• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اللّٰہ کے فضل وکرم سے میرا چال چلن ٹھیک ہے۔ اڑوس پڑوس کے لوگوں کو کوئی شکایت نہیں ہے۔ وہ اپنی بہو بیٹیوں کو مجھ سے پردہ نہیں کرواتے۔ سب مجھے بابا کہتے ہیں۔ میں بھی خوش ہوں کہ بہو بیٹیاں مجھے بابا کہتی ہیں۔ مگر میرا ایک پرابلم ہے، جس نے دوسرے پرابلم سے جنم لیا ہے۔ اور ان چھوٹے موٹے پرابلموں کا باوا آدم ہے میرا بڑھاپا ۔ساٹھ، ستر، اسی، اور نوے کی دہائیوں کی چوکھٹ پار کرتے ہوئے میں کئی پرابلمز کا شکار ہوچکا ہوں ۔ مثلاً میں اکثر اپنا نام بھول بیٹھتا ہوں۔ ہمارے ہاں گاڑی چلانے کیلئے عمر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے ۔ اگر خیر سے آپ ایک سو برس کے ہوچکے ہیں، پھر بھی قانوناً آپ کو گاڑی چلانے کا لائسنس مل سکتا ہے۔ آپ کے گاڑی چلانے کی صلاحیت پر کوئی افسر انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ حتیٰ کہ جب تک آپ تیز رفتاری سے ٹینکر چلاتے ہوئے موٹر سائیکل سوار اور اس کی بیوی اور انکے تین ماہ کے ولی عہد کو کچل کر اللّٰہ سائیں کے ہاں روانہ نہ کردیں۔ تب تک جج صاحبان اور سرکاری وکیل صاحبان آپ کی عمر پر غور نہیں کرینگے۔ آپ ٹینکر چلاتے ہوئے پائے جائیں، آپ ریت اور بجری کے ٹرک چلاتے ہوئے دیکھے جائیں۔ آپ غلط پارکنگ کی وجہ سے لاری چلاتے ہوئے چالان کر دئیے جائیں، کوئی قانون نافذ کرنے والے ادارے کا کوئی ملازم آپ سے آپ کی عمر نہیں پوچھے گا۔ ببتا بتانے والے بتاتے ہیں کہ آپ کے اللّٰہ سائیں کو پیارے ہوجانے کے بعد برسوں آپ کے پوتے اور پڑ پوتے آپ کے ڈرائیونگ لائسنس پر گاڑی چلاسکتے ہیں۔

مگر میرا معاملہ کچھ اور نوعیت کا ہے۔یہ درست ہے کہ میں ہر نوعیت کی گاڑی چلا سکتا ہوں۔ سائیکل، موٹر سائیکل،کار، ویگن، ایمبولینس، ٹرک، لاری، لوڈر، ٹریکٹر،ٹینک وغیرہ چلانے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔ آج تک گاڑی چلاتے ہوئے میں نے خرگوش تک کو کبھی کچل کر موت کے گھاٹ نہیں اتارا ہے۔ میں تو چوہے تک کو راستہ کراس کرنے کیلئے گاڑی روک دیتا ہوں۔ چوہا مجھے دعائیں دیتے ہوئے راستہ پار کرکے نکل جاتا ہے۔

میرا معاملہ کچھ اور ہے۔ چلتے پھرتے میں اچانک گرپڑتا ہوں ۔کئی مرتبہ میں سڑکوں ، فٹ پاتھوں، گھر میں، باتھ روموں میں گرچکا ہوں۔ گلی کوچوں میں گرجانے کے بعد لوگ مجھے مرگی کا مریض سمجھ کر جوتی سنگھا کرہوش میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمدردوں کی اس نوعیت کی مہربانیاں مجھے اچھی نہیں لگتیں۔ ذہنی طور پر میں نے خود کو تیار کرلیا ہے کہ میں جب بھی گروں، ایسی جگہ گروں جہاں لوگ تھوڑے بہت پڑھے لکھے ہوں،گر جانے کے بعد وہ مجھے مرگی کا مریض سمجھ کر جوتی سنگھا کرہوش میں لانے کی کوشش نہ کریں۔ جوتی سنگھا کر ہوش میں لے آنیکی حکمت میں کوئی بڑی خرابی نہیں ہے۔ بس جوتی سونگھ کر ہوش میں آنے کی عادت سی پڑ جاتی ہے۔ جب آپ کیلے کے چھلکے سے پھسل کرگر پڑتے ہیں، تب آپ اس وقت تک اٹھ کر کھڑے ہونے کے جتن نہیں کرتے جب تک آپ کو گندی غلیظ جوتی سنگھائی نہ جائے۔جب تک گندی جوتی دستیاب ہو، آپ سڑک پر چاروں شانے چت پڑے رہتے ہیں۔

یہی میرے درد دل کی حکایت ہے۔ میں چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے اچانک گرپڑتا ہوں۔ میں لوگوں کو اتنی فرصت نہیں دیتا کہ وہ مجھے اپنی گندی غلیظ جوتی سنگھائیں۔ اس سے پہلے کہ وہ گندی جوتی مجھے سنگھانے کیلئے آئیں، میں کرتب دکھاتے ہوئے پھر سے اپنے پیروں پرکھڑا ہوجاتا ہوں۔

ایک مرتبہ میں اس قدر برے طریقے سے گر پڑا کہ اٹھنا بیٹھنا بھول بیٹھا۔ ایک بزرگ نے مجھے ہوش میں لاتے ہوئے ترنم سے گنگناتے ہوئے کہا۔’’ گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں۔ وہ طفل کیا گریں گے جو گھٹنوں کے بل چلیں‘‘۔

مجھے اچھا نہیں لگا۔ میں نے بزرگ دانشور سے کہا۔’’ میں نے گھوڑے پر سوار ہوکرکبھی سواری نہیں کی ہے۔ اور دوسری اہم بات کچھ اس طرح ہے کہ گر پڑنے سے پہلے میں میدان جنگ میں نہیں تھا۔ میری کسی سے کوئی جنگ نہیں تھی۔ مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ میں گر پڑا تھا۔ کیسے گر پڑا تھا؟ کیوں گر پڑا تھا، میں کچھ نہیں جانتا‘‘۔

کسی نے میری بات کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ بات کا بتنگڑ بنانے والوں نے مشہور کردیا کہ میں نوجوانی کے عالم میں ٹارزن کی تصویری کہانیاں پڑھا کرتا تھا۔ اسقدر انہماک سے کہانیاں پڑھا کرتا تھا کہ کچھ عرصہ بعد میں خود کو ٹارزن سمجھنے لگا تھا۔ خود کو طرم خان سمجھنے سے آپ طرم خان نہیں بن سکتے۔ خود کو ٹارزن سمجھنے سے میں ٹارزن تو نہیں بن سکا، البتہ ملک کی سیاسی ہستیوں سے میری گاڑی چھننے لگی۔ ایک سیاسی سپیرے سے میری یاری ہوگئی۔ سیاسی سپیرا کمال کا آدمی تھا۔ ہر روز اسکے ہاں کالے بکرے اور کالے ککڑ ذبح ہوتے تھے۔ وجہ کچھ بھی ہو، وہ کبھی ہارتا نہیں تھا۔ وہ بھی مجھے بڑا جنگجو سمجھتا تھا، وہ مجھے کالے بکرے اور کالے ککڑ، یعنی کالے مرغے ذبح کرنے کی سپاری دیا کرتا تھا۔ اس نے سیاسی یتیموں اور ناداروں کے لئے سیاسی کلاس کھول رکھی تھی۔

پچھلے ہفتہ کالم لکھ کرمیں گھر سے روانہ ہوا۔ راستہ میں، میں گرپڑا۔ڈاکٹروں کے ہاں میری مرہم پٹی ہونے لگی۔ عین اسی وقت سیاسی سپیرے کی جانب سے مجھے پھول، مٹھائی کی سوغات اور رقعہ ملا۔ سیاسی سپیرے نے لکھا تھا۔‘‘ گرتے ہیں شہسوارہی میدان جنگ میں‘‘۔

تازہ ترین