• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا ایران کشیدگی میں ایک اور وقفہ، کیا جنگ واقعی رک گئی یا نئی حکمتِ عملی ہے؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر متوقع طور پر جمعے کے روز ایران پر روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے امریکی حملے یک طرفہ طور پر روک دیے، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ فیصلہ کیوں کیا گیا اور یہ عارضی جنگ بندی کب تک برقرار رہے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقفے کو مکمل جنگ بندی سمجھنا قبل از وقت ہو گا، کیونکہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ عارضی جنگ بندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کی جانب سے ایران کو آبنائے ہرمز کے جنوبی بحری راستے پر آمادہ کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

عراق کے وزیرِاعظم علی فالح الزیدی کی ثالثی کی کوششیں بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں، گزشتہ ہفتے وہ وائٹ ہاؤس کے دورے کے بعد تہران پہنچے تھے، جہاں امریکی صدر ٹرمپ نے انہیں شاندار رہنما قرار دیا تھا، تاہم ایران نے مزید ثالثی کی ضرورت مسترد کرتے ہوئے امریکا پر غیر منطقی، توسیع پسندانہ اور بالادستی پر مبنی پالیسی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔

ماہرین کے مطابق امریکا اس وقفے کو اپنی جنگی حکمتِ عملی از سرِ نو ترتیب دینے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتف حال واشنگٹن کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

ایک سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اگر صدر ٹرمپ واقعی جنگ روکنا چاہتے تو وہ ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان بھی کرتے۔

دوسری جانب تہران واضح کر چکا ہے کہ وہ نہ تو کسی بحری ناکہ بندی کو قبول کرے گا اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو جنگ سے پہلے والی صورتِ حال میں واپس جانے دے گا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ خاموشی ممکنہ طور پر ایک بڑے تصادم سے پہلے کا وقفہ ہے، کیونکہ ان کے مطابق صدر ٹرمپ اب بھی جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے خواہاں ہیں، حالانکہ ایک حالیہ امریکی سروے کے مطابق 68 فیصد امریکی اس جنگ کو ضروری نہیں سمجھتے۔

ایک اور سفارت کار کے مطابق وسطِ مدتی انتخابات کے نتائج سے قطعِ نظر ایران سے متعلق امریکی پالیسی میں بڑی تبدیلی کا امکان کم ہے۔

ان کے بقول اگر ریپبلکن کامیاب ہوتے ہیں تو صدر ٹرمپ اسے اپنی پالیسیوں کی توثیق قرار دیں گے، جبکہ شکست کی صورت میں بھی وہ جنگی اہداف مکمل کرنے کی کوشش جاری رکھ سکتے ہیں۔

ادھر امریکا اور اس کے اتحادی ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کر رہے ہیں، جبکہ امریکا اور برطانیہ کی جانب سے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا بھی دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک اہم علامت سمجھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں کشیدگی کے بادل ابھی چھٹنے والے نہیں اور آئندہ دنوں میں صورتِ حال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید