ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے چہرے پر تیزاب پھینکنے والے شخص کو پولیس مقابلے میں ماردیا گیا۔پتہ نہیں مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں اس سزا پر حیران ہوں۔اتنے بڑے جرم کی اتنی آسان سی سزا؟ دینے والے نے جو تکلیف دی ہے، اس سے ایک عورت عمر بھر گزرے گی۔وہ روز جیے گی اور روز مرے گی۔مگر مجرم کو موت کا ایک چکر دیا اور بات ختم؟کیوں۔سر سے ایک بوجھ اتارنے میں ہم نے اتنی جلدی کیوں کی؟ پل پل مرنے کی سزا یکبارگی موت کیسے ہوسکتی ہے۔یہ غلط ہے۔کوئی معجزہ ہونا چاہیے یا سائنس لڑائی جانی چاہیے۔مجرم کو موت کی نیند سے جگانا چاہیے۔اسے جیتے جی مرنےکی سزا ملنی چاہیے۔روز اٹھنے اور روز ہی گرنے کی اذیت سے گزارنا چاہیے۔پھر اسے گویائی کی طاقت ملنی چاہیے۔جو ایتھنز سے پرانی دلی تک کسی کو نہ ملی ہو۔اسے کہنا چاہیے، کہو کیا کہنا چاہوگے۔جو وہ کہے، ہم سب کو کاپی پنسل لیکر اسے نوٹ کرنا چاہیے۔اگر اس کا کہا آئینہ بن جائے، اور آئینے میں ہمیں اپنی ہی شکل دکھنے لگ جائے، تو اس اذیت سے ہمیں بھی ایک بار گزرنا چاہیے۔
ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے چہرے پر تیزاب کس نے پھینکا؟ہم نے پھینکا۔تیزاب پھینکنے والے اجتماعی شعور کے نمائندے ہیں۔ہم سب کے شعور میں تیزاب کی ایک بوتل کہیں نہ کہیں رکھی ہے۔شکل مختلف ہوسکتی ہے مگر ہے تیزاب ہی۔ کوئی چہرے پر پھینک رہا ہے کوئی دامن پر۔جس کے پاس اظہار کی قوت نہیں ہے، وسائل نہیں ہیں، بات گھمانے کا فن نہیں ہے، واردات ڈالنے کا ہنر نہیں ہے، وہ سیدھا چہرے پر تیزاب پھینک رہا ہے۔جس کے پاس ہنرہے، وسائل ہیں، چھپنے کو خفیہ خانے ہیں، نکلنے کو پتلی گلیاں ہیں، وہ عورت کے دامن پر اور اس کی پروفائل پر تیزاب پھینک رہا ہے۔انکار پر نمبر کاٹ دینا، سالانہ رپورٹ خراب کر دینا، چیٹ لیک کر دینا، کیرئیر تباہ کر دینا،تصویریں لیک کر دینا،ا سکرین شاٹ لگا دینا، نجی زندگی کا کوئی حوالہ افشا کرکے اسکے گرد بدکرداری کا جال کھینچ دینا، تنہائی کی طرف دھکیل دینا، یہ سب تیزاب گردی ہے۔
معیشت کی بہتری یا ابتری کا اندازہ فرد کے فوری حالات سے نہیں بلکہ مارکیٹ کے مجموعی رجحانات سے لگایا جاتا ہے۔شعور کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔فرد کا شعوری کردار اسکے ذاتی دعوؤں سے نہیں، بلکہ عمومی فکری فضا اور رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے۔انفرادیت، شناخت اور اختیار زندگی کے عناصر ہیں۔یہ عناصر یہاں کتنی بچیوں اورعورتوں کو میسر ہیں؟جس عورت سے یہ سب چھیناجا چکا ہے، اسکے وجود پر تیزاب پھینکا جا چکا ہے۔بڑی تعداد ان عورتوں کی ہے جنہوں نے اختیار پر سمجھوتہ کیا ہوا ہے۔یہاں بےا ختیار عورت باکردار ہے اور بااختیار عورت بد کردار۔وہ عورت بھی خوش کردار ہے جو تیزاب کی گھریلو اور سماجی بوتلوں سے ڈری ہوئی ہے۔یہ بوتلیں ہم سب کے ہاتھ میں کسی نہ کسی مقدار میں موجود ہیں۔ہم چہرے پر تیزاب نہیں پھینک رہے مگر تیزاب پھینکنے والے سے کچھ ہی پیچھے کسی صف میں ضرور کھڑے ہیں۔جی میں یہ مانتا ہوں کہ پانچوں انگلیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں اور چیزوں کو جرنلائز نہیں کرنا چاہیے۔لوگ اچھے بھی ہوتے ہیں، بالکل ہوتے ہیں۔جو اچھے ہیں وہ قطار سے خاموشی کے ساتھ نکل جائیں۔
کتاب و نصاب بڑی چیز ہے مگرتجربے اور مشاہدے سے بڑی نہیں ہے۔مشاہدہ یہ ہے کہ ہر دس میں سے آٹھ اسی تیزابی قطار میں کھڑے ہیں۔زیادہ ہوگئے؟ چلیں پانچ کرلیں۔ایک بات توآپ بھی مانیں گے۔یہ جو افسردہ نظر آرہے ہیں، ان میں زیادہ تر چہرے صرف تیزاب پھینکے جانے پرافسردہ ہیں۔اگر شام تک کوئی باکردار شخص یہ انکشاف کردے کہ یہ عورت ’بدکردار‘ تھی تو افسردہ چہرے کتنے رہ جائیں گے۔تب کتنے رہ جائیں گے جب’ بدکرداری‘ کے ثبوت بھی نکل آئیں گے۔جی میں جانتا ہوں کہ آپ ریلیشنز وغیرہ کو بدکرداری نہیں سمجھتے۔آپکی بات تو میں کربھی نہیں رہا۔میں تواجتماعی شعور کی بات کررہا ہوں۔ماضی میں ایک ریپ کیس میں ایک بااثر شخص کا بیٹاملوث نکلا تو یہ وضاحت دی گئی کہ تحقیقات جاری ہیں، ابتدائی طور پر یہ خبر سامنے آئی ہے کہ عورت پیشہ ور تھی۔میرا خیال غلط ہوسکتا ہے، مگر یہ بیان اس لیے جاری کرنا پڑا کہ عورت کے گرد اکٹھی ہونے والی ہمدردیاں یکلخت چھٹ جائیں۔ایسا ہوا بھی۔اورایسا ہوتابھی ہے۔جرم فرد نے کیا ہوتا ہے،مگر مجھے اور آپ کو اس میں شامل کرنے کیلئے وہ کردار کا حوالہ لے آتا ہے۔ہم ہنسی خوشی جرم میں شامل بھی ہوجاتے ہیں، پھر کہتے ہیں ہمارے ہاتھ صاف ہیں۔
قانون؟ اس بات میں دم نہیں ہے۔یہ مسئلہ پہلے قانون کا نہیں ہے، شعور کا ہے۔قانون اور سسٹم خود شعور کی پیداوار ہیں۔شعور اچھا ہے تو قانون اچھا ہے۔شعور برا ہے تو قانون برا ہے۔قانون بہت اچھا ہوجائے، تو بھی وہ ذہن معنی رکھتا ہے جس نے قانون نافذ کرنا ہوتا ہے۔قانون اپنی ذات میں کوئی چیز نہیں ہے۔قانون شعور کی مدد سے نافذ ہوتا ہے۔ذات کا دائرہ کیا ہوتا ہے، دائرہ شروع کہاں سے ہوتا ہے، ختم کہاں ہوتا ہے،انکار کسے کہتے ہیں،اختیار کیا چیز ہے، رضامندی کیا ہوتی ہے، یہ سب قانون سکھا سکتا ہے؟ شاید نہیں۔
ایک بات اور بھی ہے۔قانون اور قانونی مزاج دو الگ چیزیں ہیں۔ہمارے پاس آئین موجود ہے، کمی صرف آئینی مزاج کی ہے۔یہ عام لوگوں کی بات نہیں ہے۔قانون ساز اداروں میں بیٹھے افراد بھی اس مزاج سے محروم ہیں۔آئین اور بیانیہ آمنے سامنے آجائیں تو ہم بیانیے کا ساتھ دیتے ہیں۔یہاں سزا بھی آئین کی خلاف ورزی پر نہیں ہے، بیانیوں کی خلاف ورزی پر ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ مجرم کو کٹہرے میں لانے کا قانون کیا ہے، لیکن کیا ہمارے شعور کو پولیس مقابلے پر کوئی تشویش بھی ہے؟ نہیں۔جب نہیں، تو اطمینان رکھنا چاہیے کہ ہمارے پیسے بھی کہیں نہ کہیں تیزاب کے کاروبار میں ہی لگے ہوئے ہیں۔