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کی جانب سے تمام محاذوں پر جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے اتوار تک امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کا باقاعدہ اعلان متوقع ہے۔
امریکی اخبار نے مذاکرات کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ہفتے کے روز علی الصبح ایک عبوری مسودے پر اتفاق کر لیا گیا تھا، جس کا باضابطہ اعلان آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر متوقع ہے۔ معاہدےکے مسودے کا اعلان امریکی وقت کے مطابق اتوار کی دوپہر تک متوقع ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق اگر یہ معاہدہ ہو گیا تو چھ ہفتوں سے جاری جنگ بندی کی حیثیت تبدیل ہوجائے گی۔
اخبار کے مطابق توقع ہے کہ امریکا اور ایران تمام محاذوں پر جنگ بندی کے لیے مفاہمت پر اتوار کو اتفاق کرلیں گے، اس سلسلے میں ڈرافٹ تجاویز پر امریکا اور ایران کا ہفتے کے روز ہی اتفاق ہوچکا ہے۔
امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار ایرانی مجلس کے اسپیکر باقر قالیباف، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکا کے خصوصی نمائندے اور مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پہلے ہی مجوزہ معاہدے پر متفق ہوچکے ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ثالث کار امریکا اور ایران میں معاہدے کو حتمی شکل دینے کےلیے قریب پہنچ گئے ہیں۔
سی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر نے معاہدے سے متعلق تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مختصر مگر انتہائی اہم سرکاری دورۂ ایران کے دوران ایرانی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تفصیلی مذاکرات میں حتمی مفاہمت کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی۔
ملاقاتوں میں خطے میں کشیدگی میں کمی اور امن کے قیام کیلئے جاری ثالثی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ ملاقاتیں جاری سفارتی و ثالثی کوششوں کا حصہ تھیں۔
دورہ ایران میں فیلڈ مارشل نے صدر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمںٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات کی۔