• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلڈ پریشر کم نہیں ہو رہا؟ یہ 5 عام غلطیاں صحت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

دوا لینے کے باوجود اگر بلڈ پریشر قابو میں نہیں آ رہا تو اس کی وجہ صرف موروثی عوامل یا دوا کی کمی نہیں بلکہ روز مرہ کی چند عام عادتیں بھی اس مسئلے کو برقرار رکھ سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر ایک خاموش قاتل بیماری ہے جو دل، دماغ، گردوں اور دیگر اہم اعضاء کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اس پر قابو پانے کے لیے درج ذیل 5 عام غلطیوں سے بچنا ضروری ہے۔

1۔ پیک غذاؤں میں چھپا نمک نظر انداز کرنا

صرف کھانے میں نمک کم کرنا کافی نہیں، ڈبل روٹی، انسٹینٹ نوڈلز، سوپ، اچار، پاپڑ اور ناشتے کی کئی تیار غذاؤں میں نمک کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو بلڈ پریشر بڑھا سکتی ہے۔

2۔ پوٹاشیئم کی کمی

پوٹاشیئم جسم سے اضافی نمک خارج کرنے اور خون کی نالیوں کو آرام دینے میں مدد دیتا ہے، سبز پتوں والی سبزیاں، تازہ پھل اور مکمل اناج کم کھانے سے بلڈ پریشر قابو میں رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

3۔ گھر میں بلڈ پریشر غلط طریقے سے چیک کرنا

سیڑھیاں چڑھنے، ذہنی دباؤ کی حالت میں یا ٹانگیں کراس کر کے بیٹھ کر بلڈ پریشر چیک کرنے سے نتائج درست نہیں آتے، پیمائش سے پہلے کم از کم 5 منٹ پُرسکون ہو کر بیٹھیں، پاؤں زمین پر رکھیں، بازو دل کی سطح پر ہو اور پیمائش کے دوران بات نہ کریں۔

4۔ مسلسل ذہنی دباؤ کو معمولی سمجھنا

مسلسل ذہنی دباؤ کے باعث جسم میں تناؤ پیدا کرنے والے ہارمونز بڑھ جاتے ہیں جس سے دل تیزی سے دھڑکتا ہے اور خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، نتیجتاً بلڈ پریشر مسلسل بلند رہ سکتا ہے۔

5۔ ناکافی نیند لینا

گہری نیند کے دوران بلڈ پریشر قدرتی طور پر 10 سے 20 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔

روزانہ 6 گھنٹے سے کم نیند لینے سے جسم کو یہ قدرتی آرام نہیں ملتا جس سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف دوا پر انحصار کافی نہیں، بلکہ متوازن غذا، مناسب نیند، ذہنی دباؤ میں کمی اور درست طرزِ زندگی اپنانے سے ہائی بلڈ پریشر کو مؤثر انداز میں قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید