ذی الحجہ کی نو تاریخ تھی اور ہم پسو کے ایک ہوٹل کے لان میں بیٹھے تھے۔شمشال کی پہاڑیوں پر چاند پورا ہونے کی کوشش کررہا تھا۔وقار ملک نے آکر کہا، صبح یہاں گائوں سے سب لوگ نماز عید کیلئے گلمت کے میدان کی طرف جائیں گے، چلوگے؟ میں نے چونک کر کہا، کیا مطلب؟ کیا انکے ہاں عید کی نماز بھی ہوتی ہے؟ وقار ملک میرے سوال پہ چونک گیا۔کیا مطلب ہے یہ مسلمان نہیں ہیں کیا؟ ارے نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا۔مسلمان نہیں بھی ہیں تو ہمیں کیا، مگرہمیں تو بتایا گیا تھا کہ یہاں کے لوگ ہرطرح سے فارغ ہیں۔چھوڑو یہ سب باتیں، صبح نماز عید پر تم ساتھ ساتھ چل رہے ہو۔مزا آئے گا۔
منہ اندھیرے گاڑیاں سڑک پر لگ چکی تھیں۔لوگ پگڈنڈیوں پر سے سڑک کی طرف چلے آرہے تھے۔اپنے باغیچوں سے پھول توڑ کر کانوں میں اور پکول میں اٹکا رہے تھے۔جس کو جس گاڑی میں جگہ مل رہی تھی وہاں ایڈجسٹ ہورہا تھا۔صبح کی خنکی ہے، وادیاں ہیں، تازہ ہوا ہے اور عظیم ہنزائی کی کوئی غزل چل رہی ہے۔ ماحول میں ایک کمی محسوس ہوئی۔او ہاں، عید کی صبح ہے اور قربانی کے جانور نظرنہیں آرہے؟لید ملید، گھاس پھوس، چارہ بھوسہ کچھ بھی تو نہیں ہے۔کیا مجھے پوچھنا چاہیے؟ ابھی رہنے دیتے ہیں۔ جب بات چلے گی، موقع بنے گا، سوال بھی ہوجائے گا۔
عید گاہ پہنچے تو نسوانی آواز میں خوبصورت میوزک کیساتھ کوئی صوفی کلام چل رہا تھا۔وہ کلام پھر بہت ڈھونڈا،نہیں ملا۔لوگ ٹولیوں میں یہاں وہاں کھڑے خوش گپیاں کررہے تھے۔اس میں ہر عقیدے اور نظریے کے لوگ تھے۔کچھ دیر میں مُکھی (مولوی) صاحب نے پچیس منٹ کا خطبہ دیا۔انہوں نے واقعات وحکایات کیلئے جن کتابوں کے ریفرنس دیے، مسلکی اعتبار سے اس میں تنوع تھا۔ان کی گفتگو میں ممتاز مفتی کی ’علی پور کے ایلی‘ کا ذکر بھی تھا۔بابا اشفاق احمد کے گڈریا کا حوالہ بھی دیا۔شینا یا بروشسکی زبان میں شعر کہتے اور اردو میں ترجمہ کرتے۔دس پندرہ منٹ انہوں نے صحت کو دیے۔باقی دس منٹ میں زیادہ تر گفتگو تعلیم کے ارد گرد رکھی۔قربانی کی فضیلت پر بات آئی تو ذہن میں پھر سے سوال ابھرا، کیا یہ قربانی بھی کرتے ہیں؟
اثنا عشری شیعوں اور سنیوں نے ایک اسماعیلی امام کے پیچھے تسلی سے نماز اداکی۔نماز ختم ہوتے ہی پوری عید گاہ میں پلک جھپکتے کے ساتھ دسترخوان بچھ گئے۔آس پاس کے گھروں سے مکھن ملائی، دودھ پنیر،روٹی پراٹھے، چائے پانی، پھل فروٹ، طرح طرح کے خوردے اور مال ملیدے آنا شروع ہوگئے۔سب دسترخوان پر بیٹھ گئے۔پہلے ناشتہ ہوگا، سب ایک دوسرے سے حال احوال کریں گے، جب بڑے اٹھیں گے تو سارے اٹھیں گے، گلے ملیں گے اور ہنسی خوشی گھروں کو جائیں گے۔ناشتے کے دوران پس منظر میں نصرت فتح علی خان کی قوالی چلائی گئی۔کچھ پھرتیلے رضا کار جھومتے جھماتے چائے پانی لیکر آرہے تھے۔عید میلے اور جھوم جھمیلے کا ہی نام ہے۔ہماری عیدوں میں ہم نے نئے جوتوں کپڑوں کے علاوہ بس عیدی دیکھی تھی۔تھوڑی بہت فیسٹیویٹی بچپن میں دیکھی مگر وہ بھی کیا دیکھی۔اب تو بس زبردستی کے دو سجدے ہیں اور گھر کا راستہ ہے۔ہنسنا کھیلنا ایک غیر ذمہ دارانہ کام بن گیا ہے۔سو میرے جیسا شخص ایک عید گاہ کے اندر میلے جھمیلے کا ماحول دیکھ کر ندیدوں کی طرح کچھ حیران حیران سا ہورہا تھا۔
تب حیرانی کچھ زیادہ ہوگئی، جب دیکھا کہ میدان کے عقب میں کچھ جوان اور جانور تیزی سے گزر رہے ہیں۔کہیں یہ قربانی تو نہیں ہو رہی؟ یہ سوال میں نے ساتھ ہی بیٹھے ایک بزرگ کے سامنے رکھ دیا جنہوں نے آدھی زندگی کراچی میں گزاری تھی۔یہاں جسکی استطاعت ہوتی ہے وہ قربانی کرتا ہے۔گھر پہ مال مویشی ہوں تو ان میں سے ایک جانور الگ کر دیا جاتا ہے۔نہ ہو تو منڈی سے لے آتے ہیں۔جانور اپنے دروازے پر نہیں باندھے جاتے۔اس سے بدمزگی ہوتی ہے۔پھر بلاوجہ کی مقابلے بازی پیدا ہوجاتی ہے۔ہمیں قربانی کوا سٹیٹس سمبل بنانے سے منع کیا گیا ہے۔جانور کمیونٹی کے حوالے کر دیے جاتے ہیں۔متعین جگہ پر انکے چارے بھوسے کا بندوبست کیا جاتا ہے۔کون سا جانور کس کا ہے۔کس نے قربانی کی کس نے نہیں کی۔کس کا جانور تگڑا ہے کس کا کانگڑی۔کس کے جانور دو ہیں کس کا ایک بھی نہیں۔ایسے کسی سوال میں کسی کو کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔کوئی کسی سے ’ہاں بھئی کیا کاٹ رہے ہو پھر اس بار‘ جیسا سوال بھی نہیں کرتا۔یہ بہت ذاتی نوعیت کا سوال ہے۔ہر آتے جاتے کو یہ سوال کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔
عید پر قربانی کیلئے کچھ رضاکار اپنا نام لکھوا دیتے ہیں۔لوگ جانور قربان کرتے ہیں، یہ وقت قربان کرتے ہیں۔قربانی کیلئے ایک جگہ متعین کردی جاتی ہے۔منتخب رضاکار عید کی صبح وہاں پہنچ جاتے ہیں۔یہاں امام سلام پھیرتا ہے وہاں رضا کار چھری پھیر دیتے ہیں۔کوشش کرتے ہیں قربانی کوتماشا نہ بنائیں۔موقع پرصرف رضاکار ہی موجودہوتے ہیں۔کیمروں اوربچوں کوخون خرابے سے دور رکھا جاتاہے۔رضاکاروں کا ایک ٹولہ کاٹا پیٹی کرتا ہے،ایک گوشت کے حصے بخرے کرتاہے۔علاقے میں جتنے گھر ہوں اتنے حصے بنا دیے جاتے ہیں۔دوپہر تین بجے تک ہر گھر تک گوشت پہنچ جاتا ہے۔اگر فی گھر پانچ کلو گوشت نکلا ہے، تو اس گھر پر بھی پانچ کلو ہی جائے گا جسکے دو جانور قربان ہوئے ہیں۔
قربانی کے اختتام پر رضاکاروں کا ایک اور گروپ آتا ہے۔وہ اگلے دو گھنٹوں میں اس عارضی سلاٹر ہائوس کی صفائی کردیتا ہے۔شام چھ بجے تک خون کا ایک دھبہ اورآلائش کا ایک ٹکڑا بھی نظر نہیں آتا۔سب نمٹ جاتا ہے تو رضا کار سوجاتے ہیں۔باقی لوگ بھی آرام کرتے ہیں۔کچھ وقت کیلئے ماحول میں ایک طرح کی خاموشی در آتی ہے۔سر شام تازہ دم ہوکر جب گھروں سے نکلتے ہیں تو لگتا ہی نہیں ہے کہ کچھ ہوا بھی تھا۔چھری چلنی تھی چل گئی۔اب طائوس کو آواز دو اور رباب کا تار کھینچو۔میر کی کوئی غزل گائو کہ چین پڑے۔