• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ریاست اور عوام کے درمیان قائم ’’اعتماد‘‘ وہ غیر مرئی سرمایہ ہے جس پر سماجی استحکام، معاشی سرگرمی اور قومی یکجہتی کی پوری عمارت قائم ہوتی ہے۔ جب یہ باہمی اعتبار قائم رہے تو معاشرے توازن اور تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں، لیکن اس کے ڈگمگاتے ہی مہنگائی، بےروزگاری اور معاشی دباؤ اپنی اصل نوعیت کھو کر اجتماعی بےیقینی، اضطراب اور فکری انتشار میں ڈھل جاتے ہیں۔ اس مرحلے پر بحران محض معیشت تک محدود نہیں رہتا بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اخلاقی رشتے کے بکھرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال اس وقت شدت اختیار کرتی ہے جب محنت کے باوجود باوقار زندگی کی ضمانت باقی نہ رہے، روزگار بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو جائے اور نئی نسل مستقبل کو امکانات کے بجائے خدشات کے آئینے میں دیکھنے لگے۔

جب ریاستی ترجیحات اور زمینی حقائق میں ہم آہنگی باقی نہ رہے تو محرومی محض معاشی دائرے تک محدود نہیں رہتی بلکہ اجتماعی احساسِ عدم تحفظ میں ڈھلنے لگتی ہے۔ نتیجتاً وہ سماجی معاہدہ کمزور پڑ جاتا ہے جس کی بنیاد انصاف، تحفظ اور ذمہ داری کے باہمی توازن پر قائم ہوتی ہے۔ جب عمومی فضا کا اطمینان بھی متاثر ہونے لگے تو صورتِ حال مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے۔ اس مرحلے پر غربت اور مہنگائی محض مالی مشکلات نہیں رہتیں بلکہ اجتماعی شعور کو مسلسل بےیقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیتی ہیں، جہاں فرد حال کی بے بسی اور مستقبل کی فکرمندی کے درمیان ایک مستقل اضطراب میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ معاشی بحران اپنی ذات میں ہمیشہ تباہی کا پیش خیمہ نہیں ہوتے، بلکہ اصل انحطاط اس وقت شروع ہوتا ہے جب ان کے ساتھ اجتماعی اعتماد کا رشتہ کمزور پڑنے لگے۔ اس موقع پر فرد کا ذہنی افق سکڑنے لگتا ہے اور معاشی دباؤ اجتماعی نفسیات پر غالب آ جاتا ہے۔

جدید سیاسی فکر میں فرانسیسی مفکر ژاں ژاک روسو (Jean-Jacques Rousseau) نے ریاست کی بنیاد کو ’’اجتماعی رضامندی‘‘ کے تصور سے واضح کیا کہ ریاست جبر یا محض اختیار نہیں بلکہ وہ رضامندی ہے جس کے تحت افراد خود کو ایک بڑے اجتماعی وجود کا حصہ تسلیم کرتے ہیں۔ اس زاویے سے ریاست کی اصل قوت وسائل نہیں بلکہ وہ اعتماد ہے جو شہری اس کے نظم، انصاف اور مستقبل پر رکھتے ہیں۔ جب یہ رشتہ کمزور پڑتا ہے تو اقتدار کی اخلاقی بنیادیں بھی غیر مستحکم ہو جاتی ہیں۔

یہی تصور مختلف تہذیبی اور فکری روایتوں میں مختلف زاویوں سے سامنے آتا ہے۔ اسلامی روایت میں ریاست محض اقتدار نہیں بلکہ ایک امانت ہے جس کی بنیاد عدل، جواب دہی اور اجتماعی فلاح پر ہے۔ اس میں حکمرانی حق نہیں بلکہ ذمہ داری ہے، اور اس کا جواز طاقت نہیں بلکہ انصاف اور عوامی بھروسہ ہے۔

اسی تناظر میں اسلامی تصورِ اجتماعیت ریاست سے آگے بڑھ کر امت کی اخلاقی وحدت تک جاتا ہے، جس کے مطابق اہلِ ایمان کو ایک جسم کی مانند قرار دیا گیا ہے کہ اگر ایک عضو کو تکلیف پہنچے تو پورا جسم اس کا درد محسوس کرتا ہے۔ یہ محض جذباتی استعارہ نہیں بلکہ ایک مربوط اجتماعی شعور ہے جس میں فرد، معاشرہ اور اقتدار ایک ہی اخلاقی اکائی میں پروئے جاتے ہیں۔ اس تصور میں اعتبار محض انتظامی اصول نہیں رہتا بلکہ اجتماعی وجود کی اندرونی حرارت بن جاتا ہے۔

اعتماد کے انہدام کی ایک نمایاں تاریخی مثال فرانس کا انقلاب ہے، جہاں حکمرانی کی طاقت قانونی طور پر موجود تھی مگر معاشرتی سطح پر اپنی ساکھ کھو چکی تھی۔ طبقاتی خلیج اس حد تک گہری ہو گئی کہ سیاسی نظم برقرار رہا لیکن عوامی اعتبار ختم ہو گیا، اور یہی عدم توازن ایک بڑے سیاسی و سماجی تصادم کا پیش خیمہ بنا۔ یہ انقلاب اگرچہ مختلف سیاسی و معاشی عوامل کا مجموعہ تھا، تاہم اس میں اعتماد کا بحران بنیادی اور فیصلہ کن عنصر کی حیثیت رکھتا تھا، کیونکہ ریاستیں محض طاقت سے نہیں بلکہ اجتماعی بھروسے سے قائم رہتی ہیں۔

اسی لیے دانش مند اور دور اندیش ریاستیں محض معاشی اشاریوں کو کامیابی کا معیار نہیں سمجھتیں بلکہ ایسے حالات اور امکانات پیدا کرنے پر توجہ دیتی ہیں جن میں عوام اپنے مستقبل کے بارے میں یقین اور امید برقرار رکھ سکیں۔ جب شہری کو یہ احساس ہو کہ ریاست اس کے مسائل سے باخبر، ان کے حل کے لیے سنجیدہ و متفکر اور اس کے مستقبل کی خیر اندیش ہے تو سخت ترین حالات میں بھی اجتماعی حوصلہ قائم رہتا ہے۔ امید دراصل اسی اجتماعی بھروسے کی عملی صورت ہے، اور یہی امید معاشروں کو بحرانوں میں ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔

ریاستی نظم کا اصل امتحان بحران کے بعد ردعمل نہیں بلکہ بحران سے پہلے پیش بندی ہے۔ اس کے لیے ایسا معاشی و سماجی ڈھانچہ ناگزیر ہے جو فرد کو باوقار زندگی، مساوی مواقع، منصفانہ روزگار، معیاری تعلیم اور قابلِ رسائی صحت فراہم کرے۔ مضبوط ریاستیں نہ صرف موجودہ مشکلات و آفات کا ازالہ کرتی ہیں بلکہ ان اسباب کی جڑوں تک پہنچ کر انہیں ختم کرنے کی کوشش کرتی ہیں جو ان کے پیدا ہونے کا سبب بنتے ہیں۔

ریاست اور عوام کا رشتہ محض اختیار اور مطالبے کا نہیں بلکہ ایک مسلسل اور مستقل اخلاقی معاہدہ ہے۔ اگرچہ اس میں دونوں فریق شریک ہیں، لیکن اس کی حفاظت کی بنیادی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ وسائل، قانون سازی اور پالیسی سازی کا اختیار اسی کے پاس ہوتا ہے۔ اسی لیے حکمرانی کا اصل معیار وسائل کی مقدار نہیں بلکہ انصاف، شفافیت اور جواب دہی کے ذریعے اجتماعی بھروسے کی حفاظت ہے۔

وہ معاشرے زیادہ مستحکم ہوتے ہیں جہاں ریاست اور عوام کے درمیان فکری فاصلہ کم اور تعمیری مکالمہ زیادہ ہو۔ ایسے ماحول میں ادارہ جاتی شفافیت اور مساوی مواقع کو فروغ ملتا ہے، جس کے نتیجے میں معاشی ترقی کو تسلسل اور اجتماعی اعتماد کو استحکام نصیب ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جہاں یہ عوامل کمزور پڑ جائیں، وہاں اصلاحات عارضی ثابت ہوتی ہیں، کیونکہ پائیدار استحکام دراصل یقین اور اطمینان کی فضا ہی سے جنم لیتا ہے۔

ریاست کا تشخص اس کے اقتدار سے نہیں بلکہ اس اخلاقی رشتۂ اعتماد سے متعین ہوتا ہے جو وہ اپنی عوام کے ساتھ قائم کرتی ہے۔ جب یہ رشتہ قائم ہو تو مشکلات اجتماعی عزم میں ڈھل جاتی ہیں، اور جب یہ ٹوٹ جائے تو خوشحالی کے اعداد و شمار بھی اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ تاریخ کا مستقل سبق یہی ہے کہ ریاستیں وسائل کے انبار سے نہیں بلکہ عوامی یقین، انصاف اور اعتماد سے زندہ رہتی ہیں، اور یہی رشتہ ریاست و رعایا کو ایک جسم اور ایک جان بنا دیتا ہے۔