• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خود میری اپنی سمجھ میں نہیں آتا کہ میں لگا تار دوڑتا کیوں رہتا ہوں؟ میں کس سے دور بھاگتا رہتا ہوں؟ کون میرے پیچھے پڑا ہوا ہے؟ میں کچھ نہیں جانتا۔ میں بس اتنا جانتا ہوں کہ میں بھاگتا رہتا ہوں، دوڑتا رہتا ہوں۔ ضروری نہیں ہوتا کہ ہم ڈاکٹروں کی تمام ہدایتوں پر پابندی سے عمل کریں۔ ہم کچھ باتوں پر عمل کرتے ہیں، کچھ باتوں پر عمل نہیں کرتے، میں بھی زیادہ تر ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل نہیں کرتا، میں روزانہ آٹھ گلاس پانی نہیں پیتا، مجھے جب تک پیاس نہیں لگتی، میں پانی پی نہیں سکتا، مگر ڈاکٹر بضد ہوتے ہیں کہ مجھے دن میں آٹھ گلاس پانی کے پینے چاہئیں۔

ایک مرتبہ ایک سڑیل ڈاکٹر سے میں نے پوچھا تھا کہ ڈاکٹر صاحب جو لوگ انٹارکٹیکا میں منفی پچاس ڈگری میں سانس لیتے ہیں اور اپنے زندہ رہنے کا ثبوت دیتے ہیں، ان کو دن میں آٹھ گلاس پانی پینا چاہیے یا کہ نہیں، ڈاکٹر کو میرا سوال ناگوار لگا ، ڈاکٹر نے غصے سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ ’’میں تمہارا علاج کررہا ہوں، انٹارکٹیکا والوں کا علاج نہیں کررہا، تم جب یہ دنیا چھوڑ کر انٹارکٹیکا چلے جائو، تب پانی کے آٹھ گلاس گرم کرکے پی لینا، ناغہ مت کرنا، مر جائوگے۔

اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ ایک ڈاکٹر نے مجھے روزانہ آٹھ گلاس پانی پی کر زندہ رہنے کی تلقین کی ہے، پانی پھر چاہے گرم ہو یا ٹھنڈا ہو، بہرحال مجھے پانی پینا ہے اور زندہ رہنا ہے، آپ ایک بات سمجھنے میں غلطی مت کرنا، پینے پلانے سے زندگی لطف اندوز نہیں ہوتی۔ بغیر پیاس کے آٹھ گلاس پانی پینا شامت سے کم نہیں ہے، ایسے میں پانی زہر لگتا ہے، سردیوں میں مری یا نتھیا گلی چلے جائیں، ڈاکٹر صاحب کی تلقین کے مطابق پانی کے آٹھ گلاس پی کر دیکھیں، آپ اسی روز سورج غروب ہونے سے پہلے اسلام آباد لوٹ جائیں گے۔

ایک ڈاکٹر صاحب نے میرے دل اور دماغ کا مکمل جائزہ لینے کے بعد فرمایا تھا کہ دماغ کے بارے میں ہم ڈاکٹر وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ دماغ ایک گورکھ دھندا ہے، باقی دل کے معاملےمیں ہم ڈاکٹر آپ کو تصدیق سے بتا سکتے ہیں کہ آپ کا رویہ اپنے دل سے اچھا یا دوستانہ نہیں رہا ہے، آپ نے اب تک جتنے بھی کام کیے ہیں وہ آپ کے مزاج، خصلت اور خمیر کے منافی ہیں۔ مثلاً آپ نے ٹوٹ کر جس عورت سے محبت کی تھی، وہ شادی شدہ تھی، اپنے شوہر، گھربار اور بال بچوں سے خوش تھی، اس لیے تمہیں اس نے گھاس نہیں ڈالی، آج تک تم اس خاتون کی یاد میں غمگین گانے گاتے پھرتے ہو، آپ کا یہ رویہ اپنے دل کے ساتھ اچھا نہیں ہے، آپ نے خود اپنا دل توڑا ہے، سر میں دھول ڈالنے کے بعد گریباں چاک کیا ہے، آپ بھول بیٹھے ہیں کہ آج کا دور لیلیٰ مجنوں کا دور نہیں ہے۔ آج کل کا دور کرنٹ اکائونٹ کا دور ہے، تمہاری ناکام محبت کا توڑ ایک ہی ہے کہ تم بھاگتے رہو، تم دوڑتے رہو، اس طرح تم ناکام محبت کا دکھ سہہ لوگے، تمہارا ٹوٹا ہوا دل پھر سے جڑنے لگے گا، تم آدھی رات میں غمگین گانے گانا چھوڑ دوگے۔ یوں تم پڑوسیوں کے سکھ چین میں خلل ڈالنا چھوڑ دوگے۔ پڑوسی تمہیں دعائیں دیں گے، وہ لوگ اللہ سائیں سے التجا کریں گے کہ تم اسی طرح ہمیشہ کے لیے خاموش ہوجائو۔

وہ دن اور آج کا دن، میں نے غمگین گانے گانا چھوڑ دیے ہیں۔ یہ میرا نہیں، پڑوسیوں کی دعائوں کا کمال ہے، ورنہ میں سمجھ رہا تھا کہ میں غمگین گانے گاتے ہوئے یہ دنیا چھوڑ دوں گا، اب میں صرف دوڑتا ہوں، مارگلہ کی پہاڑیوں میں بنے ہوئے پیچرے(راستوں) پر دوڑتا رہتا ہوں، میں سمجھتا ہوں، مارگلہ کی پہاڑیوں پر بنے ہوئے پراسرار پیچرے ان لوگوں نے بھاگتے دوڑتے ہوئے بنائے ہوں گے جو میری طرح بھول بیٹھے ہوں گے۔ آج کا دور کرنٹ اکائونٹ کا دور ہے، آج کا دور لیلیٰ مجنوں کا دور نہیں ہے، دل ٹوٹ جائے تو آپ گانا نہیں گا سکتے، آپ صرف بھاگ سکتے ہیں، آپ صرف دوڑ سکتے ہیں، اور پھر غمگین لوگوں نے بھاگتے بھاگتے، دوڑتے دوڑتے مارگلہ کی پہاڑیوں پر پیچرے بنا ڈالے ہوں گے۔

بہرحال مجھے اس بات سے غرض نہیں کہ پیچرے کس نے کب اور کیسے بنائے ہوں گے، میں ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے دوڑتا رہتا ہوں، میں دوڑتے ہوئے دفتر جاتا ہوں، دفتر میں بھی بھاگتا دوڑتا رہتا ہوں، دفتر کے اوقات ختم ہونے کے بعد میں بھاگتے ہوئے دفتر سے باہر آتا ہوں اور پھر مارگلہ پہاڑیوں پر بنے ہوئے پیچروں پر دوڑنے لگتا ہوں۔ بھاگ دوڑ کا نتیجہ اچھا نکلا ہے، میرا ٹوٹا ہوا دل پھر سے جڑنے لگا ہے، اب میں یکسوئی اور انہماک سے دوڑ سکتا ہوں۔

ایک مرتبہ میں انہماک سے مارگلہ کے پیچروں پر دوڑ رہا تھا، دانشور لفظ پیچرہ کو قبول نہیں کرتے۔ وہ تلقین کرتے ہیں کہ بیٹا، پیچرہ کی بجائے لفظ پگڈنڈی لکھا کرو، لفظ پیچرہ کم پڑھے لکھے لوگ استعمال کرتے ہیں، مجھے محسوس ہورہا ہے کہ میں پڑھا لکھا ہوں، بس شکل سے ذرا ان پڑھ لگتا ہوں، ایک روز میں مارگلہ کی پہاڑیوں پر بنے ہوئے پیچرے یا پگڈنڈی پر دوڑ رہا تھا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک خرگوش میرے قریب آکر میرے ساتھ دوڑنے لگا، کچھ فاصلے تک میرے ساتھ دوڑنے کے بعد خرگوش نے کہا۔ ’’کیا بات ہے گیدڑ بھائی کہ تم بے تحاشہ دوڑ رہے ہو؟ سی آئی ڈی والے تمہارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کیا؟

خرگوش کی بات مجھے اچھی نہیں لگی، میں نے کہا۔ ’’مجھے غور سے دیکھ خرگوش، میں ببر شیر ہوں۔

خرگوش نے کہا۔ ’’مگر بھائی، تو لگتا تو گیدڑ ہے۔‘‘

’’ہم لگتے تو گیدڑ ہیں، مگر اصل میں ہم ببر شیر ہوتے ہیں۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’ہم روزانہ دس کاریوں اوردس کاروں کو موت کے گھاٹ اتارتے ہیں، ہمارے اخبار پڑھا کرو مسٹر خرگوش۔‘‘

درست ہے، پیار کی شادی کرنے والوں کو کاری کارو قرار دے کر ہم قتل کردیتے ہیں، اب ہم نفرت کی شادیاں کریں گے اور زندہ رہیں گے۔

تازہ ترین