فرانس میں ماڈل اسکاؤٹ اور جیفری ایپسٹین سے خواتین کا تعارف کرانے والا ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں ملا ہے۔
فرانسیسی پراسیکیوٹرز کے مطابق 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش نواحی علاقے کولومب میں واقع اس کی رہائش گاہ سے ملی۔
حکام نے موت کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ لاش کا پوسٹ مارٹم بھی کرایا جائے گا۔
ڈینیئل سیاد ان فرانسیسی افراد میں شامل تھا جن پر الزام تھا کہ انہوں نے امریکی مالیاتی شخصیت اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کو خواتین فراہم کرنے اور انہیں جنسی استحصال کے لیے پھانسنے میں مدد دی۔
متعدد خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے ان کا تعارف ایپسٹین سے کرایا، جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنیں۔
تاہم ڈینیئل سیاد نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایپسٹین نے مجھے دھوکا دیا تھا اور مجھے یہ علم نہیں تھا کہ وہ ایک خطرناک شخص ہے۔
سیاد کے خلاف فرانس میں زیادتی اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات پر بھی تحقیقات جاری تھیں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق ڈینیئل سیاد کا نام ایپسٹین سے متعلق جاری ہونے والی تقریباً 2 ہزار دستاویزات میں سامنے آیا، جن سے معلوم ہوا کہ وہ مختلف ممالک کے سفر کے دوران ملنے والی خواتین کی تصاویر باقاعدگی سے ایپسٹین کو بھیجتا تھا۔
2014ء کی ایک ای میل میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ کبھی جلدی شکار مل جاتا ہے اور کبھی ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔
سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا ہے کہ میرے مؤکل سے ابھی تک فرانسیسی تفتیش کاروں نے پوچھ گچھ نہیں کی تھی، تاہم وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے خواہش مند تھے۔
وکیل نے کہا کہ اگر سیاد کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے تو اس میں روزانہ برداشت کیے جانے والے شدید ذہنی دباؤ، انتظار اور بے چینی کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔
ایپسٹین کیس سے منسلک متاثرہ خواتین نے سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید حقائق سامنے آ سکتے تھے۔
سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ کا دعویٰ ہے کہ 2004ء میں سیاد نے میرا تعارف ایپسٹین سے کرایا تھا۔
جولیٹ نے کہا ہے کہ سچ تک پہنچنے اور ذمے دار افراد کی نشاندہی کرنے والی ایک اہم کڑی ختم ہو گئی۔
دوسری جانب سابق سوئیڈش ماڈل ایبّا کارلسن، جنہوں نے فروری میں سیاد کے خلاف زیادتی کی شکایت درج کرائی تھی، ان کا کہنا ہے کہ گرفتاری قریب تھی اور انصاف کی امید پیدا ہو گئی تھی، لیکن اس کی موت سے شدید مایوسی ہوئی۔
یاد رہے کہ 2022ء میں ایپسٹین سے تعلق رکھنے والا فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ ژاں لوک برونیل بھی فرانس کی جیل میں خودکشی کر چکا تھا، جہاں اسے خواتین فراہم کرنے کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔
جیفری ایپسٹین 2019ء میں امریکا میں جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کی سماعت سے قبل جیل میں مردہ پایا گیا تھا، امریکی حکام نے اس کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا۔