• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانوی شاعر ڈبلیو ایچ آڈن نے لکھا تھا’’ہزاروں لوگ محبت کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں، مگر پانی کے بغیر کوئی نہیں۔‘‘ پاکستان کے 24 کروڑ سے زائد شہریوں کے لیے یہ اب محض ایک ادبی جملہ نہیں رہا بلکہ روزمرہ زندگی کی تلخ حقیقت بن چکا ہے۔پاکستان اپنی ماحولیاتی تاریخ کے ایک نہایت تشویشناک موڑ پر کھڑا ہے۔ پانی کی فی کس دستیابی تقریباً 899 مکعب میٹر تک گر چکی ہے، جسکے ساتھ ہی ملک باضابطہ طور پر شدید آبی قلت کے زمرے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود قومی ردعمل پالیسی جمود اور ادارہ جاتی بے حسی کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ عالمی برادری کیلئے یہ موسمیاتی تبدیلی کا ایک سنگین انتباہ ہے، جبکہ پاکستان کے عوام کیلئے یہ بقا کا سوال بن چکا ہے۔

تاہم دریائے سندھ کے نظام کے سکڑنے کو صرف داخلی بدانتظامی یا مقامی انسانی المیے کے تناظر میں دیکھنا ایک بڑی جغرافیائی و سیاسی غلطی ہوگی۔ پاکستان کا آبی بحران محض ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ علاقائی استحکام، عالمی غذائی تحفظ اور بین الاقوامی حکمرانی کے ڈھانچے میں پیدا ہونے والی ایک خطرناک دراڑ ہے۔یہ بحران مستقبل کا خدشہ نہیں بلکہ ایک جاری حقیقت ہے، جو موسمیاتی تغیر اور داخلی پالیسی کی ناکامیوں کے سنگم پر جنم لے رہی ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ابتدائی کاشت کے موسم کیلئے پہلے ہی 15 فیصد پانی کی کمی نافذ کی جا چکی ہے، جس سے ملک کے زرعی ڈھانچے کو فوری خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

زرعی شعبہ ملک کے دستیاب میٹھے پانی کا 90 فیصد سے زیادہ استعمال کرتا ہے، جبکہ تربیلا جیسے بڑے آبی ذخائر اپنی تعمیر کے بعد سے تقریباً 35 سے 40 فیصد ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ پاکستان کے پاس صرف تقریباً 30 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے، جبکہ عالمی اوسط 120 دن کے قریب ہے۔سطحی پانی میں کمی کے ساتھ بحران خاموشی سے زیرزمین بھی سرایت کر چکا ہے۔ ایک ملین سے زائد زرعی ٹیوب ویلوں کے بے قابو استعمال نے انڈس بیسن کے زیرزمین آبی ذخائر کو دنیا کے سب سے زیادہ دباؤ والے ذخائر میں تبدیل کر دیا ہے۔ لاہور میں زیرزمین پانی کی سطح ہر سال تقریباً تین فٹ نیچے جا رہی ہے۔

صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو جاتی ہے جب مقدار کے ساتھ معیار کا مسئلہ بھی سامنے آتا ہے۔ کسی بھی قسم کی ٹریٹمنٹ کے بغیرگھریلو فضلہ اور صنعتی آلودگی مسلسل راوی، کابل اور دیگر دریاؤں میں شامل ہو رہی ہے۔ پاکستان کا آبی بحران اب صرف پانی کی کمی کا نہیں بلکہ صاف پانی کی عدم دستیابی کا بھی ہے۔خواتین، بچے اور کمزور طبقات اس کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ دیہی پاکستان میں پانی لانے، ذخیرہ کرنے اور اس کی تقسیم کی ذمہ داری زیادہ تر خواتین اور بچیوں پر عائد ہوتی ہے۔ جیسے جیسے پانی نایاب ہوتا جا رہا ہے، لڑکیوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے اور پسماندہ طبقات مزید غربت میں غرق ہوتے جا رہے ہیں۔

کراچی، جو پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی مرکز ہے، آج بھی شدید آبی قلت کا شکار ہے۔ کراچی کا تجربہ واضح کرتا ہے کہ پانی کا بحران اب صرف خشک سالی والے علاقوں کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی سطح کا شہری بحران بن چکا ہے۔

1960ء کا سندھ طاس معاہدہ، جسے دہائیوں تک پاکستان اور بھارت کے درمیان کامیاب آبی سفارت کاری کی مثال سمجھا جاتا رہا، اب موسمیاتی تبدیلی کی نئی حقیقتوں کے سامنے دباؤ کا شکار ہے۔

پاکستان کے آبی نظام کا زوال عالمی غذائی تحفظ اور بین الاقوامی سپلائی چینز کیلئے بھی خطرات پیدا کر رہا ہے۔ پاکستان ٹیکسٹائل اور چاول برآمد کرنے والےدنیا کے بڑے ممالک میں شامل ہے، جبکہ دونوں شعبے پانی پر شدید انحصار رکھتے ہیں۔عالمی برادری اب اس بحران کو پاکستان کی ایک مقامی پالیسی ناکامی قرار دے کر نظرانداز نہیں کر سکتی، اور نہ ہی پاکستان کی قیادت اسے صرف موسمیاتی تبدیلی کے کھاتے میں ڈال سکتی ہے۔

پہلا تقاضا موسمیاتی انصاف کا ہے۔ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

دوسرا تقاضا پاکستان کے اندر پانی سے متعلق سماجی معاہدے کی ازسرِ نو تشکیل ہے۔ زیرزمین پانی کے استعمال پر سخت ضابطہ کاری، صنعتی آلودگی پر مؤثر سزائیں اور شواہد پر مبنی سفارت کاری ناگزیر ہے۔

تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ تہذیبیں اس لیے تباہ نہیں ہوتیں کہ ان کے پاس مسائل کے حل ختم ہو جاتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ ان کے پاس وقت ختم ہو جاتا ہے۔اگر پاکستان کی قیادت اور عالمی برادری نے اس بحران کو اب بھی ایک انتظامی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز کیا، تو وہ ایک ایسی حقیقت سے ٹکرائیں گے جسے تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے۔ ریاستیں سیاسی بحرانوں اور معاشی مشکلات سے تو بچ سکتی ہیں، لیکن پانی کے ان نظاموں کے انہدام سے نہیں جو زندگی کی بنیاد ہیں۔

تازہ ترین