• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تباہی سے کامیابی تک: ابھی بینک کی شاندار واپسی

کبیر نقوی
انٹرپرینیور اِن ریزیڈنس، ابھی گروپ

کچھ کہانیاں ترقی کی ہوتی ہیں اور کچھ کچھ بقا کی۔ لیکن صدیوں میں کبھی کبھار ایسی داستان جنم لیتی ہے جو دوبارہ زندگی پانے کی مثال بن جاتی ہے۔

جب ٹی پی ایل اور ابھی نے بینکاری کے شعبے میں قدم رکھنے کے لیے اشتراک کیا تو مقصد کوئی آسان ہدف حاصل کرنا نہ تھا۔ اس اشتراک کی بدولت ہم پاکستان کے مالیاتی شعبے کی تاریخ کے سب سے مشکل ادارہ جاتی بحالی کے چیلنجز میں سے ایک کو قبول کر رہے تھے۔

ابھی مائیکروفنانس بینک کے سابق شیئر ہولڈر فنکا انٹرنیشنل نے برسوں تک ہزاروں افراد کی خدمت کرنے والا بینک کھڑا کیا تھا لیکن کووڈ-19 کے تباہ کن اثرات کے بعد ہونے والے نقصانات اس حد تک پہنچ چکے تھے کہ اس بینک کا باقی رہنا ہی ناممکن ہوگیا تھا۔ ملکیت کی منتقلی کے اس مرحلے میں ایک اصول سابقہ شیئر ہولڈرز کے لیے انتہائی اہم تھا ادارہ ایسے گروپ کے حوالے کیا جائے جو نہ صرف بیلنس شیٹ کو بحال کرے بلکہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرے، روزگار برقرار رکھے اور ادارے کے مستقبل کو ذمہ داری کے ساتھ دوبارہ تعمیر کرے۔

ہمیں محض ایک مشکلات کا شکار مالیاتی ادارہ نہیں ملا تھا بلکہ ایسا ادارہ ملا تھا جس نے اپنی رفتار، اعتماد، حوصلہ اور سمت سب کچھ کھو دیا تھا۔ بینک میں کام کرنے والوں پر خوف طاری تھا اور امنگوں کی جگہ مایوسی نے لے لی تھی۔ ادارہ جاتی ثقافت کمزور، ساکھ متاثر ہو چکی تھی، قرض وصولی تقریباً رک چکی تھیں، تین سال سے قانونی آڈٹ مکمل نہیں ہوئے تھے اور ادارے کی کریڈٹ ریٹنگ معطل تھی۔ ایک لاکھ سے زائد صارفین نے عملاً قرض کی اقساط دینا بند کردی تھیں اور کاروباری ماڈل پائیدار ترقی کے قابل نہیں رہا تھا۔

اس کے باوجود صرف ایک سال کے اندر ہم نے پاکستان کی بینکاری تاریخ کی نمایاں ترین بحالیوں میں سے ایک کو ممکن بنایا۔ یہ کامیابی سرمایہ کاروں کے اعتماد، شیئر ہولڈرز کی دلچسپی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رہنمائی کی بدولت حاصل ہوئی۔

اس تبدیلی کی بنیاد تین ستونوں پر رکھی گئی:

• شیئر ہولڈرز کی جانب سے سرمایہ کاری

• اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی اسٹریٹجک معاونت

• انتظامیہ اور ملازمین کی کارکردگی کے لیے غیر مشروط وابستگی

اگر سرمایہ کاروں کا اعتماد نہ ہوتا تو ادارہ زندہ نہ رہتا۔ اگر ریگولیٹر کا اعتماد نہ ملتا تو ادارہ سانس بھی نہ لے پاتا۔ اور اگر عملی اقدامات نہ اٹھائے جاتے تو یہ بینک دوبارہ کھڑا نہ ہوپاتا۔

لیکن ابتدا ہی سے ایک چوتھا اصول بھی ہر فیصلے کے مرکز میں موجود تھا:

رسک کا تحفظ۔

ہم نے خود سے، ریگولیٹر سے اور ادارے سے وعدہ کیا کہ بینک کو جارحانہ انداز میں ترقی کی جانب لے کر جائیں گے۔ مگر غیر فعال قرضوں میں اضافہ نہیں ہونے دیں گے۔ کیونکہ نظم و ضبط کے بغیر ترقی ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے مترادف ہوتی۔ اس لیے رفتار کے ساتھ ساتھ پورٹ فولیو کے معیار کو برقرار رکھنا ہماری اولین ترجیح رہا۔

روایتی دانش یہ کہتی ہے کہ پہلے کمپلائنس کو بہتر کیا جائے اور کاروری وسعت سے گریز کیا جائے ترقی کا عمل اس وقت تک موخر کیا جائے جب تک تمام اعشاریئے مثبت نہ ہوجائیں۔ لیکن ادارے خوف سے زندہ نہیں ہوتے وہ رفتار، یقین اور فیصلہ کن اقدامات سے دوبارہ زندگی پاتے ہیں۔

جب ہم نے مختلف برانچوں اور شعبہ جات میں ملازمین سے ملاقاتیں شروع کیں تو جلد ہی ایک اہم حقیقت سامنے آئی کہ مسئلہ لوگوں میں نہیں تھا۔ ادارے کے اندر موجود ٹیلنٹ اور عملی صلاحیت ہمیشہ موجود تھی۔ ناکامی دراصل حکمتِ عملی، سمت اور اعتماد کی تھی۔ یہ احساس سب کچھ بدلنے کے لیے کافی تھا۔

ہم نے سننے کا عمل شروع کیا۔ برانچ در برانچ جا کر ٹیموں سے ملاقاتیں کیں ان کے مسائل سنے اعتماد بحال کیا اور ادارے کو دوبارہ اس کے لوگوں سے جوڑ دیا۔ پہلی ترجیح قرض کی وصولی کے نظم و ضبط کو بحال کرنا تھا جبکہ ساتھ ہی سیلز بڑھانے پر بھی زور دیا گیا تاکہ آمدنی میں اضافہ ہو اور مالیاتی انجن دوبارہ متحرک ہو سکے۔

اس وقت تک حصول کا عمل ابھی جانچ پڑتال (Due Diligence) کے مرحلے میں تھا۔ بینک کو ہر مہینے تقریباً 20 کروڑ روپے کے خسارے کا سامنہ تھا۔ اس وجہ سے مستقبل پر غیر یقینی کے بادل منڈلا رہے تھے۔ اس کے باوجود ہم نے فیصلہ کیا کہ کسی بڑے سرمایہ کاری انجیکشن سے پہلے یہ ثابت کریں گے کہ ادارہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر بحال ہو سکتا ہے۔

پھر ایک حیران کن واقعہ پیش آیا

ادارے نے نئی سرمایہ کاری آنے سے پہلے ہی ایک مہینے میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے کا منافع کمایا۔ مالی اعتبار سے یہ رقم شاید بہت بڑی نہ تھی لیکن علامتی اعتبار سے اس نے سب کچھ بدل دیا۔ یہ ملازمین کے لیے پہلا واضح اشارہ تھا کہ ادارہ دوبارہ کھڑا ہو سکتا ہے۔ اعتماد واپس آیا، توانائی لوٹی اور ٹیموں نے خود پر یقین کرنا شروع کر دیا۔

اسی یقین نے مستقبل کی تمام کامیابیوں کی بنیاد رکھی

ہم نے یہ بھی سمجھ لیا تھا کہ صرف اخراجات کم کرنا ادارے کو مزید نقصان پہنچائے گا۔ ماضی میں لاگت کم کرنے کے اقدامات اتنے سخت تھے کہ ادارہ گویا "ہڈی تک کاٹ" چکا تھا۔ ہماری سوچ اس کے برعکس تھی کہ یہ پیچھے ہٹنے کا نہیں بلکہ سرمایہ کاری کا وقت تھا۔

مشکل حالات کے باوجود ہم نے جارحانہ انداز میں ڈپازٹس حاصل کرنے کی مہم شروع کی۔ روایتی سوچ یہ تھی کہ مالیاتی گوشواروں کی اشاعت اور مکمل کمپلائنس کے بغیر خاطر خواہ ڈپازٹس حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ لیکن ہماری ٹیمیں اعتماد اور عزم کے ساتھ مارکیٹ میں نکلیں۔

نتائج غیر معمولی تھے

مختصر عرصے میں ڈپازٹ بیس دوگنی سے زیادہ ہو گئی۔ اسی سرمایہ کو قرضوں کے پورٹ فولیو میں استعمال کیا گیا جو تقریباً تین گنا بڑھ گیا۔ تقریباً 16 ارب روپے کے پورٹ فولیو کو سنبھالنے والا وہی برانچ نیٹ ورک مزید 30 ارب روپے سے زائد قرضے شامل کرنے میں کامیاب ہوا۔ اس سے ثابت ہوا کہ غیر معمولی نتائج کے لیے بڑے نیٹ ورک کی نہیں بلکہ واضح حکمتِ عملی، ہم آہنگی اور مؤثر عملدرآمد کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس تبدیلی کے سفر کا ایک اہم موڑ ادارے کا اسلام آباد منتقل ہونا تھا

یہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک نئی پیدائش کی علامت تھا۔ بینک کی بحالی میں 150 سے زائد خاندان ہمارے ساتھ اسلام آباد منتقل ہوئے۔ وہ اپنے ساتھ امیدیں، خواب اور بہتر مستقبل کا یقین لے کر آئے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم پرانے ادارے کو بحال نہیں کریں گے بلکہ ایک نیا ادارہ تشکیل دیں گے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس سفر میں خصوصی خراجِ تحسین کا مستحق ہے۔ ریگولیٹر نے ہماری سنجیدگی کو تسلیم کرتے ہوئے کمپلائنس کے اہداف حاصل کرنے کے لیے کئی سال پر مشتمل ایک منظم ٹائم لائن دی جس کے دوران ہم ادارے کو مستحکم اور ذمہ دارانہ انداز میں بحال کر سکیں۔

آج 114 برانچیں اور وہی 550 لون آفیسرز پہلے کے مقابلے میں کہیں بڑا اور زیادہ مؤثر پورٹ فولیو سنبھال رہے ہیں۔ سابقہ آڈٹس مکمل ہو چکے ہیں، لیگیسی اکاؤنٹس اپ ڈیٹ ہو چکے ہیں، گورننس مضبوط ہو چکی ہے اور کمپلائنس کے اہداف توقعات سے کہیں پہلے حاصل کیے جا رہے ہیں۔

سال2025 کے اختتام تک بینک نے ایک ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع حاصل کیا جو مختصر مدت میں منافع میں 2.7 ارب روپے کی حیرت انگیز بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔ اس طرح مارکیٹ نے محض بحالی نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر تبدیلی کا مشاہدہ کیا۔

جو چیز بہت سوں کو ناقابلِ بحال لگتی تھی وہ مالیاتی شعبے کی حالیہ تاریخ کی تیز ترین ادارہ جاتی بحالیوں میں سے ایک بن گئی۔

لیکن ہمارے لیے یہ منزل نہیں ہے

ابھی گروپ کی بنیاد ہی ٹیکنالوجی اور مالیاتی جدت پر رکھی گئی ہے۔ ہمارا طویل المدتی وژن صرف ایک روایتی بینک چلانا نہیں بلکہ ایک علاقائی ڈیجیٹل بینک بنانا ہے جو ٹیکنالوجی کے ذریعے مالیاتی خدمات تک رسائی کو نئی شکل دے۔

ابھی بینک کا اگلا مرحلہ ڈیجیٹل بینکاری، بینکاری ایک خدمت، ایمبیڈڈ فنانس، پیشگی تنخواہ اور قرض تک آسانی رسائی پر مرکوز ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ مستقبل کی بینکاری صرف برانچوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ روزمرہ کے معاشی نظام کا حصہ بن جائے گی اور افراد و کاروبار دونوں کے لیے ہر جگہ دستیاب ہوگی۔

یہ تبدیلی صرف ایک بینک کی کہانی نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی کی داستان ہے۔

یہ اس یقین کی علامت ہے کہ پاکستان کے ادارے دوبارہ کھڑے ہو سکتے ہیں، قیادت اب بھی اہمیت رکھتی ہے، اور ریگولیٹرز، سرمایہ کار، بورڈز اور ملازمین مل کر غیر معمولی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔

آج ابھی بینک صرف ایک مالیاتی ادارہ نہیں بلکہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ زوال تقدیر نہیں ہوتا۔

پاکستان پر ہمارا اعتماد غیر متزلزل ہے، اور یہ واپسی صرف آغاز ہے۔