• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں جمہوریت اور انتخابات کی جو تاریخ ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لیکن اگر ہم اپنی تاریخ کا جائزہ لیں تو بلاشبہ 2025اور 2026 ءپاکستان کیلئے دنیا میں عزت اور احترام کے لحاظ سے بہترین رہے۔ ہم نے وہ وہ کچھ ہوتے دیکھا جو دوسروں نے کیا ہم نے خود بھی نہ کبھی سوچا تھا نہ امید تھی جس پر پاکستان کے دشمن حیران و پریشان ہیں۔ پہلے بھارت کیخلاف جنگ میں بہت بڑی کامیابی اور دنیا خصوصاً مغربی دنیا کا پاکستان کے حوالے سے بدلتا ہوا تاثر، پھر پاک سعودی دفاعی معاہدہ اور اب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا کریڈٹ اور دنیا بھر کی طرف سے پاکستان کی تعریفیں یہ سب کسی خواب سے کم نہیں۔ یقیناً یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے اور پاکستان کی ان عزتوں کیلئےوسیلہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جوڑی اور پاک فوج (آرمی، نیوی، ائیرفورس) بنے۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ گزشتہ سال مئی سے دنیا کی سپر پاور کا صدر ٹرمپ جو نہ اپنوں کو بخشتا ہے نہ پرایوں کو، پاکستان، پاکستان کے وزیراعظم اور آرمی چیف کی تواتر سے اتنی تعریف بار بار کرتا ہے کہ سب کو شاید زبانی یاد ہو گیا ہو۔ کیا کبھی کسی نے سوچا کہ پاکستان کی کوئی امریکی صدر اس طرح پبلسٹی کرے گا؟؟ جو پبلسٹی پاکستان، شہباز شریف اور عاصم منیر کی امریکی صدر کر رہا ہے وہ تو اربوں ڈالر خرچ کر کے کوئی نہیں کر سکتا۔ گویا جہاں پاکستان آج کھڑا ہے، ہمیں شہباز شریف اور عاصم منیر کا ایک تاریخی Combination نظر آتا ہے۔ یہ قابل افسوس بات ہے کہ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والا ایک طبقہ اپنی سیاسی ”شدت پسندی“ میں اس حد تک آگے بڑھ چکا ہے کہ اُسے پاکستان کی اس کامیابیوں سے خوشی محسوس نہیں ہوتی۔ جب کہنے کو کچھ نہیں ہوتا تو کہا جاتا ہے کہ یہ حکومت ہی ناجائز ہے کیوں کہ 2024کے الیکشن چوری کر کے ان کو پاکستان پر مسلط کیا گیا۔ میں بھی یہ سمجھتا ہوںکہ 2024ء کے انتخابات میں شدید دھاندلی ہو ئی اور یہ فارم 47 کی حکومت ہے۔ لیکن پورا سچ جو تحریک انصاف کے شدت پسند نہیں سننا چاہتے وہ یہ ہے کہ 2018کے انتخابات بھی شدید دھاندلی شدہ تھے اور عمران خان صاحب کی حکومت RTS کی حکومت تھی۔ اس سے پہلے بھی انتخابات ہمیشہ بڑے تنازعات کا سبب بنے رہے۔ حکومت RTS والوں کی ہو یا فارم 47والوں کی، پاکستان کی اگر نیک نامی ہوتی ہے تو اس پر تو ہمیں خوشی منانی چاہیے۔ مارشل لاہو، ہائبرڈ نظام یا کنٹرولڈ ڈیموکریسی جب جب بھی پاکستان ترقی کرے گا یا پاکستان کا نام روشن ہو گا تو اس پر ہم سب کو خوش ہونا چاہیے۔ آئین کے نفاذ، صاف شفاف انتخابات اور مثالی جمہوریت کے لیے اور اپنی اپنی سیاست کے لیے ہر کوئی اپنی اپنی جدوجہد جاری رکھے لیکن اگر آپ اپنی سیاسی شدت پسندی کی وجہ سے پاکستان کی خوشی کو ہی محسوس نہ کریں اور اس پر چڑنا شروع کر دیں تو پھر خرابی دراصل آپ میں ہےکسی دوسرے میں نہیں۔ ویسے ان سیاسی شدت پسندوں کی یاددہانی کے لیےعرض ہے کہ کیا عمران خان ایوب خان کے دور کی ترقی کے حوالے سے تعریف نہیں کرتے رہے؟ آر ٹی ایس الیکشن کی بنیاد پر عمران خان کی حکومت بنی لیکن کیا جائز ہوتا کہ عمران خان کی حکومت میں اگر پاکستان کیلئےکچھ اچھا ہوتا تواُسے اسلئے رد کر دیا جاتا کہ خان صاحب کی حکومت تو اسٹیبلشمنٹ کی مسلط کردہ تھی؟ افسوس کا مقام یہ ہے کہ سیاسی شدت پسندوں نے اپنے دماغ بند کر لیے ہیں۔ وہ نہ کچھ سننے اور نہ ہی کچھ سمجھنے کو تیار ہیں۔ ان کیلئے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔

تازہ ترین