اداکارہ کاجل اگروال نے ساؤتھ اور ہندی فلم انڈسٹری میں اپنے کیریئر کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے تقریباً دو دہائیاں گزاری ہیں۔ ایک حالیہ انٹرویو کے دوران انھوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بالی ووڈ کے مقابلے ساؤتھ کے سنیما کو ترجیح کیوں دی؟
امرتسر کے پنجابی خاندان سے تعلق رکھنے والی 41 سالہ کاجل اگروال نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ہندی فلم انڈسٹری ساؤتھ انڈسٹری سے کیا سیکھ سکتی ہے؟
کاجل نے انکشاف کیا کہ انہوں نے بالی ووڈ کی زیادہ فلمیں اس لیے نہیں کیں کیونکہ انہیں ساؤتھ میں جو پروجیکٹس پیش کیے جا رہے تھے ان کا معیار ہندی سنیما کے پروجیکٹس سے کہیں بہتر تھا۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح کے کردار وہ کرنا چاہتی تھیں وہ انہیں ساؤتھ میں بہت زیادہ ملے، اس لیے وہ بالی ووڈ میں اوسط درجے کے کردار قبول نہیں کرنا چاہتی تھیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ بالی ووڈ کو ساؤتھ سنیما سے کیا سیکھنا چاہیے، تو کاجل نے کہا کہ بالی ووڈ کو ساؤتھ سے وقت کی پابندی سیکھنی چاہیے۔ ہندی فلموں میں کوئی بھی کام وقت پر نہیں ہوتا۔ ساؤتھ میں گھڑی کی سوئیوں کے مطابق کام کیا جاتا ہے۔ مجھے وقت پر پہنچنے کی عادت ہے اور میں اسے اسی طرح پسند کرتی ہوں۔ ہندی انڈسٹری میں وقت کی بالکل پابندی نہیں کی جاتی۔
فلم ’سکندر‘ میں سلمان خان کے ساتھ کام کرنے والی کاجل نے انکشاف کیا کہ وہ اس سپر اسٹار کے ساتھ اسکرین شیئر کرنے کے لیے بہت پرجوش تھیں کیونکہ وہ ان کے بچپن کا کرش تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سلمان خان نے مجھے سب سے زیادہ انتظار کروایا اور جس کی عادت نہیں تھی۔ میں سوچتی تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ وہ دوپہر یا شام کو آتے تھے، اس لیے میں سیٹ پر ہی موجود جِم میں ورزش کرنے چلی جاتی تھی۔ مجھے ساؤتھ سنیما کے نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کی عادت ہے۔
کاجل نے ساؤتھ سنیما میں بڑی کامیابی حاصل کرنے سے پہلے ہندی فلم ’کیوں! ہو گیا نا‘ سے 2004 میں اپنی اداکاری کا آغاز کیا۔ وہ تیلگو اور تامل سنیما کی مقبول ترین اور سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اداکاراؤں میں سے ایک بن گئیں۔
وہ جلد ہی ’دی انڈیا اسٹوری‘ میں نظر آئیں گی۔ چیتن ڈی کے کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں شریاس تلپڑے بھی مرکزی کردار میں ہیں۔