• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکہ کے صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ (Franklin D. Roosevelt) کے دور میں جب دنیا کی سب سے بڑی معیشت عظیم معاشی بحران (Great Depression) کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، لاکھوں لوگ بے روزگار، بینک دیوالیہ اور عوام کا اعتماد شکستہ ہو چکا تھا، تو ریاست نے محض تماشائی بننے کے بجائے اپنی ذمہ داری نبھائی۔ حکومت نے وسیع پیمانے پر عوامی فلاحی پروگرام شروع کیے، جنہیں مجموعی طور پر (New Deal) کہا جاتا ہے۔ روزویلٹ کے طرزِ حکمرانی کی بنیاد اس اصول پر تھی کہ ریاست کا اولین فرض عوام کو معاشی خوف، بے روزگاری اور محرومی سے نجات دلانا ہے۔ ان اقدامات کو کبھی ذاتی سخاوت یا حکمران کی فیاضی کے طور پر پیش نہیں کیا گیا بلکہ انہیں ریاستی ذمہ داری سمجھا گیا۔

فطرت کے وسیع اور ہم آہنگ نظام پر نظر ڈالی جائے تو بارش زمین پر احسان نہیں جتاتی، سورج اپنی روشنی کے اشتہار نہیں لگاتا، دریا اپنی روانی کے قصیدے نہیں پڑھتا۔ نہ چاند اپنی چاندنی کا حوالہ دیتا ہے، نہ ستارے اپنی چمک پر داد کے طلبگار ہوتے ہیں، نہ موسم اپنی تبدیلیوں کو کارنامے بنا کر پیش کرتے ہیں، اور نہ ہوا اپنی گردش کو خدمت کے عنوان سے بیان کرتی ہے، سمندر اپنی وسعت پر فخر نہیں کرتا، پہاڑ اپنی بلندی کو احسان نہیں بناتے، اور درخت اپنے سائے کو عطیہ قرار نہیں دیتے۔ کائنات کا ہر عنصر اپنی فطری ذمہ داری کے مطابق مسلسل اپنا فرض ادا کرتا رہتا ہے؛ بغیر احسان جتائے، بغیر تشہیر کے، بغیر کسی توقف اور بغیر کسی دعوے کے۔

لیکن انسانی اقتدار کا المیہ اسی مقام پر شروع ہوتا ہے جہاں ذمہ داری کو مہربانی، فرض کو احسان، امانت کی ادائیگی کو ذاتی سخاوت اور حق کی ترسیل کو عطیہ بنا کر پیش کیا جانے لگتا ہے۔ یہ وہ نازک اور فیصلہ کن موڑ ہے جہاں حکومت خدمت کے دائرے سے نکل کر آقائیت و مالکیت کے مزاج میں داخل ہونے لگتی ہے، اور عوام کو بااختیار فرد کے بجائے ایک محتاج رعایا کی نفسیات کی طرف دھکیلا جانے لگتا ہے۔ یوں حق کی ادائیگی کو بھی احسان کا رنگ دے دیا جاتا ہے اور ایک ایسا بیانیہ تشکیل پاتا ہے جس میں بنیادی ذمہ داری بھی غیر معمولی کارنامہ محسوس ہونے لگتی ہے۔

جب حکمران اپنی ذمہ داری کو فیاضی اور عوام کے حق کو اپنا احسان سمجھنے اور جتانے لگے تو ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ اصل کام پس منظر میں چلا جاتا ہے اور تشہیر مرکز بن جاتی ہے۔ گویا حکومت اپنا فرض ادا نہیں کر رہی بلکہ قوم پر کوئی احسان کر رہی ہے۔

حالانکہ اگر عالمی منڈی میں تیل، گیس یا خوراک کی قیمتیں کم ہوں تو اس کا فائدہ عوام تک پہنچانا نہ سخاوت ہے، نہ سیاسی فیاضی بلکہ یہ آئینی تقاضا، اخلاقی فرض اور معاشی ذمہ داری ہے۔ لیکن جب اسی حق کی جزوی واپسی کو اشتہارات اور تعریفی بیانات کے ذریعے عظیم کارنامہ بنا دیا جائے، اور ساتھ ہی عوام سے شکر گزاری کی توقع بھی کی جائے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اصل احسان کس نے کیا ہے؟ حکومت نے عوام پر، یا عوام نے اپنے ٹیکس، اعتماد اور جمہوری اختیار کے ذریعے حکومت پر؟

یہی وہ فرق ہے جسے جان لاک (John Locke) نے صدیوں پہلے واضح کیا تھا۔ ان کے مطابق حکومت ایک Trust، یعنی امانت ہے۔ اقتدار ذاتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی طرف سے سونپی گئی ذمہ داری ہے۔ جب یہ امانت احسان میں بدلنے لگے تو حکومت اپنے اخلاقی جواز سے محروم ہونے لگتی ہے۔

اسی تصور کو ابراہم لنکن (Abraham Lincoln) نے اپنی شہرۂ آفاق تعریف میں یوں بیان کیا:

"Government of the people, by the people, for the people."

یعنی جمہوریت عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، اور عوام کے لیے ہے۔ اس تعریف میں کہیں بھی حکمران کی فیاضی یا احسان کا تصور موجود نہیں۔ ریاست کا جواز ہی عوامی خدمت اور عوامی جواب دہی ہے، نہ کہ اپنی ذمہ داریوں کی جزوی ادائیگی کا جشن۔

یہ مسئلہ محض معاشیات کا نہیں، سیاسی اخلاقیات کا بھی ہے۔ ایک مہذب حکومت یہ نہیں کہتی کہ "ہم نے عوام پر مہربانی کی ہے"، بلکہ وہ یہ کہتی ہے کہ "ہم نے اپنی ذمہ داری ادا کی ہے"۔ ان دونوں جملوں کے درمیان الفاظ کا نہیں، پوری سیاسی تہذیب کا فرق ہے۔

فرانس کے شاہی دربار اپنی فیاضی کے قصے سناتے رہے، مگر عوام بھوک اور افلاس سے نڈھال تھے۔ جب حکومت نے عوامی حقوق کی ادائیگی کو اپنی سخاوت سمجھنا شروع کیا تو وہی عوام انقلاب بن کر اٹھے اور صدیوں پرانا نظام زمین بوس ہوگیا۔

اس کے برعکس دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان کی قیادت نے بحالی کو کوئی احسان نہیں بنایا۔ ریاست اور عوام نے مشترکہ قربانیاں دیں، ناکامی کی ذمہ داری قبول کی اور کامیابی کو قومی شعور کا ثمر قرار دیا۔ یہی احساسِ ذمہ داری ایک تباہ حال ملک کو چند دہائیوں میں ترقی یافتہ دنیا کی صفِ اول میں لے آیا۔

سیاسی فلسفے میں ہنری ڈیوڈ تھورو (Henry David Thoreau) کا ایک مشہور اصول ہے:

"The government is best which governs least."

یعنی بہترین حکومت وہ ہے جو اپنی طاقت کے اظہار سے نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری کی خاموش ادائیگی سے پہچانی جائے۔

مغربی سیاسی فکر میں ایک اور اصول بار بار دہرایا گیا ہے کہ اچھی حکومت وہ نہیں جو اپنے کارناموں کا شور مچائے، بلکہ وہ ہے جس کی موجودگی عوام کی زندگی کو آسان بنا دے۔ کیونکہ حکمرانی کا کمال اپنی طاقت کا اظہار نہیں، بلکہ عوام کی مشکلات کا ازالہ ہے۔

"The true measure of any society is how it treats its most vulnerable members."

یعنی کسی بھی معاشرے یا حکومت کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ اس کے طاقتور لوگ کیسے رہتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے کمزور ترین لوگ کس حال میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

اگر بازار روشن ہوں مگر غریب کا چولہا ٹھنڈا رہے، اگر ترقی کے دعوے بلند ہوں مگر عام آدمی بنیادی سہولت سے محروم ہو، تو پھر تمام اعداد و شمار محض الفاظ رہ جاتے ہیں۔ کیونکہ حکومت کی اصل کامیابی اقتصادی اشاریوں سے پہلے انسانی چہروں پر پڑھی جاتی ہے۔

حکمرانی کی عظمت اقتدار کے دوام میں نہیں، بلکہ اس احساسِ ذمہ داری میں ہے جو عوام کی تکلیف کے ہوتے ہوئے حکمران کو آسودہ نہیں رہنے دیتا۔ اگر عوام پریشان ہوں تو اقتدار کا سکون بھی ایک اخلاقی سوال بن جاتا ہے۔

حکومت کی کارکردگی کا اصل پیمانہ اس کے دعوے، اشتہارات یا معاشی اشاریے نہیں، بلکہ معاشرے کے سب سے کمزور انسان کی زندگی ہے کیونکہ اس کی زندگی ہی دراصل حکومت کی کارکردگی کا سب سے سچا، سب سے معتبر اور آخری معیار ہے۔