ایک نئی تحقیق کے مطابق روزانہ پانچ کپ بلیک کافی پینا دل کی بیماریوں اور فالج کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن اس سے زیادہ مقدار میں کیفین کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔
یہ نئی تحقیق معروف طبی جریدے امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس تحقیق میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ بغیر چینی، ذائقوں یا دودھ کے پی جانے والی بلیک کافی دل کی صحت کے لیے متعدد فوائد رکھتی ہے۔
محققین کے مطابق انھیں دوران تحقیق یہ معلوم ہوا کہ ایسی بلیک کافی پینے والوں میں ٹائپ ٹو ذیابیطس، دل کی بیماری، فالج، ہارٹ فیل اور دل کی بے قاعدہ دھڑکن (اریتھمیا) کا خطرہ نسبتاً کم ہوا۔
تاہم تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ کیفین کی بہت زیادہ مقدار صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے، اس لیے اعتدال سے کافی پینا بہتر ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کافی کے حفاظتی اثرات کی ایک وجہ کافی کے دانوں میں پائے جانے والے سوزش کم کرنے والے مرکبات، جنہیں پولی فینولز کہا جاتا ہے، ہو سکتے ہیں۔
اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور یہ مرکبات ماحول میں موجود نقصان دہ عناصر سے جسم کی حفاظت کرتے ہیں، خون کی نالیوں کی کارکردگی بہتر بناتے اور سوزش کو کم کرتے ہیں۔ سوزش کئی بڑی بیماریوں، بشمول کینسر کی ابتدائی وجہ سمجھی جاتی ہے۔
محققین کے مطابق کیفین بھی اسی طرح کے فوائد فراہم کر سکتی ہے، لیکن اس کے اثرات ہر فرد میں مختلف ہو سکتے ہیں۔ تاہم، کیفین کی زیادہ مقدار دل کو ضرورت سے زیادہ متحرک کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر اچانک بڑھ سکتا ہے، دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے اور بعض اوقات صحت مند بالغ افراد میں بھی دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے شعبۂ امراض قلب میں تحقیقی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر گریگوری مارکوس نے اس حوالے سے کہا کہ کافی میں موجود کیفین دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کی روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔
انھوں نے کہا ایک سے تین کپ کافی پینے سے بلڈ پریشر میں اضافہ دیکھا گیا جو دل کے دورے اور فالج کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ تاہم روزانہ کافی پینے کا تعلق ایٹریل فبریلیشن کے کم خطرے سے بھی پایا گیا۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جاتی ہے، جس کے باعث دل کی دھڑکن تیز محسوس ہونا، دل کی کمزوری، خون کے لوتھڑے بننا اور فالج جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کیفین والی کافی پینے سے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ لیکن 2025 کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ مسلسل بے ترتیب دل کی دھڑکن کے شکار 200 مریضوں میں کافی پینے والوں کے اندر اس کیفیت کے دوبارہ ہونے کا خطرہ نمایاں طور پر کم تھا۔