سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ 2015 اور 2016 کے آپریشن کے دوران متعدد ایسے دہشتگرد سامنے آئے جو کے ایم سی اور واٹر بورڈ کے ملازم تھے، بلدیاتی نظام کو نقصان پہنچایا گیا، جس سےکراچی کی تباہی کا آغاز ہوا۔
اپنے بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ ایم کیو ایم اپنی مردہ سیاست کو زندہ کرنے کیلئے مسائل کو سیاسی رنگ دے رہی ہے، بلدیاتی اداروں میں ایسے عناصر بھرتی کیے گئے جن پر دہشتگردی جیسے الزامات سامنے آئے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ کراچی ایک پورٹ سٹی ہے اور ملک بھر کی ہیوی ٹریفک کا بڑا حصہ اسی شہر سے گزرتا ہے، گیس کی کمی وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، کےالیکٹرک بھی سندھ حکومت کے ماتحت نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پانی کی کمی سے متعلق سندھ حکومت پہلے ہی ارسا کو خط لکھ چکی، ارسا کو آگاہ کیا گیا سندھ کو اس وقت 22 فیصد پانی کی قلت کا سامنا ہے، پانی کی قلت کے اثرات کراچی پر بھی پڑتے ہیں۔