رومی تہذیب میں ایک قدیم اخلاقی تصور ’’Memento Mori‘‘ پایا جاتا تھا، جس کا مفہوم ہے’’یاد رکھو، تم فانی ہو۔‘‘ جب کوئی فاتح جرنیل، جنگ کے بعد شہر میں داخل ہوتا تو فضا نعروں، تالیوں اور تحسین سے گونج اٹھتی اور وہ لمحہ انسانی جلال و افتخار کے عروج کی تصویر بن جاتا۔ مگر اسی شورِ ستائش کے درمیان ایک مدھم آواز مسلسل اس کے کانوں میں یہ حقیقت دہراتی رہتی’’Memento Mori‘‘ یاد رکھو، تم فانی ہو۔
یہ محض ایک جملہ نہیں تھا بلکہ طاقت کے نشے کے مقابل انسانی محدودیت کی یاد دہانی تھی۔ تاریخ بارہا یہ سبق دیتی ہے کہ انسان کا اصل امتحان محرومی نہیں بلکہ اختیار ہے، کیونکہ محرومی کردار کو آزماتی ہے جبکہ طاقت کردار کو بےنقاب کر دیتی ہے۔
دنیا میں طاقت صرف اقتدار تک محدود نہیں۔ یہ دولت، علم، ٹیکنالوجی، ادارہ جاتی اختیار، سماجی اثر و رسوخ اور رائے سازی کی قوت سمیت بےشمار صورتوں میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جہاں طاقت کسی نہ کسی شکل میں موجود نہ ہو۔ اسی لیے طاقت کو محض سیاسی مسئلہ سمجھنا اس کے حقیقی دائرۂ اثر کو محدود کر دینا ہے۔
طاقت بذاتِ خود نہ خیر ہے نہ شر۔ وہ ایک ذریعہ ہے جس کی اخلاقی حیثیت اس کے استعمال سے متعین ہوتی ہے۔ ایک ہی اختیار انصاف کا وسیلہ بھی بن سکتا ہے اور استحصال کا آلہ بھی۔ ایک ہی قوت معاشرے کی تعمیر بھی کر سکتی ہے اور اس کی بنیادیں بھی ہلا سکتی ہے۔ فرق طاقت میں نہیں بلکہ اس شعور، کردار اور اخلاقی سمت میں ہوتا ہے جو اسے بروئے کار لاتی ہے۔
جب اختیار خدمت کے بجائے استحقاق میں تبدیل ہوجائے، جب منصب ذمہ داری کے بجائے برتری کی علامت بن جائے اور جب انسان خود کو احتساب سے بالاتر سمجھنے لگے تو طاقت اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتی ہے۔ اس کے برعکس جب اختیار امانت سمجھا جائے، طاقت کو جواب دہی کے شعور کے ساتھ استعمال کیا جائے اور فیصلہ سازی کو انصاف کا پابند بنایا جائے تو یہی قوت فرد کی اصلاح، اداروں کی مضبوطی اور معاشرے کی تعمیر کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ طاقت آزادی نہیں بلکہ جواب دہی کی ایک بلند تر سطح ہے۔ جتنا اختیار وسیع ہوتا ہے، اتنی ہی ذمہ داری بڑھتی ہے، اور جتنا اثر گہرا ہوتا ہے اتنے ہی اس کے نتائج دور رس ہو جاتے ہیں۔ طاقت کے ساتھ ہمیشہ نتائج جڑے ہوتے ہیں، اور نتائج کے ساتھ احتساب۔
ایک یورپی سیاسی شخصیت سے منسوب ایک واقعہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جب اس سے زندگی کے سب سے بڑے سبق کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا، "جب مجھے اقتدار ملا تو مجھے لگا کہ میں طاقتور ہو گیا ہوں، مگر حقیقت یہ تھی کہ میں سب سے زیادہ جواب دہ ہو گیا تھا۔" پھر اس نے اسی خیال کو ایک مختصر مگر گہرے جملے میں یوں سمیٹا،
"Power is not freedom; power is responsibility under a microscope." یعنی طاقت آزادی نہیں بلکہ ایسی ذمہ داری ہے جس پر سب کی نظریں مرکوز ہوتی ہیں۔
اسلامی فکر نے طاقت کے اس تصور کو صدیوں پہلے نہایت واضح انداز میں بیان کر دیا تھا۔ قرآنِ مجید انسان کو زمین پر ’خلیفہ‘ قرار دیتا ہے، ایسا فرد جو مطلق اختیار کا مالک نہیں بلکہ ایک امانت کا حامل ہے۔ اس تصور میں طاقت کوئی پیدائشی حق نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے، اور ذمہ داری کا لازمی نتیجہ جواب دہی ہے۔ اسی لیے قرآن امانتوں کو اہل لوگوں کے سپرد کرنے اور عدل کے ساتھ فیصلے کرنے کا حکم دیتا ہے۔
نبی کریمﷺ نے اس اصول کو ایک جامع اخلاقی ضابطے میں سمو دیا: ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ یہ اصول صرف حکمرانوں کے لیے نہیں بلکہ ہر اس فرد کے لیے ہے جو کسی نہ کسی درجے میں دوسروں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتا ہے کیونکہ جہاں اثر ہے وہاں طاقت ہے اور جہاں طاقت ہے وہاں جواب دہی ناگزیر ہے۔
تاریخ اس حقیقت کو مختلف کرداروں کے ذریعے نمایاں کرتی ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اقتدار کو اعزاز نہیں بلکہ امانت سمجھا۔ ان کے نزدیک حکومت اختیار کا نہیں بلکہ احتساب کا نام تھی۔ انہوں نے طاقت کو ذاتی مفاد یا خاندانی برتری کا وسیلہ بنانے کے بجائے عدل، دیانت اور عوامی امانت کے اصولوں کے تابع رکھا۔ اسی لیے ان کا مختصر دورِ حکومت بھی تاریخ میں ایک اخلاقی معیار کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس کے برعکس فرعون کا کردار طاقت کے فریب کی نمائندگی کرتا ہے۔ اختیار اور وسائل کی فراوانی نے اسے یہ گمان دے دیا کہ وہ عام انسانی حدود سے ماورا ہے۔ جب طاقت خود احتسابی سے آزاد ہو جائے تو انسان حقیقت سے دور اور خود فریبی کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے، اور یہی راستہ بالآخر زوال پر منتج ہوتا ہے۔
جدید تاریخ میں ایڈولف ہٹلر اسی المیے کی ایک اور مثال ہے۔ اس نے قومی محرومیوں اور اجتماعی بےچینی کو طاقت میں تبدیل کیا، مگر اقتدار کا ارتکاز جلد ہی اخلاق، عقل اور انسانیت پر غالب آ گیا۔ نتیجہ صرف ایک فرد یا ایک قوم کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا سانحہ بن گیا۔
ان تمام مثالوں میں ایک مشترک حقیقت نمایاں ہے کہ طاقت انسان کو بڑا نہیں بناتی، بلکہ اسے ظاہر کر دیتی ہے۔ وہ کردار پیدا نہیں کرتی، کردار کو آشکار کرتی ہے۔ اسی لیے تہذیبوں کا زوال عموماً بیرونی حملوں سے پہلے داخلی کمزوری سے شروع ہوتا ہے۔ جب قانون انصاف کے بجائے مفاد کی خدمت کرنے لگے، جب احتساب طاقتور کے دروازے پر رک جائے، اور جب ادارے اصولوں کے بجائے اشخاص کے تابع ہو جائیں تو معاشرے بظاہر قائم رہتے ہوئے بھی اندر سے کھوکھلے ہونے لگتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ سلطنتیں اکثر دشمنوں کے حملوں سے پہلے اپنی اخلاقی بنیادوں کے انہدام سے شکست کھاتی ہیں۔ ناانصافی، بےحسی، بدعنوانی اور ذمہ داری سے فرار وہ دیمک ہیں جو قوموں کو اندر ہی اندر چاٹ جاتی ہیں۔
یہی اصول افراد اور اقوام دونوں پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ جن معاشروں نے طاقت کو امانت سمجھا، انہوں نے قانون، تعلیم، نظم، احتساب اور اجتماعی ذمہ داری کو اپنی بنیاد بنایا اور محدود وسائل کے باوجود ترقی کی بلندیاں حاصل کیں۔ اور جنہوں نے طاقت کو ذاتی مفاد اور استحقاق کا ذریعہ بنا لیا، وہ وسائل کی فراوانی کے باوجود استحکام برقرار نہ رکھ سکے۔
آج دنیا کا سب سے بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں بلکہ کردار کی کمزوری ہے۔ معلومات پہلے سے زیادہ ہیں مگر حکمت کم ہے، اثر پہلے سے زیادہ ہے مگر بصیرت کم ہے، اور اختیار پہلے سے زیادہ ہے مگر جواب دہی کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ جدید دنیا کے بہت سے بحران اسی عدم توازن کی پیداوار ہیں۔
تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے: جس نے طاقت کو امانت سمجھا، اسے احترام ملا؛ اور جس نے اسے استحقاق سمجھا، وہ بالآخر احتسابِ تاریخ سے نہ بچ سکا۔ کیونکہ طاقت کبھی تنہا نہیں آتی۔ وہ اپنے ساتھ ذمہ داری، احتساب اور نتائج کا بوجھ بھی لاتی ہے۔ اسی لیے انسانی تاریخ کے طویل تجربے نے بارہا یہی ثابت کیا ہے کہ اختیار کی اصل عظمت اس کے حجم میں نہیں بلکہ اس کے استعمال کی اخلاقیات میں مضمر ہے۔ اور شاید انسانی تاریخ کا سب سے اٹل اور غیر جانب دار فیصلہ آج بھی یہی ہے:
طاقت آزادی نہیں، جواب دہی کا دوسرا نام ہے۔