اقتصادی اعتبار سے یہ جنگ کچھ ایسی تھی جیسے کسی نے دنیا کی مہنگی ترین اسپورٹس کار خرید کر اسے ایک تنگ گلی میں بچوں کی سائیکلوں کے ساتھ دوڑانے کا فیصلہ کر لیا ہو۔ طاقت، رفتار اور شان و شوکت اپنی جگہ، مگر سوال یہ تھا کہ کیا ہر مقابلہ صرف دولت سے جیتا جا سکتا ہے؟پینٹاگون کے اندازوں کے مطابق ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘پر دسیوں ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ ایسی رقم جو بعض چھوٹے ممالک کی کئی سالہ ترقیاتی منصوبہ بندی سے بھی زیادہ ہے۔اس رقم میں جنگی کارروائیاں، فضائی دفاعی نظام، اضافی فوجی تعیناتیاں، تباہ شدہ سازوسامان کی مرمت اور نئے ہتھیاروں کی خریداری شامل ہے۔لیکن جدید جنگوں کا ایک عجیب المیہ ہے۔میدانِ جنگ میں گولیوں کی آواز جلد خاموش ہو جاتی ہے، مگر حساب کتاب کی سرگوشیاں بہت دیر تک سنائی دیتی رہتی ہیں۔جنگ ختم ہونے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ آدھی توانائی دشمن کا مقابلہ کرنے میں صرف ہوئی اور باقی آدھی اپنے اخراجات کا بوجھ اٹھانے میں۔
اس تنازعے نے امریکی فضائی دفاعی نظاموں کو بھی ایک غیر معمولی آزمائش سے گزارا۔ ایران کے ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے کیلئے ایسے انٹرسیپٹر میزائل استعمال کیے گئے جن کی قیمتیں عام آدمی کے تصور سے بھی باہر ہیں۔ منظر کچھ یوں تھا کہ نسبتاً کم لاگت والے ڈرون آسمان میں سفر کر رہے تھے اور ان کے تعاقب میں کروڑوں ڈالر مالیت کے میزائل روانہ ہو رہے تھے۔یہ صرف عسکری منظر نہیں تھا، یہ جدید دنیا کی معاشی منطق کا ایک استعارہ بھی تھا۔ایک طرف مہنگی ترین ٹیکنالوجی تھی، دوسری طرف محدود وسائل۔ایک طرف سرمایہ تھا، دوسری طرف حکمتِ عملی۔اور انہی دو انتہاؤں کے درمیان یہ پوری جنگ وقوع پذیر ہوئی۔
اس تنازعے کے دوران ایک حقیقت بار بار سامنے آئی کہ بعض اوقات کسی ہدف کی قیمت اس ہتھیار سے ہزاروں گنا زیادہ ہوتی ہے جو اسے نشانہ بناتا ہے۔ گویا پچاس روپے کی غلیل کسی محل کے شیشے کو چکنا چور کر دے اور محل کے مالک کو اپنی ساری دولت کے باوجود بے بسی محسوس ہونے لگے۔دنیا بھر کے عسکری ماہرین اسی سوال پر غور کرتے رہے کہ آخر اتنی مہنگی اور پیچیدہ ٹیکنالوجی کو نسبتاً سادہ اور کم لاگت والے نظاموں نے اتنا پریشان کیوں کیا؟شاید اس لیے کہ تاریخ ہمیشہ طاقت سے نہیں، بعض اوقات تخلیقی صلاحیت سے بھی لکھی جاتی ہے۔شاید اس لیے کہ جنگیں صرف وسائل کی نہیں بلکہ ذہانت کی بھی آزمائش ہوتی ہیں۔شاید اس لیے کہ ہر دور میں کچھ ایسے لمحے آتے ہیں جب پرانے تصورات دیوار سے ٹکرا کر ٹوٹنے لگتے ہیں۔
یہ جنگ بھی ایسے ہی ایک لمحے کی دستک تھی۔اس نے یاد دلایا کہ جدید دنیا میں صرف طاقتور ہونا کافی نہیں، سمجھدار ہونا بھی ضروری ہے۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، مصنوعی ذہانت، جدید ریڈار، سپر کمپیوٹر اور سیٹلائٹ نیٹ ورک اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن یہ سب مل کر بھی ناقابلِ تسخیر ہونے کی ضمانت نہیں دیتے۔شطرنج میں ہمیشہ مہنگا مہرہ نہیں جیتتا۔کبھی کبھی کامیابی اس چال کو ملتی ہے جس کا اندازہ کسی نے نہیں لگایا ہوتا۔ایران نے محدود وسائل کے باوجود شاید یہی پیغام دینے کی کوشش کی کہ جنگ کا مستقبل صرف سرمایہ نہیں بلکہ حکمت، صبر اور تخلیقی صلاحیت بھی طے کریں گے۔
اس تنازعےنےایک اور حقیقت کو بھی نمایاں کیا۔اکیسویں صدی کی جنگیں اب فلمی کہانیوں جیسی نہیں رہیں جہاں ایک طرف مکمل ہیرو اور دوسری طرف مکمل ولن ہوتا ہے۔ آج کی جنگیں بہت پیچیدہ ہو چکی ہیں۔ یہاں میزائل بھی فضا میں سفر کرتے ہیں اور کیلکولیٹر بھی میزوں پر چلتے رہتے ہیں۔ ہر حملے کے ساتھ ایک مالیاتی قیمت جڑی ہوتی ہے اور ہر دفاعی کارروائی کے پیچھے ایک نیا بجٹ تیار ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے مبصرین اس تصادم کو صرف فوجی مقابلہ نہیں بلکہ دو مختلف معاشی فلسفوں کا تصادم قراردیتےہیں۔ایک طرف اربوں ڈالر کی طاقت۔دوسری طرف کم لاگت اور زیادہ لچکدار حکمتِ عملی۔اصل سوال یہ نہیں کہ کس نے زیادہ میزائل چلائے۔اصل سوال یہ ہے کہ کس نے کم قیمت میں زیادہ اثر پیدا کیا۔
اور شاید یہی وہ دستک ہے جو اس جنگ نے دنیا کی دیوار پر دی ہے۔یہ دستک ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت کے پرانے اندازے بدل رہے ہیں۔یہ دستک ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر بڑی قوت کے سائے میں ایک کمزور مگر غیر متوقع امکان بھی موجود رہتا ہے۔یہ دستک ہمیں خبردار کرتی ہے کہ آنے والے زمانے میں جنگیں صرف میدانوں میں نہیں بلکہ معیشت، ٹیکنالوجی، ذہانت اور حکمتِ عملی کے پیچیدہ میدانوں میں بھی لڑی جائیں گی۔
اگر اس پورے تنازعے کا ایک جملے میں خلاصہ کیا جائے تو شاید وہ یہ ہوگا:’’یہ جنگ میزائلوں سے کم اور اندازوں سے زیادہ لڑی گئی، اور سب سے گہرا زخم شاید اُن تصورات کو لگا جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھتے تھے۔‘‘