• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپنے خوابوں کو ویزا فراڈ کا شکار بننے سے بچائیں

پاکستان بھر سے تعلق رکھنے والے خاندان اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی امید میں مجموعی طور پر کروڑوں روپے خرچ کر دیتے ہیں۔ 

بیٹے یا بیٹی کو بیرونِ ملک بھیجنے کے لیے وہ اپنی جمع پونجی نکالتے ہیں، آبائی زمین بیچتے ہیں اور کبھی کبھی اپنے گھر تک فروخت کر دیتے ہیں، بہت سے پاکستانیوں کے لیے برطانیہ پاکستان سے تاریخ، خاندانی رشتوں اور تعلیم، کاروبار اور تبادلے کی طویل روایت کے ذریعے جڑی ہوئی ایک فطری منزل ہے۔

 مارچ 2026ء کو ختم ہونے والے سال میں برطانیہ نے پاکستانی شہریوں کو 1 لاکھ 30 ہزار سے زائد ویزے جاری کیے، یہ تعداد دونوں ممالک کے مضبوط تعلق اور ان بے شمار پاکستانیوں کی عکاسی کرتی ہے جو تعلیم، کام یا رشتے داروں سے ملاقات کے لیے برطانیہ کا سفر کرتے ہیں، اس تعاون اور اِن مضبوط روابط کو برقرار رکھنے کے لیے ہمیں ویزے کے نظام میں اعتبار اور معیاری درخواستوں کو دوبارہ یقینی بنانا ہو گا۔

یہی تعلق ہمیں صاف گوئی برقرار رکھنے پر مجبور کرتا ہے، جب خاندان کروڑوں روپے لگا رہے ہوں، اثاثے بیچ رہے ہوں اور اپنے بچوں کے مستقبل پر امیدیں لگا رہے ہوں، تو ویزے کا غلط استعمال کوئی معمولی فریب نہیں بلکہ ایک ظالمانہ دھوکا دہی ہے، پاکستانیوں کی بھاری اکثریت نیک نیتی سے درخواست دیتی ہے اور قواعد کی پابندی کرتی ہے لیکن بے ایمان ایجنٹ اور مجرمانہ نیٹ ورک اس اعتماد کا استحصال کرتے ہیں، امنگوں کو نشانہ بناتے ہیں اور لوگوں کی مایوسیوں سے منافع کماتے ہیں۔

بہت سے خاندان جھوٹے وعدوں میں پھنس جاتے ہیں، ایک یقینی ویزا، ایسی نوکری جو وجود ہی نہیں رکھتی یا کالج کا ایسا داخلہ جو بعد میں جعلی ثابت ہوتا ہے، درست ویزا، اصلی دستاویزات یا نوکری کی باقاعدہ پیشکش کے بغیر سفر اختیار کرنا لوگوں کو بے یار و مددگار، استحصال کا شکار اور سنگین مشکلات میں ڈال سکتا ہے۔ 

اس کا مطلب زندگی بھر کی جمع پونجی کھونا، درخواست مسترد ہونا اور بہت دیر بعد یہ انکشاف ہو سکتا ہے کہ نہ کوئی نوکری ہے، نہ کوئی کورس اور نہ کوئی سہارا، جعلی دستاویزات استعمال کرنا یا غیر قانونی پیشکشوں پر انحصار کرنا کوئی شارٹ کٹ نہیں بلکہ فراڈ ہے اور اس کے نتائج سخت ہو سکتے ہیں، جن میں ویزے کا مسترد ہونا، آئندہ درخواستوں پر پابندی، مالی نقصان اور کسی شخص کے مستقبل اور ساکھ کو زندگی بھر کا نقصان شامل ہیں، کوئی ایجنٹ برطانوی ویزا جاری ہونے کی ضمانت نہیں دے سکتا، جعل سازی یا غلط بیانی ثابت ہونے کی صورت میں تمام ذمے داری اور نقصان متعلقہ افراد کا ہوتا ہے، ان کے امیگریشن ریکارڈ پر کئی سالوں یا ہمیشہ کے لیے منفی اثر پڑ سکتا ہے، فیصلے ثبوت، اہلیت اور قواعد پر ہوتے ہیں وعدوں یا ادائیگی پر نہیں۔

نوجوانوں کے لیے خطرات خاص طور پر زیادہ ہیں، جب کوئی وعدہ جھوٹا ثابت ہوتا ہے تو نقصان صرف مالی نہیں ہوتا، یہ نقصان گہری مایوسی بن کر، اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے زندگی کو سیدھی راہ سے بھٹکا دیتا ہے، اس کا شکار ہونے والے رسوا بھی ہو سکتے ہیں، والدین کو یہ بتانے کی ہمت نہ ہونا کہ وہ، وہ زندگی نہیں جی رہے جس کا وعدہ کیا گیا تھا یا ایک ماں کا یہ بتانے سے شرمانا کہ اس کا بیٹا یا بیٹی جو سنہرے خواب لے کر بیرونِ ملک گئے تھے، اب محض زیرو آور کنٹریکٹ پر بمشکل گزارہ کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ابتدائی تصدیق، ویزا ایجنٹس سے متعلق قوائد کا سخت نفاذ اور واضح عوامی معلومات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں، یہ امنگوں کو محفوظ بناتی ہیں، استحصال کو روکتی ہیں اور معتبر درخواست دہندگان کے لیے ویزا نظام کو بھروسہ مند بناتی ہیں۔

پاکستان میں بیرونِ ملک جانے کا رجحان بلند ہے اور بہت سے خاندانوں کے لیے خطرات حقیقی ہیں، غلط ایجنٹ پر بھروسہ کرنے والے سب کچھ کھو سکتے ہیں: برسوں کی بچت پل بھر میں ختم، زمین فروخت، زیورات گروی، قرضے چڑھ جانا اور خاندانی منصوبے برباد ہو جانا۔

برطانیہ میں غیر قانونی طریقے استعمال کر کے داخل ہونے والے اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے وطن واپس آنے سے بھی محروم ہو جاتے ہیں، انہیں یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ دوبارہ برطانیہ جانا ناممکن ہو جائے گا، برطانیہ میں جعلی دستاویزات یا دھوکا دہی کرنے والے درخواست دہندگان کی درخواستیں مسترد ہو سکتی ہیں، اجازت نامے منسوخ ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں دی جانے والی ویزا درخواستوں کے ضمن میں دیرپا منفی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

برطانیہ ہمیشہ سے پاکستانی طلبہ کے لیے ایک نہایت پرکشش منزل ہے اور جو لوگ جائز راستوں سے آتے ہیں وہ برطانیہ کی علمی زندگی میں کامیاب حصے دار ہوتے ہیں، وہ درخشاں کیریئر بناتے ہیں، شراکتیں قائم کرتے ہیں اور عوامی روابط پیدا کرتے ہیں جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہیں، جائز طریقہ کار کا تحفظ اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ ناصرف ان درخواست دہندگان کے لیے بلکہ برطانیہ اور پاکستان کے وسیع تر تعلق کے لیے اہم ہے۔

مشورہ سادہ ہے: رقوم کی ادائیگی، درخواست دینے یا ذاتی معلومات فراہم کرنے سے پہلے ذرا رکیں، جانچیں اور تصدیق کریں، حقیقی طلبہ کے لیے اس کا مطلب ہے برطانوی حکومت کے سرکاری ذرائع استعمال کرتے ہوئے ادارے، آجر یا مشیر کی قانونی حیثیت کی تصدیق کرنا لیکن ایک سخت حقیقت بھی ہے، کچھ افراد کو یہ جھوٹی یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ اگر وہ حصولِ تعلیم کے بہانے برطانیہ جائیں تو وہاں پہنچنے کے بعد سب کچھ خودبخود ٹھیک ہو جائے گا اور ان کی مستقل رہائش کا ذریعہ بن جائے گا، ایسی یقین دہانی دراصل غلط بیانی ہے اور اس کے سنگین نتائج ہیں، ایسے لوگوں سے محتاط رہیں جو یقینی نتائج، خاص رسائی یا قواعد کے برخلاف آسان نتائج کا وعدہ کرتے ہیں، یاد رکھیں کہ سب سے محفوظ راستہ ہمیشہ قانونی ہوتا ہے، درست معلومات اور براہِ راست تصدیق کے ساتھ۔

ویزا فراڈ سے نمٹنے کے لیے، برطانیہ اور پاکستان کے درمیان، اداروں اور کمیونٹیز کے درمیان اور حکومت، تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ کے درمیان مشترکہ اقدامات بھی ضروری ہیں، پاکستان میں اہم اقدامات پہلے ہی کئے جا چکے ہیں، وزیرِاعظم شریف کی ہدایت پر طلبہ کے استحصال کے خلاف ایک بین الوزارتی کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو ماہرین کو یکجا کر کے اس مسئلے کے حل اور ہر سطح پر حقیقی طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنا رہی ہے، اہم شراکت داروں میں ہائر ایجوکیشن کمیشن، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی، وزارتِ داخلہ اور وزارتِ قانون و انصاف شامل ہیں، تمام اداروں کے مل کر کام کرنے کا یہ نظام تیزی سے بڑی اور مثبت تبدیلیاں لا رہا ہے۔

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے انسانی اسمگلنگ اور ویزا فراڈ کے خلاف حالیہ کارروائیاں، ایئرپورٹس پر سخت جانچ اور باریک بینی سے خطرے کا تجزیہ، زیادہ متاثر ہونے والے افراد کے تحفظ اور قانونی سفر کی حمایت کے مضبوط عزم کو ظاہر کرتی ہیں، ویزا فراڈ میں شریک سہولت کاروں کی گرفت بہت مدت سے نہیں ہوئی، برطانوی اور پاکستانی قانون ادارے سزاوں اور سسٹم کنٹرولز کے ذریعے ان کی سرزنش کے لیے اپنی کوششوں کو ہم آہنگ کر رہے ہیں۔

موجودہ قوانین کے سخت نفاذ، ایجنٹوں اور رابطہ کاروں کی سخت نگرانی، جھوٹی تشہیر اور جعلی دستاویزات کے خلاف تیز کارروائی اور وسیع عوامی آگاہی جیسے مزید اقدامات کی گنجائش موجود ہے، تاکہ لوگ رقوم یا ذاتی معلومات دینے سے پہلے دعوؤں کی تصدیق کر سکیں، ہمیں معلوم ہے کہ حکومتِ پاکستان بھی یہی عزم رکھتی ہے: ممکنہ خطرے کی زد میں نادانستہ آجانے والے افراد کا تحفظ، قانونی نقل و حرکت کو برقرار رکھنا اور یہ یقینی بنانا کہ حقیقی درخواست دہندگان کو جعل سازی کے ذریعے نقصان نہ پہنچے۔

پاکستان سے قانونی نقاضے پورے کر کے اور درست طریقہ کار کا استعمال کر کے آنے والے حقیقی طلبہ، کارکن، ملاقاتیوں اور سیاحوں کا خیر مقدم کرنے کی برطانیہ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، نسلوں سے پاکستانیوں نے تعلیم، کام، کاروبار اور خاندانی روابط کے ذریعے برطانیہ کی زندگی کو مالا مال کیا ہے، اور یہ روابط آج بھی نہایت اہم ہیں۔ جھوٹی یقین دہانیوں کو چیلنج کرنے اور باشعور فیصلوں کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کر کے ہم یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ قانونی مواقع سب کے لیے دستیاب، قابلِ اعتماد اور محفوظ رہیں۔