امریکی صدر ٹرمپ نے نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی دے دی۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ حملہ جلد ہوگا، ایرانی اس حملے کو روکنے کےلیے کچھ نہیں کرسکیں گے، جب تک ایران بامعنی مذاکرات کو تیار نہیں ہوتا تب تک انھیں بھی اس میں دلچسپی نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی لبنانی ہم منصب سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی ہے۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ گزشتہ دورمیں لبنان کے ساتھ برا سلوک برتا گیا، ہم احترام کے ساتھ لبنان سے مناسب طرز عمل رکھیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ لبنان کئی دہائیوں سے کشیدہ حالات کا شکار رہا ہے، ہم اب لبنان کی بہت مدد کرنے جا رہے ہیں۔ اگر لبنان کے صدر چاہیں گے تو میں حزب اللّٰہ سے بھی بات کروں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے، وہ ہمارے ساتھ دوبارہ ملاقاتیں کرنا اور بڑی شدت سے ہمارے ساتھ معاہدہ چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم ایرانیوں سے ملاقات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے، حالانکہ وہ ہم سے ملاقات کرنے کے شدید خواہشمند ہیں۔ جب تک ایران بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتا ہمیں اس میں دلچسپی نہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر لبنان کے صدر چاہیں گے تو میں حزب اللّٰہ سے بھی بات کروں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابراہیمی معاہدے کامیاب رہے، آئندہ مرحلے میں مزید ممالک اس میں شامل ہوں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بہت جلد ایران کے علاقے کوہ کلنگ کو نشانہ بنائیں گے۔
خبر ایجنسی کے مطابق کوہ کلنگ کا علاقہ ایرانی جوہری تنصیب نطنز کے قریب واقع ہے۔
اس موقع پر لبنانی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ فریم ورک معاہدے پر دستخط کرنے پر صدر ٹرمپ کا شکر گزار ہوں۔ خطے میں امن اور استحکام کے حوالے سے ہمارا موقف صدر ٹرمپ کے موقف سے ہم آہنگ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا اصل مقصد لبنان اسرائیل دشمنی کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ لبنان اور خطے میں امن اور استحکام کے قیام کا وقت آچکا ہے۔