عبدالرزاق باجوہ، لاہور
انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کے ساتھ دُنیا میں اللہ کے خلیفہ اور نائب کا مقام بھی حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے لامتناہی اختیار اور اقتدارِ اعلیٰ میں سے نہایت معمولی سا اختیار و اقتدار انسانوں کو عطا کیا ہے۔ تاریخِ انسانی شاہد ہے کہ کوئی بھی انسان سدا خُود مختار نہیں رہتا اور اللہ تعالیٰ کسی بے بس، بےاختیار انسان کو بھی اختیار سے نواز دیتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں ایسے متعدد دریش صفت حُکم رانوں کا ذکر ملتا ہے کہ جنہوں نے خُود فاقے کیے، لیکن اپنی رعایا کے لیے آسانیاں پیدا کیں اور امانت میں خیانت نہیں کی۔
ایسےخوفِ خدا رکھنے والے حُکم راں اپنےاقتدار اوراختیار کو اللہ تعالیٰ کا خلیفہ بن کر انتہائی ذمّے داری سے استعمال کرتے تھے اور ان کی ہر لمحہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ اس فرض کی ادائی میں اُن سے کوئی کمی، کوتاہی نہ ہو جائے یا اُن کے کسی عمل سے کسی کی حق تلفی یا دل آزادی نہ ہو۔ ایسے حُکم راں ہر آن اپنا محاسبہ کرتے رہتے تھے کہ کہیں ان کے برسرِ اقتدار ہونے سے کسی معصوم انسان کو نقصان تونہیں پہنچ رہا۔
رعایا اُن سے کس قدر استفادہ کر رہی ہے۔ یہ برسرِاقتدار افراد اپنی حکومت کو پُھولوں کی سیج کی بجائے کانٹوں کا بستر سمجھتے تھے۔ آج لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب زمانۂ قدیم کی باتیں ہیں، اب ایسے لوگ کہاں ملتےہیں؟لیکن یاد رہے، ماضیٔ قریب میں صوبہ خیبرپختون خوا کے درویش صفت وزیرِ خزانہ کی، جنہیں دُنیا سراج الحق کے نام سے جانتی ہے، امانت و صداقت کی تصدیق اپنوں کے ساتھ غیروں نے بھی کی۔
اس ضمن میں ورلڈ بینک کی ایک سروے رپورٹ میں خیبر پختون خوا کی وزارتِ خزانہ کی کارکردگی کو مثالی قرار دیا گیا اور اس کا سبب یہ تھا کہ اُس وقت کے صوبائی وزیرِخزانہ، سراج الحق نے نہایت دیانت داری سے اپنے فرائضِ منصبی ادا کرتے ہوئے قوم کا پیسا امانت سمجھ کر قوم ہی پر خرچ کیا۔ اسی طرح ایک موقعے پر پاکستان کی عدالتِ عُظمیٰ نے بدعنوانی کے مقدمات کی سماعت کے دوران برملا اس بات کا اظہار کیا کہ ’’اگر غیر جانب داری سے احتساب کیا جائے، تو پاکستان میں صرف سراج الحق ہی بچ سکتے ہیں۔‘‘
واضح رہے، سراج الحق جیسے درویش صفت انسان کو جب اختیار و اقتدار ملا، تو انہوں نے اُسے اللہ کی امانت سمجھتے ہوئے اپنے فرائض سر انجام دینے کی کوشش کی اور اُن کی جانب سے امانت کی پاس داری نے اس گئے گزرے دَور میں بھی ثابت کردیا کہ اگر ہم اپنے مُلک کو خوش حال دیکھنا چاہتے ہیں، تو معاشرے میں ہر جگہ دیانت داری، عدل و انصاف اور قانون کی بالا دستی کو مقدّم رکھنا ہوگا۔
دوسری جانب انسانی تاریخ میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں کہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سےمعمولی سااختیار ملنے پر خود کو خُدا سمجھنے لگتے ہیں اور اسے اللہ کی امانت کی بجائے اپنی ذاتی طاقت گردانتے ہیں۔ ایسے افراد کا شمار فرعون، نمرود، شداد، ہلاکو خان اور چنگیز خان جیسے ظالموں کی فہرست میں کیا جاتا ہے۔ ان میں خوفِ خدا نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی اور ان کا مقصد محض عیش وعشرت ہوتا ہے۔
یہ لوگ اپنی زندگیاں پُرتعیّش بنانے کے لیے دوسرے انسانوں کی جان، مال اور عزت و آبرو تک کی پروا نہیں کرتے۔ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بستیوں کی بستیاں تک اُجاڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ ان ظالم و جابر حُکم رانوں کے نزدیک اللہ پاک کا قانونِ فطرت کوئی اہمیت نہیں رکھتا، بلکہ وہ من مانی کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔
اب ہمیں پوری دیانت داری سےخودسےیہ سوال کرناچاہیےکہ اگر ہمیں اپنی زندگی میں تھوڑا سا اختیار و اقتدار مل جائے، تو ہم کن افراد کی صف میں کھڑا ہونا پسند کریں گے؟ اگر ہمارے پاس کوئی معمولی سا اختیار بھی ہے، تو ہمیں اُسے ایک امانت کےطور پر استعمال کرنا چاہیے اور ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم کسی بھی وقت اس سے محروم ہوسکتے ہیں۔ نیز، ہمیں ہر لمحہ اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ہم فرعونیت کی راہ پر تونہیں چل رہے اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت میں خیانت کے مرتکب تو نہیں ہورہے؟
یاد رہے، اگر اپنے گھریلو معاملات میں بااختیارکوئی شخص اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے ہر ممکن انتظامات نہیں کرتا، اُن سے حسنِ سلوک کا مظاہرہ نہیں کرتا، اُن کے حقوق غصب کرتا ہےاورعدل وانصاف کا مظاہرہ نہیں کرتا، تو وہ غاصب ہے اور اسے ہرگز اس منصب پرفائز نہیں رہنا چاہیے اور اس کی جگہ گھر کی ذمّے داریاں اُس شخص کے حوالے کردینی چاہئیں کہ جو گھر اور اہلِ خانہ کی حفاظت کے ساتھ اُن سےحسنِ سلوک اور عدل و انصاف بھی کرسکے۔
بلاشبہ گھر کے نظام کو فطرت کے اصولوں کے مطابق چلانے کی کوشش کرنا تمام اہلِ خانہ کی ذمّےداری ہے، کیوں کہ اگر گھریلو نظام کی بہتری واصلاح کے لیے باقاعدہ جدوجہد نہ کی جائے، تو پھر گھر گرہستی کو تباہی و بربادی سے بھی نہیں بچایا جا سکتا اور بعینہ یہی اصول پورے معاشرے اور مُلک پر لاگو ہوتا ہے۔
سو، ضرورت اس اَمر کی ہے کہ اقتدارواختیار کو اللہ کی امانت سمجھتے ہوئے انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے بروئے کار لایا جائے اور اس ضمن میں تو کوئی دو رائے ہی نہیں کہ اگر اس مُلک کا ہر شہری اپنے حاصل کردہ اختیار کو اللہ کی امانت سمجھتے ہوئے خالقِ کائنات کی متعین کردہ حدود میں رہتے ہوئے استعمال کرے، تو بہت جلد پاکستان ہر قسم کے مالی اور سیاسی بُحرانوں سے نجات حاصل کر کے ترقّی و خوش حالی کی راہ پر گام زن ہو سکتا ہے۔