• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹی بی کوویڈ سے زیادہ خطرناک، اب وقت اسے کنٹرول کرنے کا نہیں ختم کرنے کا ہے: ماہرین

رپورٹ: سید منہاج الرب۔۔۔دنیا بھر میں مختلف بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، گلوبل کلائمٹ چینج سے جہاں دنیا بھر میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے وہاں مختلف بیماریوں کے جراثیم بھی مضبوط ہوتے جارہے ہیں۔ دنیا کو ان بیماریوں سے نمٹنے کے چیلنجز کے ساتھ ساتھ دیگر پرانی بیماریوں کو ختم کرنے کا چیلنج بھی درپیش ہے جس میں ٹی بی سرفہرست ہے۔

ماہر ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اب وقت ٹی بی جیسی بیماری کو کنٹرول کرنے کا نہیں بلکہ اسے ختم کرنے کا ہے۔ ٹی بی کو دنیا بھر سے ختم کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا، ٹی بی ایک ایسی بیماری ہے جو ایک آدمی سے دوسرے آدمی کو بآسانی منتقل ہوجاتی ہے اس کے جراثیم اتنے خطرناک اور خاموشی سے منتقل ہوجاتے ہیں کہ مریض کو کافی عرصے تک پتہ ہی نہیں چلتا ہے کہ وہ ٹی بی جیسے مہلک مرض کا شکار ہوچکا ہے۔

ان خیالات کا اظہار مقررین نے تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں روش کے زیر اہتمام APAC-IRIDS کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کا انعقاد ورلڈ ایسوسی ایشن آف نیوز پبلشرز (WAN-IFRA) کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔

کانفرنس سے دنیا بھر سے آئے ہوئے ممتاز ماہر ڈاکٹروں نے خطاب کیا۔ جن میں پاکستان سے ڈاکٹر کنیز فاطمہ، بھارت سے ڈاکٹر سبرامانین سوامی ناتھ، انڈونیشیا کی ڈاکٹر ارلینا برہان، فلپائن کی ڈاکٹر روگایا ڈبلیوکالاپس اور روش کے ڈائریکٹر سیرجیوکارمونا سرفہرست ہیں جنہوں نے ٹی بی کو دنیا بھر میں کنٹرول کرنے اور اس کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ 

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ٹی بی کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ اس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو کوویڈ-19 سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ بہت خاموشی سے ایک انسان سے دوسرے انسان کو منتقل ہوجاتی ہے اور بعض وقت تو مریض کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ ٹی بی کا شکار ہوگیا ہے۔ کافی وقت گزرنے کے بعد اس کے آثار نمودار ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانسی کا ہونا کوئی معمولی بات نہیں ایک نارمل آدمی کو کھانسی نہیں آتی اگر اس کو کھانسی ہو رہی ہے تو اسے فوراً ڈاکٹر سے چیک اپ کروانا چاہیے۔ گلوبل کلائمٹ چینج سے جہاں دنیا بھر میں موسم تیزی سے تبدیل ہورہا ہے اور دنیا بھر میں گرمی بڑھ رہی ہے وہیں بہت سی بیماریوں کے جراثیم بھی طاقتور اور مضبوط ہوتے جارہے ہیں، آنے والے دنوں میں ٹی بی کے تیزی سے بڑھنے کا خدشہ بھی بڑھتا جارہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے 2030 تک ٹی بی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں 90 فیصد اور اموات میں 80 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان، بنگلادیش، بھارت، سری لنکا، فلپائن سمیت دیگر ممالک ٹی بی کو ختم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کرنے ہوں گے۔

اس موقع پر بتایا گیا کہ ٹی بی کے ٹیسٹ کو جدید طریقے سے کرنے کے لیے روش نے نئی ٹیکنالوجی متعارف کرادی ہے جو ٹی بی کے ٹیسٹ کے نتائج 24 گھنٹے کے اندر اندر دے دیتی ہیں۔ یعنی اب ٹیسٹ کے 24 گھنٹے کے اندر اس بات کا پتہ چل جاتا ہے کہ مریض کو ٹی بی ہے یا نہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے تحت مشین صرف 19 منٹ کے اندر اندر ایک ٹی بی ٹیسٹ کا رزلٹ دے دیتی ہے جس سے اب ٹی بی کی تشخیص بہت ہی آسان ہوگئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی بی کے مریض کو اپنی بیماری چھپانی نہیں چاہیے بلکہ اس کا کھل کر مقابلہ کرنا چاہیے اور اگر ایک آدمی ٹی بی ہے تو اس سے ملنے والے سب لوگوں کا ٹیسٹ ہونا چاہیے۔

اس موقع پر تھائی لینڈ کے مشہور پاپ سنگر چاون جگ چٹ سم بون نے بتایا کہ وہ بھی ٹی بی کا شکار ہوئے لیکن وہ اس بیماری سے ڈرے نہیں بلکہ اس کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ ٹی بی کی بیماری میں مبتلا ہوئے تو ان کے گھر والوں سمیت 30 سے زائد افراد کا ٹی بی کا ٹیسٹ ہوا، جس میں سے 6 افراد ٹی بی کے مرض کا شکار ہوئے جس میں ان کا 10 سال کا بیٹا بھی شامل ہے اور یہ وہ لوگ تھے جن کو پتہ بھی نہیں تھا کہ وہ ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ٹی بی کے علاج کے بعد اب وہ مکمل صحت یاب ہیں اور اپنی معمول کی زندگی میں لوٹ آئے ہیں۔

صحت سے مزید