• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر کے بعد کیا ایران جنگ بحیرۂ کیسپین تک پہنچ گئی؟

—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

ایران کے ایک تجارتی بحری جہاز پر بحیرۂ کیسپین میں مبینہ یوکرینی حملے نے یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازعات کے باہمی تعلق اور ممکنہ نئے محاذ کے خدشات کو جنم دے دیا۔

ایران کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے حملے میں ایک ایرانی ملاح جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوا، جس کے بعد تہران نے یوکرین کے سفارتی نمائندے کو دفترِ خارجہ طلب کر کے اس کارروائی کو دشمنانہ اور مجرمانہ اقدام قرار دیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران پر امریکا کے مسلسل 13 روزہ حملوں کے بعد وقتی وقفہ آیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرۂ کیسپین جسے طویل عرصے سے ایران کا نسبتاً محفوظ بحری راستہ سمجھا جاتا تھا، اب ممکنہ طور پر ایک نئے محاذ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

ایران پہلے ہی اپنی جنوبی ساحلی پٹی پر دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جہاں امریکا آبنائے ہرمز کے اطراف بحری ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ یمن کے حوثی باغیوں کی کارروائیاں بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو متاثر کر رہی ہیں، ایسے میں بحیرۂ کیسپین میں بھی خطرات بڑھنے سے ایران کے اہم تجارتی اور تزویراتی بحری راستوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

2022ء میں ایران کی جانب سے روس کو شاہد (Shahed) ڈرون فراہم کیے جانے کے بعد تہران اور کیف کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔

یوکرین کا دعویٰ ہے کہ روس نے ایرانی ساختہ ڈرونز کو مزید بہتر بنا کر ہزاروں کی تعداد میں یوکرینی شہروں پر حملوں میں استعمال کیا، جبکہ یوکرینی افواج اب تک 44 ہزار سے زائد ایرانی ڈیزائن کے ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کرتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرۂ کیسپین میں یہ حملہ ایران کے لیے انتہائی تشویش ناک ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع ایک اور بحری محاذ تک پھیل سکتا ہے۔

ایران نے ابھی تک یوکرین کے خلاف کسی ممکنہ جوابی کارروائی کا اعلان نہیں کیا، تاہم ایرانی مبصرین کا کہنا ہے کہ یوکرین ایران کے متعدد میزائل اور ڈرون نظاموں کی زد میں ہے، جس کے باعث تہران کے پاس عسکری ردِعمل کے مختلف آپشنز موجود ہیں۔

رپورٹس کے مطابق قطر، مصر، پاکستان اور دیگر علاقائی ثالثوں نے واشنگٹن اور تہران کو 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز دی ہے تاکہ گزشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔

ماہرین کے مطابق بحیرۂ کیسپین میں پیش آنے والا واقعہ ایران پر اقتصادی اور عسکری دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش ہو سکتا ہے، اگر ایران کے شمالی بحری راستے بھی غیر محفوظ ہو گئے تو اس سے توانائی کی برآمدات، تجارتی سرگرمیوں اور فوجی رسد کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس سے مستقبل کے مذاکرات میں امریکا کو نسبتاً زیادہ سفارتی برتری حاصل ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب سابق امریکی نائب معاون وزیر دفاع برائے مشرق وسطیٰ مائیکل ملروئے کا کہنا ہے کہ جب تک ایران آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھتا ہے، امریکا کے لیے صورتِ حال آسان نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا ہے کہ فی الحال مذاکرات میں کسی بڑی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آ رہے، جبکہ ایران بھی آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے پر مطمئن دکھائی دیتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید