• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آغا خان پنجم شاہ رحیم الحسینی ان دنوں دیدار کیلئے پاکستان کے شمالی علاقوں میں موجود ہیں۔وژن اور ملنساری میں اپنے پر دادا سلطان محمد شاہ کاعکس ہیں۔سلطان محمد شاہ کے کریڈٹ پہ بہت کچھ ہے۔لیگ آف نیشنز کی صدارت، مسلم لیگ کی صدارت، شملہ وفد کی قیادت، لندن گول میز کانفرنس، عمان سے گوادر کی خریداری، فلاحی نیٹ ورک، اور بہت کچھ۔مگر جو کام سب سے بڑا ہے،وہ برصغیر کے مسلم سماج میں جدید علوم کی ترویج ہے۔جدید علوم کی قدر انہی کو ہوسکتی ہے جنکی کتابیں ضبط ہوئی ہوں اور لائبریریاں جلائی گئی ہوں۔صدیوں تک جنہوں نے جلاوطنیاں اور تنہائیاں کاٹی ہوں۔محتسب سے چھپ چھپاکر یونانی فلسفہ پڑھا ہو۔ہم اسماعیلیوں کی تاریخ میں صرف حسن صباح کے قلع الموت کے بارے میں جانتے ہیں، وہ بھی غلط جانتے ہیں۔چھاپہ مار فکشن نگاروں نے ہمیں قلع الموت کی حشیش تو دکھا دی، ان خفیہ حلقوں کے بارے میں نہیں بتایا جن سے جلاوطن مسلم فلاسفر اور سائنسدان وابستہ تھے۔

سلطان محمد شاہ کو نکال دیں تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخ ادھوری ہے۔ایک لاکھ جیب سے دیے، 29 لاکھ کیلئے شہر شہر جھولی پھیلائی، تب جاکر ایم اے او کالج کو (علی گڑھ) یونیورسٹی کا درجہ ملا۔علی گڑھ کے بڑے ناموں میں ایک یہی تھے جو عورت کی شمولیت کے بغیر ترقی کےایجنڈے کو نامکمل سمجھتے تھے۔بچیوں کیلئے انہوں نے اسکول کالجز کا الگ سے جال بچھایا۔ان کا قول ہے،اگر میرے دو بچے ہوتے، ایک بیٹا ایک بیٹی، میری استعداد ایک بچے کو تعلیم دینے کی ہوتی، میں بیٹی کو تعلیم دیتا۔اس قول کے اثرات گوجال اورغذرکے علاقوں میں لڑکیوں کی شرح خواندگی کی صورت میں دیکھے جاسکتے ہیں۔پچانوے سے ستانوے فیصد تک شرح خواندگی صرف قول کا نتیجہ نہیں ہے۔اسمیں عمل بھی شامل ہے۔امامت کے پچاس سال پورے ہوئے توعقیدت مندوں نےآغا خان سلطان محمد شاہ کوسونے میں تولا۔سونے اور نذرانوں کی رقم بچیوں کی تعلیم کیلئے ہنزہ اور چترال بھجوادی۔یہ کہانی امامت کے ساٹھ سال پورے ہونے پر پھر سے دہرائی گئی۔جو کچھ ہے اسی اچھائی کے صدقے ہے۔شاہ کے بعد شاہ کے پوتے شاہ کریم الحسینی مسند پرآئے۔وہ کم بولتے تھے زیادہ کرتے تھے۔انکی پوری زندگی اپنے دادا کے خوابوں کی تعبیر میں گزری۔دادا کی فلاحی سوچ کو منظم کر کے ایک عالمگیر تحریک کی صورت دی۔ساتھ ہی ایک ایسا مزاج تشکیل دینے میں خود کو وقف کیا جو فطرت سے ہم آہنگ ہو۔جس میں ٹھہرائو ہو۔جس کے لیے انسانی حقوق قانون کا نہیں، طبعیت کا معاملہ ہو۔جس کیلئے مکالمے کا مطلب بولنے کی آزادی نہ ہو، بلکہ سننے کا حوصلہ ہو۔صنفی برابری معمول کی بات ہو۔جو برتری اور تسلط کے شوق سے پاک ہو۔جو خدمت کے بدلے عقیدے نہ خریدتا ہو۔تہذیبوں کے ساتھ تصادم کے بجائے اپنے اور دوسرے کے بیچ مشترک قدریں ڈھونڈتا ہو۔پرنس نے کسی بھی تصادم سے بچنے کیلئے یہ سب اخوان الصفا کے مفکروں کی طرح خاموشی اور تدبر کے ساتھ کیا۔

اب آغا خان پنجم شاہ رحیم الحسینی کا زمانہ ہے۔پر دادا کے خواب پورے ہوچکے اور مزاج تقریبا پنپ چکا۔اب دائرہ بڑھانے کا وقت ہے۔پرنس رحیم مسند سے اتر کر لوگوں کی دسترس میں آرہے ہیں۔جین زی کو سن رہے ہیں اور بچوں کو پیار کررہے ہیں۔نالج ایکسچینج اورعالمی شراکت داری کی سوچ کو نئے رخ پر لے جارہے ہیں۔گلوبل وارمنگ کو چیلنج اور مصنوعی ذہانت کو ہدف کے طور پر لے رہے ہیں۔بھائی چارہ جیسے الفاظ کو لغت سے مٹاکر جینڈر نیوٹرل الفاظ کو رواج دے رہے ہیں۔مصنوعی ذہانت کے ذریعے تعلیم سے محروم کروڑوں بچوں کو کارآمد بنانے کی بات کررہے ہیں۔ذہنی صحت کو اہمیت دے رہے ہیں۔کھیلوں کو رابطے کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔میراتھون ریس میں مسلسل حصہ لے رہے ہیں۔کہہ رہے ہیں، کھیل ذاتی نظم و ضبط اور برداشت سکھاتے ہیں۔ہارجیت کے آداب سکھاتے ہیں۔مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے کا موقع دیتے ہیں۔آپ لوگ عمر کے جس حصے میں بھی ہوں، دن میں کچھ وقت جسمانی صحت کیلئے ضرور نکالیں۔انکی گفتگو سن کر ایک عید یاد آتی ہےجو ہنزہ میں گزری۔اتفاق سے کل عید ہے۔عید کی نماز ہم نےعطا آباد جھیل کے کنارے گلمت کے ایک میدان میں ادا کی۔اس حسین تجربے پر الگ سے ایک کالم بنتا ہے۔مُکی نے بیس منٹ کی مختصر گفتگو میں پندرہ منٹ صحت کو دیے۔بالائی علاقوں میں دل دماغ کے بڑھتے ہوئے امراض کو انہوں نے آکسیجن اور لائف اسٹائل کے ساتھ جوڑا۔نیند پوری کرنے پر زور دیا۔صبح جلدی اٹھنے، اچھی غذا لینے اور پابندی سے ورزش کرنے کی ترغیب دی۔خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے منبروں سے دھیمے لہجے میں زندگی کی بات ہوتی ہے۔

امامت کا حلف لیتے ہوئے شاہ رحیم نے دنیا بھر کے اسماعیلیوں سے براہ راست گفتگو کی۔انہوں نے دو فرمان جاری کیے۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ایسا کردار ادا کرو کہ مثال قائم ہوجائے۔اپنے اپنے ملکوں کے وفادار شہری بن کر رہو۔شہری وفاداری والی بات آج کتنی اہم ہوگئی ہے یہ بیرون ملک مقیم مسلمان اب بھی نہیں سمجھ پارہے۔خاکم بدہن، سنبھلائو نہ آیا تو وقت انہیں بہت تلخ تجربات سے آشنا کرنے والا ہے۔احساس کہیں نہ کہیں موجود ہے مگر تربیت آڑے آرہی ہے۔غلبے کی نفسیات اور برتری کا احساس انہیں کھائے جا رہا ہے۔ہمارے امیگرینٹس شمولیت اور شراکت کو پسپائی سمجھتے ہیں۔آغا خان سوئم اسے تہذیب سمجھتے تھے۔اس لیے انہوں نے پچھلے زمانے میں ہی سمجھا دیا تھا کہ ایک طرف امام کا فرمان ہو دوسری طرف ملک کا آئین ہو، تم نے آئین کا وفادار رہنا ہے۔آج جب امریکا اور یورپی ممالک میں سسٹم اور امیگرینٹس کے بیچ تصادم کے امکانات بڑھ گئے ہیں تو پرنس رحیم نے بات کو پہلے ہی خطبے میں دہرانا ضروری سمجھا۔شاہ رحیم الحسینی دیدار کیلئے جہاں گئے، تین باتوں پر زور دیا۔مثبت سوچ، رواداری اور جدید تعلیم۔وہ جانتے ہیں کہ کہاں کتنا بولنا ہے۔دنیا جہاں میں وہ جین ایڈیٹنگ، گرین انرجی اور مصنوعی ذہانت پر بات کر رہے ہیں۔شمال پہنچے تو سادہ سی ایک بات کہی۔مثبت سوچ کو جگہ دو اور انگریزی سیکھ لو۔مقدر کے سکندر بن جائوگے۔

تازہ ترین